تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

بورے والا کا سیاسی منظر

Dr. B.A Khuramعام انتخابات کے قریب آتے ہی ملک کے دیگر حلقوں کی طرح بورے والا کے سیاسی ماحول میں بھی گہما گہمی کا آغاز ہو گیاہے سیاسی ڈیرے آباد اور رونقیں بڑھ گئی ہیں ۔اس حلقہ میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن) ،تحریک انصاف اور آزاد نذیر جٹ گروپ کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ پچھلے عام انتخابات میں تحصیل بورے والا میں قومی نشست پہ مسلم لیگ ق کے امیدوار چوہدری نذیر احمد جٹ واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے جبکہ ان کے نیچے دونوں نشستوں پہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے امیدوار الحاج خالد سلیم بھٹی اور سابق تحصیل ناظم چوہدری عثمان احمد وڑائچ کے برادر حقیقی چوہدری فیاض احمدوڑائچ جیت گئے تھے اور مسلم لیگ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ ان کے سبھی امیدواروں کوشکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جعلی ڈگری کیس میں مسلم لیگ ق کے ایم این اے چوہدری نذیر احمد جٹ نااہل ہوئے تو یہ نشست خالی ہو گئی پھر ضمنی انتخاب میں ایک بارپھرصوبائی حکومت کے امیدوار سید شاہد مہدی نسیم شاہ اور وفاقی حکومت کے امیدوار چوہدری اصغر علی جٹ کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں پی پی پی پی کے امیدوار چوہدری اصغر علی جٹ بڑی بھاری لیڈ سے کامیابی سے ہمکنار ہوئے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی ناکامی اور پی پی پی پی کے امیدوار کی کامیابی میں آزاد امیدوار چوہدری نذیر احمد آرائیں سابق صوبائی وزیرکا آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینا تھا آزاد امیدوار نے تحصیل بورے والا کے پرانے سیاستدانوں کواکٹھا کر کے ’’ عوامی اتحادگروپ ‘‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم بنا کر سیاست میں ہلچل مچا دی اور اس گروپ کے سربراہ سابق ایم این اے چوہدری قربان علی چوہان تھے اس گروپ نے دونوں حکومتی امیدواروں کا خوب مقابلہ کیا اور دوسرے نمبر پرآئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوارسابق ضلعی ناظم سید شاہد مہدی نسیم شاہ تیسرے نمبر پررہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گذشتہ دنوں سابق صوبائی وزرا ء امیدوارحلقہ این اے 167چوہدری نذیر احمد آرائیں اور امیدوار پی پی 232گگومنڈی پیر غلام محی الدین چشتی کی دعوت پر بورے والا کا دورہ کیا اور انکی درخواست پرچک نمبر 427ای بی میں فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا۔ تختی کی نقاب کشائی کے بعد انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے بوریوالا کیمپس کے میگا پراجیکٹ کی تعمیر سے ضلع وہاڑی اور دیگر ملحقہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات زرعی تعلیم حاصل کر کے نہ صر ف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنی جدیدریسرچ سے زرعی انقلاب برپا کریں گے۔ بورے والا کالج گراؤنڈ کے جلسہ گاہ پہنچنے پر مسلم لیگی راہنماؤں سید شاہد مہدی نسیم شاہ ،سید ساجد مہدی سلیم ،چوہدری نذیر احمد آرائیں پیر غلام محی الدین چشتی ،سردار عقیل احمد شانی ڈوگر ،چوہدری یوسف کسیلیہ ،چوہدری ارشاد احمد آرائیں اور چوہدری عاشق آرائیں اور دیگر لیگی راہنماؤں نے سٹیج پر خادم اعلیٰ پنجاب کا استقبال کیا۔ایک اندازے کے مطابق 25ہزار سے زائد افراد جلسہ گاہ میں موجود تھے اور یہ بورے والہ کی تاریخ کا ایک عظیم الشان جلسہ تھا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ کے موقع پر قیاس آرائیاں تھیں کہ مقامی لیگی دھڑوں میں صلح ہو جائے گی۔ تاہم بظاہر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔دونوں گروپس اپنے اپنے امیدواروں کا دعوی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور الیکشن مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں دو دھڑوں کے درمیان یہ محاذ آرائی مقامی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے لئے نیک شگون ثابت نہ ہوگی۔بورے والا میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے جن میں ایک کی قیادت سابق صوبائی وزیرچوہدری نذیر احمد آرائیں کر رہے ہیں جبکہ انکے حامیوں میں پیر غلام محی الدین چشتی ،عقیل احمد شانی ڈوگر چوہدری ارشاداحمد آرائیں ،پیر محمد اقبال شاہ ،میاں احد شریف ،چوہدری عبدالرشید بگیانوالا ،حافظ عبیدالرحمان ،میاں محمد افضل ،حاجی چوہدری شاہ محمد شامل ہیں۔دوسرا دھڑاسید شاہد مہدی نسیم شاہ کا ہے جنہوں نے گگو منڈی میں چوہدری محمد یوسف کسیلیہ کی فیکٹری میں ایک اہم اجلاس کیا جہاں انہوں نے بڑے جارہانہ انداز میں گروپ کو ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں اپنے بیٹے سید سلمان شاہ کو این اے167،چوہدری محمدیوسف کسیلیہ پی پی 232اور چوہدری محمد عاشق پی پی 233سے آزاد الیکشن لڑنے کا اشارہ دیا۔ اگر ایسا ہوا تو مسلم لیگ کا ووٹ بنک دو حصوں میں تقسیم ہونے سے مسلم لیگ نقصان اٹھا سکتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ایم این اے چوہدری اصغر علی جٹ حلقہ این اے 167بورے والا کے جیالوں کوخیر باد کہہ کر حلقہ این اے 166عارفوالا سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر کے وہاں پر اپنی انتخابی مہم بڑے زوروں شوروں سے چلا رہے ہیں جبکہ آزاد نذیر جٹ گروپ کے سربرا ہ چوہدری نذیر احمد جٹ کی صاحبزادیاں عائشہ نذیر اور ڈاکٹر عارفہ نذیر 167,،168این اے کی امیدوار اورانکے بھتیجے طاہر نقاش جٹ پی پی 232گگو منڈی سے آزاد امیدوار ہوں گے جنہوں نے اپنے اپنے حلقوں میں کارنر میٹنگزمیں کہا ہے کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوامی اور فلاحی منصوبوں کو جاری رکھیں گے۔بورے والا ،گگو منڈی اور وہاڑی میں سوئی گیس ،سیوریج سسٹم ،نہروں کی پختگی اور بجلی کی ترسیل جیسے میگا منصوبوں کی تکمیل انکے گروپ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حلقہ پی پی 232گگو منڈی کے ایم پی اے چوہدری فیاض احمد وڑائچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنیت اور ایم پی اے کی سیٹ سے استعفیٰ دے کر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک میں شامل ہو نے کا اعلان کر دیا ہے۔ پی پی نے حلقہ این اے 167پی پی پی 232سے اپنے کسی بھی امیدوا رکو سامنے لانے میں ناکام رہی ہے جبکہ پی پی پی 233سٹی بورے والا سے سابق ایم پی اے سردار خالد سلیم بھٹی پارٹی کے مضبوط امیدوارتصور کئے جا رہے ہیں ۔تحریک انصاف کی جانب سے این اے 167کی سیٹ پر ریاست علی بھٹی متوقع امیدوار ہیں جو کہ اپنے حلقہ میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو اکٹھا کرنے اور عمران خان کے سونامی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کیساتھ ساتھ عوامی رفاعی کاموں کا بیڑا اٹھاتے ہوئے اپنی کامیابی کی منزل کی طرف رواں دواں اور پر امید نظر آرہے ہیں۔ تحصیل بورے والا میں آئندہ آنے والے دنوں میں سیاست کیا رخ اختیار کرتی ہے سیاسی پنڈتوں کے لئے اس کا اندازہ لگاناآسان ہو گیا ہے۔انکے مطابق مسلم لیگ نواز کے دھڑوں کی آپس میں سیاسی چپقلش ،نذیر جٹ گروپ کے اندرونی خاندانی اختلافات اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کے فیصلہ کا فائدہ پی پی پی پی کے امیدوار اٹھا سکتے ہیں ۔الیکشن شیڈول کے اعلان ہونے کے ساتھ ہی ہر پارٹی اپنے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارے گی اب دیکھنا یہ ہے کہ کو ن سی پارٹی کن امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ سے نواز کر اپنی پوزیشن مضبوط کرتی ہے

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button