پاکستانتازہ ترین

ججز پنشن کیس، سپریم کورٹ کے تین سینئر وکلاء عدالتی معاون مقرر

supreem courtاسلام آباد(بیورو رپورٹ)سپریم کورٹ نے ججز کی پنشن کے حوالے سے مقدمے کی سماعت اٹھارہ فروری تک ملتوی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے تین سینئر وکلاء کو عدالتی معاون مقرر کردیا ہے جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالتی معاو نین کو تمام ریکارڈ مہیا کرے اور فارغ ہونے و الے یا ریٹائر ہونے والے ججز چاہیے تو اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرواسکتے ہیں ۔ منگل کے روز جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی بینچ نے ججز کی پنشن کے حوالے سے رجسٹرار آفس کے نوٹ پر مقدمے کی سماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اس کیس کو ہم ایک دن میں نہیں سنیں گے اس میں آئین کی تشریح کرنا ہے اس لئے ہم عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں بعد ازاں عدالت نے مخدوم علی خان ، سلیمان اکرم راجہ اور خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کردیا اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ ان معاونین کو تمام ریکارڈ فراہم کیاجائے تاکہ وہ عدالت کی بہتر طور پر معاونت کرسکیں ۔ واضح رہے کہ 2008ء میں جسٹس نواز عباسی نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک دن کا جج بھی جج تصور ہوتا ہے اس لئے اس کو مراعات بھی وہی ملتی ہیں جو کسی دوسرے جج کو جبکہ سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ مراعات اور پنشن کا حقدار صرف وہی شخص ہوگا جس نے اپنی پانچ سال کی آئینی مدت پوری کی ہو اس تضاد پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کو ایک نوٹ لکھا جس پر اس سقم کو دور کرنے کیلئے چیف جسٹس نے پانچ رکنی خصوصی بینچ قائم کیا ہے ۔ انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بینچ نے ابتدائی سماعت کرتے ہوئے کیس اٹھارہ فروری تک ملتوی کردیا ۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم سزا یافتہ ہیں، اپیل میں جانا چاہیے تھا، چیف جسٹس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker