پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ نےصدرکوخط لکھنے پر نیب چیئرمین کوتوہین عدالت کانوٹس جاری کردیا

supreem courtسلام آباد (بیورو رپورٹ)سپریم کورٹ نے صدر کو خط لکھنے پر قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین ایڈمرل (ر)فصیح بخاری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ سول و فوجی حکام اس خط کو جواز بنا کر آئین کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گریز کریں کوئی ایسا نظام نہ لایا جائے جو آئین کے خلاف ہو۔عدالت کسی غیر آئینی اقدام کو قانونی حیثیت نہیں دے گی جبکہ عدالت نے چیئرمین نیب کو 4 فروری کو ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے نوٹس دیا ہے کہ کیا اس خط کے لکھنے پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہ کی جائے ؟چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کو رینٹل پاور عملدرآمد کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالتی حکم پر وہ خط پڑھ کر سنایا جو چیئرمین نیب نے صدر کو لکھا ہے۔اس موقع پر جب کے کے آغا نے پری پول دھاندلی کے بارے میں فقرے پڑھے تو چیف جسٹس ہنس پڑے اور انہوں نے کہا کہ یہ دوبارہ پڑھیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی رائے میں ایسا خط کیوں لکھا گیا جس پر کے کے آغا نے کہا کہ وہ بطور وکیل کوئی رائے نہیں دے سکتے کہ چیئرمین نیب کیوں اس حد تک گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس کئی مقدمات زیر سماعت ہیں اور اس مقدمے میں بھی بڑی رقم واپس آئی ہے۔ہم کسی کو خط کو بنیاد بنا کر انتخابی عمل روکنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔خط کے مندرجات ناقابل یقین ہیں اور لگتا ہے کہ چیئرمین نیب مایوس ہو چکے ہیں۔حکم میں کہاگیا کہ ہم 1973 کے آئین کی مکمل حفاظت کریں گے ۔موجودہ عدلیہ پر عوام کا مکمل اعتماد ہے اور ہم عدالت کی عزت اور وقار کو ٹھیس نہیں پہنچنے دیں گے ۔کسی بھی صورت انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے ۔سینیٹر میاں رضا ربانی سمیت کئی سیاست دان اس حوالے سے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں ۔عدالت کسی غیر آئینی اقدام کو قانون حیثیت نہیں دے گی اور عدالت کو امید ہے کہ انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی ۔عدالت نے اپنے حکم نے کہا کہ چیئرمین نیب کا خط عدلیہ کے کام میں مداخلت اور روڑے اٹکانے کے مترادف ہے ۔انہوں نے عدالتی کارروائی کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی اگر اس نوٹس نہ لیا گیا توعوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ جائیگا۔چیئرمین نیب نے اس خط میں غیر آئینی قوتوں کی جانب سے نظام کو لپیٹنے کی کوشش کی ہے ۔اگر کوئی غیر آئینی اقدام کیا گیا تو یہ آئین سے انحراف ہوگا۔عدالت نے چیئرمین نیب کو ذاتی طور پر چار فروری کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد:پیپلزپارٹی نے فضل الرحمن سے مولانا عبد الغفور حیدر ی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنانے سے معذرت کر لی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker