بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

سیاسی کارکن کہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

bashir ahmad mir logoسیاست بھی عجب کھیل ہے کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست بن جاتے ہیں ،دراصل مفادات کا ایک ایسا طبقہ ہماری سیاسیات میں داخل ہو چکا ہے جس نے نظریات کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ویسے بھی نظریات کسی جماعت میں نہیں ،چاہئے وہ سیاسی ہو یا مذہبی سبھی ایک ہی سمت بھاگے جا رہے ہیں ۔مفادات کی اس جنگ نے ہمارے معاشرے کو بُری طرح دبوچ رکھا ہے ۔کہیں شخصیت ،کہیں اسلام کے نام اور کہیں نام نہادکارکردگی کے چرچوں سے عوام کو خام مال سمجھ کر اپنی ہوس اقتدار کا ایندھن بنا یا جاتا ہے۔کچھ دوستوں کے اصرار پر آج کا کالم سیاسیات کے نقطہ نظر سے پیش خدمت ہے ۔آذادکشمیر وطن عزیز کا نظریاتی خطہ ہونے کے ناطے سیاسی اعتبار سے بالغ النظر اور ذرخیز ذہین کے حامل نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔قارئین کی آگاہی کے لئے عرض ہے کہ جنوبی ایشیاء میں بھارت کے بعد دوسری اہم آذاد ریاست جموں کشمیر ہے جہاں گذشتہ 29برسوں سے مسلسل انتخابی عمل سے حکومتیں تشکیل پا رہی ہیں ۔اگرچہ انتخابی عمل میں اب بھی کئی خامیاں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود جمہوری طرز حکومت دیگر ایشیائی ممالک سے بہتر ،مستحکم اور مثالی ہے۔
گذشتہ ہفتے دارالحکومت آذادکشمیر مظفرآباد میں حکمران پارٹی کے کارکنان نے حکومت مخالف جلسہ کیا جس کے روح رواں اور مہمان خصوصی سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری تھے ۔حکومت کے خلاف اس جلسے کے بعد کچھ احباب نے متوجہ کیا کہ اس بارے بھی آگاہی کی جائے تو اس پر لکھنے سے پہلے انتہائی دیانت داری کے ساتھ پیشگی معذرت چاہوں گا کیونکہ سیاسی گفتگو ،تجزیہ اور جائیزہ سے سب کا متفق ہونا مشکل ہوتا ہے۔بہرحال جمہوری سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور بے قاعدگیوں کی نشاندھی کرنا ایک قلمکار کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کا قیمتی اثاثہ اس کے کارکن ہوتے ہیں ،جو صبح و شام اپنے لیڈر اور جماعتی سرگرمیوں سے عوام میں حمایتی گراف بڑھانے میں مگن رہتے ہیں ۔آج کسی بڑے لیڈر کا ذکر کرنے کے بجائے ان کارکنوں کی بات کروں گا جو واقعی جماعتوں کا قیمتی اثاثہ ہونے کا درجہ رکھتے ہیں ۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے اس پہلے حکومت مخالف جلسہ کی یہ خوبی نمایاں رہی کہ اس میں بھٹو شہید کے جیالے ،بے نظیر شہید کے متوالے اور بلاول بھٹو کے پروانے جن میں سید کرامت کاظمی ،سید نثار الحسن گیلانی ،سردار تبارک سمیت بے شمار کارکنوں کا اپنی حکومت کے خلاف اکٹھا ہونا سیاسی لحاظ سے کسی معجزہ ،بحران اور غیر یقینی حالات رونما ہونے سے کم نہیں ۔بلاشبہ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے اس یلغار کو روکنے میں آسانی سے قابو پالیا ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ایسا کیوں اتنا جلدی رونما ہوا،حالانکہ وزیر اعظم آذادکشمیر نے ماضی کے حکمرانوں کی نسبت ہزار گنا زائد کارکنوں کو با عزت مقام دیا ، وزراء سمیت بے شمار مشیران ،کو آرڈینٹرز اور صوابدیدی عہدوں پر ایسے ایسے لوگ لگائے جن کی پارٹی وابستگی سے انکار نہیں۔اگرچہ چند ایک ہدف تنقید ہیں مگر مجموعی طور پر پارٹی کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنا چوہدری عبدالمجید کی دوراندیشانہ سیاسی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ مظفر آباد سے حکومت مخالف لہر نے جنم لیا جو رفتہ رفتہ آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔
کیا اس لہر کے تانے بانے ’’ پاور پالیسی ‘‘ کا حصہ ہیں ،کیا کارکنوں میں احساس محرومی پائی جاتی ہے ،کیا قیادت کا رویہ غیر جمہوری ہے ،کیا پارٹی کے کارکنوں کو ایندھن بنانے کی مہم ہے ۔۔۔؟؟؟ یہ ایسے سوال ہیں جو ہر سیاسی کارکن کے ذہین میں جاگزیں ہیں۔ ایسا صرف پی پی پی میں نہیں ہر سیاسی بلکہ مذہبی جماعتوں میں بھی کارکنوں کا ایسے ہی استحصال ہوتا ہے ۔جہاں تک پی پی کے کارکنوں کی حالیہ بے چینی کا تعلق ہے تو اس پر قیادت کو فکر کرنا چاہئے ۔بلاشبہ کرامت کاظمی ،نثار گیلانی اور سردار تبارک کی پارٹی وابستگی کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔یہ تکونی کارکن پارٹی میں اپنی زندگی لگا بیٹھے ،ان کی ہڈیاں بھٹو بھٹو کرتے کرتے گھل سڑ گیءں مگر انہوں نے اپنے راستہ کو بدلا نہیں ،سلام ہو ایسے کارکنوں پر جو ہر خشک و تر ،سرد و گرم موسم کی حدت ،تپش اور تکالیف کو برداشت کر تے ہوئے اپنے رہبر و راہنما کی پیروکاری میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں ۔ان کارکنوں کو وفا کے بدلے کیا ملا ۔۔۔؟؟؟ یہ ٹھنڈے دل اور حاضر دماغ بن کر سوچنے ،سمجھنے اور کچھ کرنے کا وقت ہے ۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت کارکن حکومت سے نالاں ہو کر جماعت چھوڑ چکے ہیں اور جو رکے ہیں وہ ان کی کاوشوں کا ثمر ہیں۔روایت و حکایت اپنی جگہ ،آج آپریشنل سٹڈی کرتے ہیں کہ کارکن اپنی قیادت اور جماعتوں کو کیوں چھوڑتے ہیں آخر کیا قیادت میں کمی ،کمزوری ہوتی ہے یا پھر جماعتی نظم میں خامی ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کہیں اور آشیانہ بنا لیں ۔ارض پاک میں دو سیاسی قوتیں ایسی ہیں جو شخصیات اور نظریات کے گرد گھومتی ہیں ان میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن سر فہرست ہیں ان میں بے شمار کارکن اور عوام کی لا تعداد حمایت موجود ہے ۔اگرچہ بے شمار سیاسی جماعتیں سیاسی سفر میں شامل ہیں مگر قابل ذکر چند ایک میں ایم کیو ایم ،جماعت اسلامی ،پی این پی ،پی ٹی آئی اور اب تحریک منہاج القران کا سیاست میں عمل دخل کسی حد تک ہے مگر یہ چھوٹی جماعتیں ابھی ریہرسل کر رہی ہیں ۔ہر جماعت اپنا منشور اور دستور رکھتی ہے اور اس کے مطابق جماعتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان جماعتوں کے پاس بے شمار خدا داد صلاحیتوں کے حامل کارکن موجود ہیں جنہیں ملک و قوم کو سدھانے کے لئے سرگرم رکھا گیا ہے ۔یہ کارکن خوشحال مستقبل کی امید و آس پر ان جماعتوں میں خام مال کے طور استعمال ہوتے آئے ہیں اور آئندہ بھی ان کی کم عقلی سے انہیں ٹشو پیپرز بنایا جاتا رہے گا۔کوئی اسلام کے نام پر دھوکا دے رہے ہیں ، کوئی معاشی ترقی کی امید دلا کر بہکا رہے ہیں اور کہیں مخالف پارٹی کی غلط سیاسی حکمت عملی کے سبب مایوسی کے شکار کارکن ضد میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔آخر یہ کیوں سیاسی کارکنوں سے ایسا سلوک ہو رہا ہے ، حالات کا تجربہ ،مشاہدہ اور اندازہ یہ ہے کہ جو لیڈر اپنے کارکنوں کی تذلیل،تحقیر اور نظر انداز کرنے کی پالیسی اپناتا ہے اسے اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ بدلا چکا دیتا ہے ۔یہ تو جزا و سزا کا کلیہ ہمارے سامنے ہے کہ ایسا ہوتے ہم دیکھ چکے ہیں ۔دانشمند اور دور اندیش کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔اب سیاست کرنے کے لئے صرف روپے پیسے پر انحصار کافی نہیں ،اس کے لئے لوگوں کے دل جیتنا ضروری ہیں ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ہم ایمانداری کے ساتھ اپنی جد و جہد کی سمت کا تعین کریں ۔پی پی پی کے کارکنوں پر ترس بھی آتا ہے اور دکھ بھی ہوتا ہے کہ انہیں جس مشینری سے واسطہ پڑا ہے وہ سبھی مال و زر کی مالا سجائے جماعت میں دھڑے بندی کر کے اپنی اپنی خواہشات کی تکمیل میں مگن ہیں ۔مگر یہ بچارے بھٹو کے جیالے اپنے آپ کو صرف ’’ جیالا‘‘ سمجھ کر خام مال کی طور ایندھن بنے ہوئے ہیں ۔سیاسی کارکنوں کو جاگنا چاہے ،پارٹی میں وارداتی ،حادثاتی اور مفاداتی ٹولے کو جب تک نہیں بھگائیں گے تب تک یہ ایسے ہی تیز دار مشین میں اپنا لہو گراتے رہیں گے ۔چوہدری عبد المجید بلا شبہ نظریاتی کارکن سے وزارت عظمیٰ تک پہنچے ہیں انہیں ایسے کارکنوں کی فہرست مرتب کرنی چاہئے جو ضیاء آمریت سے اب تک بھٹو شہید کی جلائی ہوئی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں انہیں سوچنا ہو گا کہ ایسے کارکن کیوں مایوس ہو کر پارٹی میں دھڑے بندی بنا رہے ہیں اور جنہوں نے پارٹی چھوڑ کر اپنی سیاسی جد جہد کسی دوسری جماعت میں شروع کر رکھی ہے ان کے چھوڑ جانے کے اسباب اور محرکات کا جائیزہ لیکر پارٹی کی درست صف بندی کرنی چاہئے ۔یہ دیانتدارانہ رائے کارکنوں کے بہتر ،محفوظ اور کارآمد مستقبل کے لئے پیش خدمت ہے ۔اگر کارکنوں کو تذلیل آمیز ماحول میں لڑنے پر چھوڑا گیا تو اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔سیاسی کارکن ہر اس جماعت کا قیمتی آثاثہ ہوتے ہیں جو عوام کے مفاد میں سیاسی عمل میں شریک ہیں ۔مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس بھی ریاست کی نمائندہ جماعتیں ہیں ۔ان میں بھی کارکنوں کو غیر سیاسی عمل دخل سے اجتناب کرنا ہو گا۔سیاسی قیادت اگر دور اندیش ہو تو وہ کبھی بھی سیاسی کارکنوں کی معیت میں ناکامی کا شکار نہیں ہوتی ۔اگر یہ کہا جائے کہ مسلم لیگ ن نے سیاسی کارکنوں کو نئی صف بندی کے لئے اچھا موقعہ فراہم کیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔بیشتر دیگر جماعتوں کے سیاسی کارکن راجہ فاروق حید ر خان کی صاف گو اور دلیرانہ قیادت میں مسلم لیگ ن میں شامل ہو کر سرگرم ہیں جو اس امر کی دلیل ہے کہ پی پی پی اور مسلم کانفرنس کی قیادتوں کے رویے ،سیاسی نظم اور اقدامات سے باغی ہو کر انہوں نے اپنا باعزت ٹھکانہ منتخب کیا ہے ۔امید ہے کہ سیاسی کارکن اپنی سیاسی جد و جہد کو بہتر قیادت میں جاری رکھنے کے لئے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائینگے ۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button