تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

سیاسی بیروزگار

وہ بھی سادہ ہے چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آجاتے ہیں

ایک سیٹ کی بھاری اکثریت رکھنے والی دو پارٹیوں نے لندن میں گرینڈ الائنس بنا کر ایک بار پھر انقلاب کا طبل بجا دیا ہے۔ اس مرتبہ پردہ انقلاب پر مرشدِ کامل کے ساتھ ساتھ سابق سہ ماہی ورزیر اعظم اور چند ماہی ڈپٹی وزیراعظم بھی جلوہ نما ہیں۔ اب یہ پتہ نہیں کہ یہ سیاسی گٹھ جوڑ فقط لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہے یا چند دن کے لئے افراتفری کا پیش خیمہ۔ بحرحال کچھ بھی لکھنے سے پہلے یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ جب مذہبی قد کاٹھ کو سیاسی توپ چلانے کے لئے استعمال کیا جائے گا تو اس گونج سے مرشد پاک کانغمہ کردار بھی متاثرہوگا۔خان صاحب چونکہ بچوں کو ملنے کے بہانے سے گئے تھے اس لئے فی الحال یہی کہنا بہتر ہے کہ ظاہری طور پر وہ اس گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں ہیں لیکن چونکہ تمام لوگوں کے عزائم اور مقاصد مشترکہ ہیں اس لئے ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں سب شانہ بشانہ نظر آئیں اور بجٹ پر اپنے اپنے انداز میں تنقید کر کے یہ جلد اپنے گھوڑے دوڑائیں گے کیونکہ عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے یہ بہترین وقت ہو گا۔
اب نہ کرسی رہی نہ اقتدار کی امید، نہ ڈکٹیٹر ہے جس کی کاسہ لیسی کرکے ماضی کی حسین یادوں کو تازہ کرتے اور نہ وزارتِ اعلیٰ و عظمیٰ کی امید جس سے کچھ عرصہ خوب رنگ رلیاں منائی گئی۔ شاید اسی لئے اپنے آباؤ اجداد کے حکمرانوں کے دیس میں جاتے ہی ان کے بابِ فکر نے انگڑائی لینی شروع کر دی۔ اس پر مرشدِ کامل کا دستِ انقلاب بالکل سونے پر سہاگہ ثابت ہوا۔ حکومت سے بہت سے اختلافات کے باوجود کبھی کبھی انقلابیوں کی حرکتوں سے محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں خوف ہے کہ اگر موجودہ حکومت کچھ اچھا کر گئی تو ان کا عارضی بند روزگار مستقل طور پر بند ہو جائے گا شاید اسی لئے انہیں بہت جلدی ہے۔ خیر سارے کہتے ہیں کہ یہ جمہوری حق ہے تو ہم بھی مان لیتے ہیں۔
بحرحال ایک چھوٹی سے الجھن ہے کہ حکومت گراؤ انقلاب لاؤ مہم کے سرکردہ لوگوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ تمام دوسری پارٹیوں کو ساتھ ملا کر حکومت کا تختہ الٹیں گے۔ اس سے کراچی پارٹی، گجراتی پارٹی، کینڈا پارٹی، شہیدوں والی پارٹی اور شاید میانوالی پارٹی زیادہ قابلِ ذکر ہیں۔ میرے ناقص علم کے مطابق تو یہ سب وہی ہیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ گجراتی پارٹی نے پانچ سال لگائے، سیاسی شہیدوں نے پانچ سال لگائے اور باقیوں نے نام بدل بدل کر کئی سال لگائے۔ معیشت کا بیڑہ غرق ہوا، توانائی مسائل نے زندگی اجیرن کر دی کیونکہ پچھلے 15سالوں میں کوئی توانائی منصوبہ نہیں لگایا گیا۔ بیروزگاری، مہنگائی، قرض، دہشت گردی، بجلی بحران، غذا کی قلت، لڑکھڑاتی معیشت یہ سارے تحفے دے کر ملک کی سانسیں بند کرنے والے ہی اگر اس انقلابی فوج کر ہراول دستہ ہے تو پھر انتہائی معذرت سے عرض ہے کہ اپنی بیروزگاری ختم کرنے اور سیاسی لاشوں کو زندہ کرنے کے لئے کوئی اور مسیحا ڈھونڈتے عوام کو بلی کا بکرا نہ بنائیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker