پاکستانتازہ ترین

ایوان صدرمیں سیاسی سیل نہیں ہوناچاہیے، چیف جسٹس

اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے اہم مقدمے میں موجودہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو فریق بنانے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت کے دوران بار بار کہا گیا کہ ایوان صدر سے احکامات آرہے تھے جنہیں ماننا پڑا، ایوان صدر میں بھی سیاسی سیل نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم پر اصغر خان کی پٹیشن کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر وزارت دفاع کے نمائندے کمانڈر شہباز نے آئی ایس آئی میں اب سیاسی سیل نہ ہونے سے متعلق سیکرٹری دفاع کا دستخط شدہ بیان پیش کیا۔ عدالت نے ان سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل موجود تھا جس پر انہوں نے بتایا کہ غالباً پہلے ایسا کوئی سیل تھا لیکن اس کا نوٹی فکیشن نہیں مل سکا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت کے دوران بار بار کہا گیا کہ ایوان صدر سے کمانڈ آ رہی تھی جسے ماننا پڑا، الیکشن خراب کرنے اور ایک پارٹی کو جتوانے کے لیے ایوان صدر میں سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آئینی سربراہ کی حیثیت سے صدر ایسی سرگرمیاں کیسے کر سکتا ہے،ایوان صدر میں ایسا کوئی سیل نہیں ہونا چاہیے۔ جسٹس خلجی عارف کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ صدر کو سیاسی سرگرمیوں میں کیوں ملوث نہیں ہونا چاہیے، اس کا جواب یہ ہے کہ صدر اتحاد کی علامت اور فوج کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے، صدر سیاسی سیل بناتا ہے تو آرمی چیف آفس سمیت دیگر ماتحت اداروں کی پوزیشن متاثر ہوتی ہے۔ اس دوران اصغر خان کے وکیل سلمان راجا نے مقدمے میں موجودہ صدر مملکت کو پرنسپل سیکرٹری یا سیکرٹری انچارج کے ذریعے فریق بنانے کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے صدر مملکت کو مقدمہ میں فریق بنانے کی اجازت دے دی۔ کیس کی مزید سماعت 15اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں  وزارت پٹرولیم اور ڈاکٹر عاصم مافیا بنے ہوئے ہیں، جمشید دستی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker