تازہ ترینکالم

سیاسی اتارچڑھاؤاورتیسری قوت

imranحالیہ ایام میں مملکت خدا دادِ پاکستان ایک ہیجان خیز سیاسی صورتحال سے دو چار ہے ۔ مملکت کے عہدیداران (Establishment)اور حکومتی عُہدوں پر بُراجمان لوگوں کی سوچ میں واضح خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی جارہی ہے
تقریباً تین ماہ پہلے چوہدری شجاعت چو ہدری پرویز الٰہی اور عمران خان لندن میں اکٹھے ہوئے تھے اور شیخ الاسلام طاہر القادری کو بھی وہیں ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا ۔ چوہدری صاحبان اور قادری صاحب کی ملاقات میں عمران خا ن بو جوہ شامل نہ ہوئے ۔ علامہ صاحب نے ملک میں انقلاب کیلئے فضاء ساز گار سمجھتے ہوئے عید الفطر کے بعد واپس آنے کا عندیہ دے دیا ۔ پھر اچانک قادری صاحب نے پروگرام تبدیل کرتے ہوئے 23جون کو واپسی کا اعلان کر دیا ۔
دوسری طرف گورنمنٹ کے عہدیداران قادری صاحب کی واپسی کا سن کر آپے سے باہر ہوگئے ۔ اور بھاری بھر کم مینڈیٹ کے بل بوتے پر انکی واپسی کے پروگرام کو کچلنے کے لیے چڑھ دوڑے ۔ نتیجتاً 17جون کو16ہلاکتوں کے ساتھ 100افراد کو سیدھے گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا ۔ علامہ صاحب نے وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب ، وفاقی وزراء سمیت 21افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کی درخواست دے دی لیکن ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا بالآخر عدالتی حکم حاصل کیا گیا ۔
دوسری طرف عمران خان نے بھی دھاندلی کیخلاف اپنی مہم کو مزید تیز کردیا اور چودہ اگست کو اسلام آباد کیطرف مارچ کا اعلان کردیا ۔ 23جون کو علامہ صاحب کی آمد کے وقت طیارے کو اسلام آباد کی بجائے لاہور کی طرف موڑ دیا گیا اور اس طرح خواہ مخواہ افراتفری کی فضا ء پید ا کی گئی ۔ دریں اثناء منہاج القرآن سیکریٹریٹ کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ۔ چودہ اگست سے لیکر آج تک عمران خان اور طاہر القادری اپنے اپنے حواریوں کے ہمراہ شاہراہ دستور پر بُراجمان ہیں ۔
حکومت نے گو مگو کی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے دھرنے میں بیٹھنے والوں کو تھکانا کی حکمت عملی وضع کی ۔دوسری طرف عمران خان اینڈ کمپنی نے اسلام آباد کے باہر سے آنے والے لوگوں کو (Rotate) کرنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ آغاز میں آنے والے لوگ واپس چلے گئے ہیں اور نئے لوگ آگئے ہیں ۔طویل تمہید کے بعد مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات ڈھونڈنا لازمی ہو گیا ہے ۔
1 – طاہر القادری صاحب نے عید الفطر کے بعد آنے کا پروگرام کیوں تبدیل کیا اور 23جون کو واپسی کا علان کر دیا ۔
2 – شیخ رشید اور چوہدری برادران کیوں سر گرم عمل ہوئے ۔
3 – عمران خان نے دھاندلی کی مہم کو کیوں تیز کیا ۔
4 – علامہ صاحب کو پہلے تو اسلام آباد اُترنے نہیں دیا گیا پھر مقتو لین کی میتوں کے سائے میں اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت کس نے دی ۔
5 – عمران خان نے اپنے مطالبات میں نواز شریف کے استعفیٰ کو سر فہرست کیو ں رکھا۔

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:آج ہم لوگ مغرب کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے بھٹک چکے ہیں، عبدالوہاب

6 – محمد افضل خان (ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن )کنور دلشاد (سیکریٹری الیکشن کمیشن )اور جسٹس رضوی (ممبر الیکشن کمیشن ) جیسے لوگ کیسے سر گرم ہوئے ۔
7 – دھاندلی سے متعلقہ دستاویزات اور سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والے کمیشن اور جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیٹی کی رپورٹ حکومت کے شائع کرنے سے پہلے کیسے منظر عام پر آگئی ۔
8 – چوہدری نثار کا پر اسرار کردار اور اُنکا کہنا کہ سیاست میں ہیں بدلہ لینا نہیں بھو لتا ۔ واضح رہے چوہدری صاحب چکری سے اپنی آبائی قومی اور صوبائی سیٹ ہار چکے ہیں ۔
9 – گورنر عشرت العباد کا MQM کے پلیٹ فارم سے اظہار یکجہتی کا برملا اظہار ۔
10 – علامہ طاہر القادری اور عمران خان نے اسمبلیوں کی تحلیل کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیوں کیا ۔ حالانکہ عمران خان خود ایک پارلیمانی پارٹی کے سر براہ ہیں ۔
28اگست کی رات ہونے والی پیش رفت کے بعد وزیر اعظم کی درخواست پر آرمی چیف نے اس مسئلہ کو سلجھانے کا بیڑا اُٹھا یا ہے ۔اور دونوں ناراض رہنماؤں کو چند ایک یقین دہانیاں کروائی ہیں ۔
میرے نزدیک آرمی چیف کو عدالت عُظمیٰ کے سائے میں کوئی آئینی اور قانونی طریقہ کا ر اختیار کرنا چاہیئے تاکہ اس مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے اور آرمی چیف کی حرمت بھی برقرار رہے ۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کا 26 کھرب 53 ارب کا بجٹ کثرت رائے سے منظور

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker