تازہ ترینکالم

سیا سی بصیرت یا گیدڑ سنگھی؟؟؟

hassanبالآخر مسلم لیگ نواز کے نامز د کردہ امیدوار ممنون حسین نے بائیکاٹ، تحفظات، دھاندلی، ملی بھگت اور اسی طرح کی دیگر آوازوں کا سینہ چیرتے ہوئے432 الیکٹورل ووٹ حاصل کرتے ہوئے کرسی صدارت اپنے نام لکھوا لی اور چند ہی دنوں میں وہ حلف اٹھا کر منصب صدارت پر فائز ہو جائیں گے۔ جبکہ ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین حسب توقع 77 ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ ۔ قیاس آرائیاں تو ازل سے ہوتی ہی آئی ہیں اور ہوتی ہی رہیں گی مگر یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ شریف برادران کے شریف و بے ضرر ممنون حسین ملک کے بارہویں ہیوی مینڈیٹ صدر منتخب ہوچکے ہیں۔کوئی کچھ بھی کہے اب تو وہ صدر ہیں اور پانچ سال تک رہیں گے۔ لیکن اگر حالیہ صدارتی انتخاب میں ہونے والے سب سے بڑے بریک تھرو کی بات کی جائے تو آئندہ چند روز میں نہ صرف میڈیا،اپوزیشن و سیاسی جماعتوں اور خود حکومتی جماعت کے اند ربھی جو بات موضوع بحث بنی رہے گی وہ ہے پاکستان مسلم لیگ ن کا متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ سیاسی الحاق۔ MQMلاکھ کہے اور PML Nاس کی لاکھ تائید کرے کہ صدارتی انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے نواز لیگ کے امیدوار کی حمایت غیر مشروط ہے مگر اہل دانش اس بات کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔آئندہ وقت میں اس غیر مشروط حمائت کے پیچھے لی حقیقت پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات توبہرحال حکمران جماعت کو ہی ینے ہیں ۔
متحدہ قومی مومنٹ کی اگر بات کریں تو انکا ن لیگ کے ساتھ اتحاد کو ئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ اس بات سے تو سب ہی باخبر ہیں کہ متحدہ ہمیشہ سے حکومت کا ہی حصہ رہی ہے لیکن پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی تعلقات پر نظردوڑائیں تو دونوں جماعتیں،اپنی سیاسی، سماجی اور معاشرتی مزاج ،نظریات،تصورات اور بصیرت میںیکسر مختلف ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ کا یہ بیان کہ میں یہ پسند کرلوں گا کہ ہمارا سیاسی وجود ختم ہو جائے بجائے اسکے کہ متحدہ کے ساتھ اتحاد کیا جائے ایسے میں یہ اتحاد کس قیمت پرہوا ایک سوالیہ نشان ہے ۔میاں نواز شریف نے الیکشن سے چند روز قبل ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد اس وقت ڈالی گئی جب ایم کیو ایم نے سیاست میں قدم رکھا، اس سے پہلے کبھی پاکستان میں دہشت گردی والی سیاست نہ تھی اور کراچی کا امن اس وقت خراب ہوا جب کراچی میں ایم کیو ایم کا وجود ہوا۔کون کونسے الزامات ہیں جوکہ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر نہیں لگائے،حتی کہ صدارتی انتخابات سے چند روز قبل تک دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگریہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ایم کیو ایم کے پاس وہ کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ حکمران جماعت کے نمائندوں کو خود چل کر نائن زیرو جانا پڑا۔اپنے صدارتی امیدوار کے لئے ووٹ مانگنا سب کی توقعات کے برخلاف نکلا یہاں تک کہ خود مسلم لیگ ن کے جماعتی و حمائتی پریشان ہو گئے کہ آخر اتنے بڑے فیصلے پر مشاورت کیوں نہ کی گئی؟ایسی کونسی مجبوری تھی کہ متحدہ سے الحاق کرنا پڑا؟ اگر مقصد کراچی کے اندر امن کا قیام ہے متحدہ کے وجود میں آنے سے لیکر سابقہ حکومت تک،وہ حکومت میں ہی تو رہی ہے ( اور شائد اب پھر حکومت میں بیٹھنے جا رہی ہے )پھر کیوں قائم نہیں ہو پایا امن؟ اسکے علاوہ خود ن لیگ کے سندھ میں رہنما اور انکے اتحادی ن لیگ کے اس فیصلے پر پریشان نظر آرہے ہیں ۔ممتاز بھٹو جنہوں نے اپنی پارٹی مسلم لیگ ن میں ضم کر دی تھی ، وہ خاصے ناخوش ہیں، عبد القادر بلوچ جنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو انکے ایسے ہی طرز عمل کی بنا چھوڑا تھا اور 11مئی کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ(ن )میں شمولیت اختیار کی تھی وہ بھی اپنی اعلی قیادت کے نائن زیرو آکر متحدہ سے اتحاد کرنے کو سمجھ سے بالا تر قرار دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سند ھ میں صدر غوث علی شاہ نے پارٹی کے فیصلے کو قبول تو کر لیا مگر ساتھ ہی مشاورت نہ کرنے کا شکوہ بھی کر ڈالا۔فنکشنل لیگ کے چےئرمین پیر پگاڑا نے ن لیگ کے وفد کیساتھ ملاقات کرنے سے معذرت کرلی اور اب وہ کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سیاسی لوگ اس اتحاد سے خوش نہیں ہیں۔دوسری جانب اگر عوام کی بات کریں تو میاں صاحب کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نہیں اب پوری قوم کے منتخب وزیر اعظم ہیں، ن لیگ کو اس بات کا بھی اہتمام کرنا چاہیے تھا کہ وہ اس اتحاد اور قربتوں کے لمحات سے پہلے عوام سے بھی رائے لے لیتے ، بہتر تھا کہ جس طرح متحدہ نے، پیپلز پارٹی کی دعوت پر اپنے کارکنو ں سے رائے لینے کی بات کی اسی طرح آپ بھی ایک عوامی ریفرنڈم کروا لیتے۔ انکی رائے بھی جانتے، اپنے کارکنوں سے بھی پوچھتے ، قوم کو ان نکات پر متفق کرنے کی کوشش کرتے کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔ تقریبا دو دہائیاں ن لیگ نے اپنے ووٹرز اور سپوٹرز کا ذہن بنا یا کہ متحدہ ایک دہشت گرد جماعت ہے اور کراچی میں امن و امان نہ ہونے میں انکا ہی ہاتھ ہے اور اب انہی کے ساتھ امن بھی قائم ہونے جا رہا ہے۔ جس طرح آپ نے 90کی دہائی میں کراچی میں آپریشن کیا ، اس میں متحدہ کے کارکنوں کے دلوں میں آپ کے لئے نفرت ہے اور آج بھی کونوں کھدروں سے اس آپریشن کی دہائی دی جاتی ہے۔ خاص طور پر 17اکتوبر 1998حکیم محمد سعید کی شہادت کے بعد سے وزیر اعلی سندھ لیاقت علی جتوئی کو معطل کر کے گورنر راج لگایا۔ آپ اپنے ووٹرز کو کس طرح اس بات پر قائل کریں گے کہ 12مئی 2007 کراچی میں سرِ عام قتل و غارت گری متحدہ نے نہیں کی، جبکہ ن لیگ نے سب سے زیادہ شور مچایا تھا کہ یہ سب متحدہ کا کیا دھرا ہے۔میاں صاحب جناب کا کہنا تو آپکے ووٹرز کے لئے پتھر پر لکیر ہے۔ پھر جولائی 2007کی اس آل پارٹیز کانفرنس جسکی صدارت آپ نے خود کی میاں صاحب، اور باقاعدہ متفقہ طور پر قرار پایا تھا کہ متحدہ سے کسی قسم کا سیاسی یا کوئی بھی اتحاد نہیں کیا جائے گا۔عمران خان کی متحدہ قومی موومنٹ سے ملا قات پر سب سے زیادہ وا ویلامسلم لیگ(ن)نے مچایا۔اور اب متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ن کی قیادت سب کچھ بھول کر نئے سیاسی سفر کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پرنہ صرف تحریک انصاف کے ہمدردوں نے بلکہ مسلم لیگی ورکروں نے بھی اپنی تمام تر توپوں کا رخ دونوں جماعتوں کی طرف کردیا ہے جس میں دونوں کو ماضی کی یاد دلائی جا رہی ہے۔اس اتحاد کے بعدسوشل میڈیا کو ایک بار دیکھنے سے ن لیگ کو اندازہ ہو گا کہ کیسے اور کہاں کہاں سے ان بھولی بسری یادوں ، تصویروں اور حقائق کو دوبارہ سے زندہ کیا جا رہا ہے، جو ماضی کے تاریک گوشوں میں دفن ہو چکے تھے۔دوسری جانب عام عوام، دانشوروں اور میڈیا کا ذہن اس طرف جا رہا ہے کہ ا یم کیو ایم کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب رہی ہے۔ اس نے انتخابات کے بعد خاموشی اختیارکئے رکھی اور صدارتی انتخاب کا انتظار کیا جب اس کی اہمیت میں اضافہ ہونا تھا اور وہ آخر حکومت کی ضرورت بن گئی۔ سندھ کی گورنر شپ ہو یا قیادت کو بحران سے نکالنا، بازی دوبارہ اس کے ہاتھ
میں آجائیگی۔اسی طرح جب مسلم لیگ ن نے متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ، تو ساتھ ہی ایم کیو ایم نے پہلے کراچی میں امن کی بحالی کا مطالبہ کر دیا اور ا س طرح ن لیگ کے اس مؤ قف کی بھی تر دید ہو گئی کہ کراچی کے اندر بد امنی کی وجہ ایم کیو ایم ہے۔ دوسری جانب اس اتحاد سے یہ سوچ بھی عوام سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ جیسے ہی باقاعدہ طور پر متحدہ قومی مومنٹ وفاقی حکومت میں نوکری لگ جاتی ہے تو ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی درخواست پر سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت پر ریفرنڈم کے نتائج بھی پبلک کردیے جائیں گے، جس کے مطابق بھر پور عوامی دباؤ کے پیشِ نظر سند ھ کے وسیع ترمفاد اور امن و امان کو نافذالعمل کرنے کے لیے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی اتحاد ہو جائے گا اور یوں سند ھ میں بھی حکومت میں آ جائے گی۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس تمام تر اتحاد کے خوشگوار سیاسی اثرات اگر عام عوام تک نہ پہنچے اور حالات پہلے ہی کی طرح خراب بلکہ خراب تر ہی رہے تو ن لیگ پچھلی جمہوری حکومت کی طرح زیادہ عرصہ تک ٹائم گین نہیں کر سکے گی ۔ کیونکہ موجودہ ملکی مسائل و صورتحال میں لوگ’’ نکو نک‘‘ ہو چکے ہیں اور سیاسی شعور کا مظاہر ہ وہ 11مئی کے انتخابات میں پہلے ہی کر چکے ہیں۔دوسری جانب سابقہ حکمرانوں کے پاس ووٹوں کے اعتبار سے دوسری بڑی پارٹی یعنی کہ پی ٹی آئی ایکٹو نہیں تھی۔اس لئے اس اتحاد کو دیکھتے ہوئے کچھ عرصے تک عوام یہ سوچنے پر مجبور نہ ہوجائے کہ حالیہ انتخابات کے بعدنواز شریف کی بطور وزیر اعظم کے لئے بھی تو غیر مشروط حمائت کا اعلان کیا گیا تھا الطاف حسین کی جانب سے اور اب ایک بار پھر وہی ن لیگ، انکا نامزد صدارتی امیدوار، وہی متحدہ اور وہی غیر مشروط حمایت۔ میچ پہلے سے فکس تھا کیا یا ایم کیو ایم ایک بار پھر اپنی سیاسی بصیرت کی بناء پر ن لیگ کو استعمال کر گئی۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button