پاکستانتازہ ترین

رینٹل پاورکیس:راجہ پرویزاشرف،30افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد ﴿بیورورپورٹ﴾ قومی احتساب بیورو﴿نیب﴾ نے  رینٹل  پاور کیس  میں سپریم  کورٹ  کی  ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر پانی وبجلی اور موجودہ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ پرویز اشرف سمیت چار سابق وزرائ اور نیپرا،پیپکو اور پی پی آئی بی کے 26 سابق سربراہوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے ہیں،نیب کے اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آن لائن کو بتایا کہ نیب نے اپنے طریقہ کارسے ہٹ کر عدالت عظمی کے حکم پر ان افراد کے وارنٹ جاری کئے ہیںتاکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے،ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کسی بھی سکینڈل کی تحقیقات کیلئے اپنے بنائے گئے قواعد وضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرتا ہے اور سکینڈل میں ملوث افراد کی گرفتاری کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،تاہم رینٹل پاور پراجیکٹ کیس میں نیب عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی کرنے کا پابند ہے اور اس کیس میں نیب نے سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف چارج شیٹ بنائے بغیر ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں،عدالت عظمیٰ کے تحریری فیصلے کے تحت نیب اپنے بنائے گئے قواعد وضوابط سے ہٹ کر سکینڈل میں ملوث33افراد کی گرفتاری کیلئے وارنٹ جاری کئے ہیں،تاکہ ان تمام افراد کو جلد از جلد گرفتار کرکے تحقیقات کا آغاز کیا جاسکے،ذرائع نے بتایا کہ نیب نے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ پرویز اشرف جو اس وقت پانی وبجلی کے وفاقی وزیر تھے کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کئے،اس کے علاوہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے وارنٹ بھی جاری کئے گئے ہیں جنہوں نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی﴿ای سی سی﴾ کے چیئرمین کی حیثیت سے ان منصوبوں کی منظوری دی تھی،ان افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیںان میں تین سابق وفاقی وزرائ پر وفاقی وزیر کی حیثیت سے ملکی مفادات کے تحفظ میں ناکامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے ریاست کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے ان میں سابق وفاقی وزیر پانی وبجلی لیاقت علی خان جتوئی،سابق نگران وزیر طارق حمید اور سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف شامل ہیں جبکہ چوتھے سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین پر وزیرخزانہ کی حیثیت سے آر پی پیز سے تعاون کے ذریعے غیر قانونی مالیاتی فوائد حاصل کرنے اور قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔دیگر افراد میں پیپکو کے سابق سی ای او چوہدری محمد انور خالد،فضل احمد خان،محمد سلیم عارف،سابق ایم ڈی پیپکو منور بصیر احمد،طاہر بشارت چیمہ،خالد عرفان رحمان،پی پی آئی بی کے ایم ڈی فیاض الٰہی،نیپرا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید الظفر،خالد سعید،جینکو کے سی ای او یوسف علی، سابق وفاقی سیکرٹری پانی وبجلی اشفاق محمود،محمد اسماعیل قریشی،شاہد رفیع،سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق،سی ای او پیپکو ایڈیشنل چارج محمد انور خالد،سی ای او پیپکو فضل احمد خان،سی ای او پیپکو ﴿ایڈیشنل چارج﴾محمد سلیم عارف،ایم ڈی پی پی آئی بی ایڈیشنل چارج اور ایڈیشنل سیکرٹری پانی وبجلی محمد یوسف میمن،این پی جی سی ایل کے چیف ایگزیکٹو افسر میسرز ٹیکنو ای پاور سمندری اور سہووال سیالکوٹ محمدانور خان،این پی جی سی ایل اور سی ای اور میسرز ینگ جن ستیانہ روڈ فیصل آباد اور میسرز پاکستان پاور ریسورسز پیراںغائب ملتان محمد رفیق بٹ،این پی جی سی ایل اور سی ای او میسرز کارکے کارو ڈینیز ترکش شپ کراچی محمد جمیل آرائیں،این پی جی سی ایل اور سی ای او میسرز گلف رینٹل ایمن آباد غلام مصفطیٰ تنیوں،سی پی جی سی ایل اور سی ای او والٹرز پاور انٹرنیشنل نوڈیرو ون لاڑکانہ طارق نذیر،سی ای او میسرزآسٹم پاور رینٹل بھکی ضلع شیخوپورہ اور میسرز جنرل الیکٹرک پاور شرقپور شیخوپورہ گلزار محمد سمیت عابد علی سی ای میسرز ٹیکنو ای پاور سمندری روڈ فیصل آباد اور ٹیکنو ای پاور سووال سیالکوٹ،حبیب اللہ خان سی ای میسرز ینگ جن ستیانہ روڈ فیصل آباد،اقبال زیڈ احمد ایگزیکٹو ممبر پرنسپل افسر میسرز پاکستان پاور ریسورس گدو کشمور ،سی ای میسرز آلسٹم پاورز رینٹل بھکی ضلع شیخوپورہ پر اے پی آر انرجی ایل ایل سی فلوریڈا امریکہ اور سی ای میسرز پاکستان پاور ریسورس پیراں غائب ملتان،اورہان رمزی کاراڈینیز چیئرمین میسرز کارکے کاراڈینیز ترکش شپ کراچی﴿ترک شہری﴾، حسیب احمد خان سی ای او میسرز گلف رینٹل ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ،شاہ فیصل سی ای او میسرز ریشماں پاور رائیونڈ روڈ لاہور،محمد نصر اللہ بیگ پرنسپل افسر میسرز والٹرز پاور انٹرنیشنل نوڈیرو ون لاڑکانہ اور میسر والٹرز پاور انٹرنیشنل نوڈیرو ٹو لاڑکانہ،نعیم شفیق جی ای انٹرنیشنل امریکہ کی طرف سے کنٹری منیجر میسرزجنرل الیکٹرک پاور شرقپور شیخوپورہ،جن اداروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں ان میں 12رینٹل پاور منصوبے شامل ہیں جن میں ٹینکو ای پاور سمندری روڈ فیصل آباد،ینگ جن ستیانہ روڈ فیصل آباد،ٹیکنو ای پاور ساہووال سیالکوٹ،گلف رینٹل ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ،ریشماں پاور رائیونڈ روڈ لاہور،میسرز آسٹم بھکی ضلع شیخوپورہ،میسرز جنرل الیکٹرک پاور شرقپور ضلع شیخوپورہ،پاکستان پاور ریسورسز پیراں غائب ملتان،پاکستان پاور ریسورسز گدو ضلع کشمور،کارکے کاروڈینیز ترکش شپ کراچی، والٹرز پاور انٹرنیشنل نوڈیرو ون لاڑکانہ اور والٹرز پاورز ا
نٹرنیشنل نوڈیرو ٹو لاڑکانہ شامل ہیں،اہلکار کے مطابق نیب نے عدالت میں تجویز پیش کی ہے کہ ان رینٹل پاور منصوبوں سے نئے سمجھوتوںکی اجازت دی جائے جو بہتر انداز میں چل رہے ہیں اور بجلی کی پیداوار شروع کردی ہے،اہلکار نے کہا کہ اس تجویز کا مقصد آر پی پیز کی طرف سے ملک میں لگائی گئی مشینری سے ملک کے بہترین مفاد میں فائدہ اٹھانا ہے،اہلکار کی رائے تھی کہ صاف ستھرے منصوبوں سے نئے سمجھوتوں پر عدالت کی اجازت سے دستخط کی صورت میں ملک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کرنے میں مدد ملے گی

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد:’’زبردستی مذہب کی تبدیلی‘‘ کے حوالے سے سیمینار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker