پاکستانتازہ ترین

پاناما جے آئی ٹی کیس : سپریم کورٹ حکومتی اداروں اور نمائندوں پر برہم

اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل) پاناما جے آئی ٹی کو دھمکیوں اور مشکلات کے معاملے پر سپریم کورٹ انٹیلی بیورو پر برہم کا اظہار کردیا، ڈی جی ایف آئی اے کو ریکارڈ ٹیمپرنگ معاملہ دیکھنے کا حکم دے دیا، متعلقہ افراد کیخلاف کارروائی رپورٹ بھی طلب کرلی گئی، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو کام سے کام رکھنے کی ہدایت بھی کردی گئی۔عدالت عظمٰی کے پانامہ کیس عملدرآمد بینچ میں دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ پبلک آفس ہولڈرز عدلیہ پر حملہ آور ہورہے ہیں، میڈیا اور حکومتی نمائندے منظم مہم چلارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے سوالات پوچھنے کا وقت آگیا، بتانا ہوگا کہ آئی بی کا کام اور مینڈیٹ کیا ہے، کیا آئی بی ہمارا ڈیٹا بھی اکھٹا کرتی ہے؟، کیسے مان لوں ہماری مانٹرینگ نہیں ہوتی، کیا وائٹ کالر کرائم ختم ہوگئے جو آئی بی ان کاموں میں پڑگئی۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایسے افراد کیخلاف فوجداری مقدمہ درج ہونا چاہئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جے آئی ٹی مقرر کی تھی کوئی بھرتیاں نہیں کی تھیں، آئی بی کو ناک پھنسانے کا اختیار کس قانون کے تحت ملا۔۔۔؟ عدالت نے ڈی جی آئی بی کیخلاف حکم جاری کرنے سے پہلے اٹارنی جنرل سے معاونت مانگ لی، اٹارنی جنرل نے آئی بی اور ایس ای سی پی پر جے آئی ٹی کے الزامات مسترد کئے تو جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل کی سرزنش کردی، کہا آپ وفاق کے نمائندے ہیں، وزیراعظم کے نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی میڈیا سمیت کسی کی باتوں پر کان نہ دھرے اور ساری توجہ کام پر رکھے۔ مزید سماعت منگل کو ہوگی، جے آئی ٹی ارکان کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  اوکا ڑہ:مسلم سٹو ڈنٹس فیڈریشن نے ضلع بھر میں بلد یاتی الیکشن لڑنے کااعلان کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker