پاکستانتازہ ترین

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو چودہ دسمبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی

supreem courtاسلام آباد(بیورو رپورٹ)پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو چودہ دسمبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان آج (بدھ کو ) سپریم کورٹ میں جواب جمع کرائیں گے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے مرضی کی تاریخ نہیں ملے گی، اگر بلدیاتی انتخابات نہیں کرانے تو بتادیں۔ان سے اچھی تو مارشل لاء حکومتیں تھیں، ضیاء الحق اور پرویز مشرف دونوں نے اپنے دور حکومت میں بلدیاتی انتخابات کرائے۔وہ منگل کو یہاں تین رکنی بنچ کے ہمراہ بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت کر رہے تھے۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مصطفی رمدے نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات چودہ دسمبر تک کرا دیئے جائیں گے۔ عدالت نے حکم دیا کہ یقین دہانی تحریری طور پر پیش کی جائے جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے بھی بدھ کو حتمی تاریخ تحریری طور پر طلب کی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات نومبر کے آخری ہفتے تک مکمل کرلئے جائیں گے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے مرضی کی تاریخ نہیں ملے گی، جائیں جاکر انتخابات کرائیں اور اگر بلدیاتی انتخابات نہیں کرانے تو بتادیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے اچھی تو مارشل لاء کی حکومتیں تھیں، ضیاء الحق اور پرویز مشرف دونوں نے اپنے دور حکومت میں بلدیاتی انتخابات کرائے، اب سیاسی حکومتیں ہیں، جمہوریت ہے پھر بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جاتے، اگلے ہفتے تک انتخابات کرائیں اور اگر انتخابات نہیں کرانے تو صاف کہہ دیا جائے کہ بلدیاتی انتخابات نہیں کرانے اور آئین پر عمل نہیں کرنا تو ہم حکم جاری کردیں گے۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ صوبہ پنجاب اور سندھ میں تو پرانی حکومتیں ہی ہیں مگر بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی وجہ نہیں بتائی جارہی، عدلیہ نے سیاسی حکومت کی پوری حمایت کی اور ہمیشہ چاہا کہ سیاسی حکومت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا تصور مذاق نہیں، اس سے ملک خوشحال ہوگا اور عوام کو ان کے حقوق بہتر طریقے سے ملیں گے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ مارشل لاء حکومتوں کے اثرات سے عدلیہ نہیں سیاسی حکومتیں متاثر ہوتی ہیں، 1958، 1977 اور 1999 کے مارشل لاء کاا ثر عدلیہ پر نہیں پڑا بلکہ عدلیہ نے تو ان کی توثیق کی تاہم تینوں مارشل لاء ناکام رہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ پنجاب حکومت صوبے میں 14 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کرائے گی اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں پیچیدگیاں ہیں اس لئے نومبر کے آخری ہفتے میں انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button