پاکستانتازہ ترین

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کا چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع

supreem courtاسلام آباد(بیورو رپورٹ)بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی پڑنواسی نے اپنی بہن کے خلاف دادرسی اور ان سے جائیداد کا حصہ وصول کرنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کرلیا ہے،عاصمہ مجد دلین مہدی نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو درخواست دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس جسٹس سید جعفر امام کی پڑنواسی ہوں،ہمارے والدین پچپن میں انتقال کرگئے تھے اور ہماری پرورش ہماری نانی محترمہ انیس فاطمہ مجید خان نے کی جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے،وہ اسینا فاؤنڈیشن لاہور کی بانی تھیں اور لاہور،اسلام آباد اور لندن میں وسیع جائیداد رکھتی تھیں،جس کی وارث ہم دو بہنیں محترمہ نتالیہ قزلباش اور میں ہوں،میری مجبوری یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہوں،کم عمری میں یتیمی کے بعدمیرا دائرہ کار بڑا محدود ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ میری نانی محترمہ بیگم انیس مجید خان ان کے شوہر گروپ کیپٹن مجید خان اور میرے والد محترم لیفٹیننٹ کرنل مرحوم جعفر حسین ہمایوں قزلباش اور میری والدہ طاہرہ نذیراں قزلباش کی جائیداد کے علاوہ کہاں کہاں اکاؤنٹس ہیں،مجھے اس کا کچھ علم نہیں،میری نانی سے دوری کی وجہ سے ان تمام باتوں کا علم میری بہن نتالیہ قزلباش220جے فیز ون ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی ڈی ایچ اے لاہور اور ان کے شوہر آغامنصور علی خان قزلباش کو ہے،میری معلومات کے مطابق میری نانی محترمہ کے مطابق24سی گلبرگ2لاہور،سکول اسینا فاؤنڈیشن24سی گلبرگ 2لاہور،لندن میں فلیٹ108کورڈ رینگل ٹاور کیمبرج سکویر لندنw.2,2plانگلینڈ،23اے ایل بلاک گلبرگ3لاہور،میری والدہ طاہرہ نزیراں قزلباش کے نام نواب ٹاؤن میں دس مرلے کا کمرشل پلاٹ ہے،والد کا مکان ڈیفنس ہاؤِسنگ سوسائٹی میں ہے775 ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے علاوہ البرقہ بینک میں ایک سکول کے نام پراور دوسرا پرسنل اکاؤنٹ ہے،لاکر ہے،یوبی ایل میں سکول کے نام پر اکاؤنٹ ہیٹلائریڈ اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک لندن میں اکاؤنٹ ہے،جن کی تفصیلات میری بہن نتالیہ قزلباش کو معلوم ہیں،اس کے علاوہ میری نانی کروڑوں روپے کی جیولری اور نوادرات چھوڑے ہیں،میری نانی کا برٹش پاسپورٹ نمبر070694987ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق میری جائیداد تین سو کروڑ کی ہے اور اتنے ہی قیمتی زیورات اور جواہرات ہیں،ابھی مجھے معلوم ہوا ہے کہ میری بہن یہ تمام جائیداد اپنے ہاتھ میں لے کر فروخت کرنا چاہتی ہے،وہ لندن جارہی ہے تاکہ وہاں کی جائیداد اور اکاؤنٹس کو بھی اپنے قبضہ میں لے سکے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انتظامیہ اور ریونیو آفیسرز سے کہا جائے کہ اس تمام جائیداد کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کریں،24سی گلبرگ ٹو کے مدرسے اور سکول کی رجسٹرارآفس میں میری بہن نے اپنے نام وصیت رجسٹر کروا رکھی ہے اور اسی طرح ایل بلاک کے مکان کی وصیت ایل ڈی اے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں کرائی گئی ہے یہ یکطرفہ وصیتیں ان کی بیماری کی حالت میں کرائی گئی ہیں،جبکہ وہ بیمار ولاچار تھیں،میری ہمشیرہ اتنی بڑی جائیداد میں مجھے کوئی حصہ نہیں دینا چاہتیں،جو قانونی اورشرعی طور پر جائز نہیں ہے،سٹیٹ بینک سے کہا جائے کہ جائیداد کے تصفیے تک تمام بینکوں کے حسابات منجمد کرائے جائیں،پاکستان ہائی کمیشن لندن سے کہا جائے کہ لندن کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کئے جائیں،لاہورانتظامیہ ایک ٹیم مختص کرے جو میری بہن سے میری نانی،میرے والد ،میری والدہ اور میرے نانا کی تمام جائیداد اور حسابات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرے،میں عدالت عالیہ کی شکرگزار ہوں گی کہ میرے حق اور میری جائیداد کے حصول میں میری سرپرستی فرمائی جائے یہ میرے بچوں کا حق اور مجھے ملنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارتی حکومت کا آسامیوں کو اپنا شہری ماننے سے انکار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker