پاکستانتازہ ترین

این آئی سی ایل کرپشن کیس: چوہدری شجاعت کو سپریم کورٹ کا نوٹس

اسلام آباد (بیوروچیف)  سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کرپشن کیس میں عدلیہ کے خلاف اشتہاری مہم چلانے کے الزام میں چوہدری شجاعت حسین کو نوٹس جاری کر دیا۔  تفتیشی افسر ظفر قریشی کی سیاسی وجوہ پر معطلی کے الزام میں وزیر داخلہ رحمان ملک کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔  چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو، سیکرٹری تجارت ظفر محمود نے بتایا کہ این آئی سی ایل کے برطرف چیئرمین ایاز خان نیازی سے تنخواہ اور مراعات کے پیسے وصول کرنے کے لئے وزیراعظم کو سمری بھجوا دی ہے۔  وفاقی وزیر تجارت امین فہیم کے وکیل علی ظفر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کے مؤکل پوری طرح بے گناہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے بے گناہ ہونے یا نہ ہونے کا تعین تحقیقاتی ادارے کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی معظم جاہ نے کہا کہ ابھی کسی کو بے گناہ قرار نہیں دیا، ملزمان میں سے ایک کے ساتھ امین فہیم کے لین دین کی تحقیقات جاری ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ غلط تقرری وزیراعظم نے بھی کی ہو تو ان پر ذمہ داری عائد ہوگی۔ سپریم کورٹ کی بدولت اڑھائی ارب کی ریکوری ہو چکی، چیک واپس نہ ہوتے تو یہ رقم اور زیادہ ہو سکتی تھی۔ کیس کے سابق تحقیقاتی افسر ظفر قریشی نے کہا کہ مونس الہی سے بتیس کروڑ روپے اور حبیب اللہ وڑائچ سے دس کروڑ روپے وصول کرنے ہیں۔ تحقیقات کے دوران وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں نے مونس الہی کو بچانے کی کوشش کی، ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جان کو خطرہ ہے لہذا تحفظ فراہم کیا جائے۔  عدالت نے ظفر قریشی کی سیاسی وجوہ پر معطلی کے الزام میں مشیر داخلہ رحمن ملک کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے جسٹس ربانی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں، عدلیہ مخالف مہم چلانے کے الزام میں شجاعت حسین کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ کیس کی مزید سماعت 22 جون کو ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں  مریم نوازآج بہاولپور کا دورہ کرینگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker