تازہ ترینصدف گیلانیکالم

جہاد زندگی لازم ہے مسلم جان لو لیکن

syed gillaniاللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی ہدایت کیلئے مختلف مقامات پرمختلف اوقات میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبربھیجے۔جنکواللہ نے مختلف معجزات عطاکیے تاکہ انسان کواپنارہبرسمجھنے میں مددملے۔معجزات کامقصدیہ تھا کہ لوگوں کواپنے افضل ہونے کی دلیل دے اورنمائندہ خداکے طورپراپنے آپ کومنواسکے۔ضرب المثل ہے کہ کنواں کبھی پیاسے کے پاس چل کرنہیں جاتابلکہ پیاساجاتاہے مگرانسان کی ہدایت کیلئے اللہ کریم نے اپنے پیغمبروں کوبھیجا(لوگوں کی طرف سے بھیجا)۔آج کاموضوع نازک ہے کیونکہ اس پربہت لکھاجاچکاہے مگر میں کچھ اورحقائق سے پردہ اٹھاناچاہتاہوں۔جہاد اسلام کی تبلیغ کیلئے ایک کردارکانام ہے جس میں مدمقابل کی جان لینے کیلئے اس پروارکرناثواب کاکام ہے۔اسلام کی تبلیغ حضرت آدم (ع)نے شروع کی اورجوحضرت محمدمصطفےٰ (ص)پرمکمل ہوئی۔اسلام کی تاریخ میں جنگ کے مقامات چندآئے ورنہ ہرجگہ یہی حکم تھاکوئی ایک تھپڑمارے اپنادوسرارخسارپیش کردو۔تاکہ ظالم کواحساس ہو۔تاریخ میں چندپیغمبروں نے ہتھیاراٹھائے۔جن میں سرفہرست حضرت محمدمصطفےٰ (ص)ایک واقعہ حضرت داود(ع)اورحضرت موسی(ع)کے وصی حضرت بوشع بن نون اورحضرت موسیؑ کی بیوی جوحضرت شعیب(ع)کی بیٹی تھیں۔کے درمیان جنگ ہوئی ان چندواقعات کے علاوہ تاریخ میں جنگ کاذکرنہیں ملتا۔اس میں جہادکوایک درجہ حاصل ہے مگراس کردارکوانتہائی مشکل حالات میں اپنایاگیاہے جس میں حقوق کاخاص خیال رکھاگیاہے جس میں انتہائی محتاط رہناپڑتاہے۔اس کیلئے تبلیغ کے وقت آخرپررکھاگیاہے۔بنی مکرم (ص)نے دو افضل ترین کام زندگی میں انجام نہیں دیئے۔ایک جہادنہیں کیاکیونکہ آپ رحمۃ العالمین ہیں دوسرااذان نہیں دی اگر آپ(ص)ذان دیتے توکائنات کی ہرچیز مسجدمیں جمع ہوجاتی۔نبی مکرم(ص)نے جہاد اس وقت کیاجب مدینہ آئے مگر جتناعرصہ مکہ میں رہ کسی کوجواب نہیں دیاکسی کے ظلم پردلبرداشتہ ہوکرتبلیغ سے منہ نہیں موڑا۔جس نے پتھر مارے اس کیلئے ہدایت مانگی جس نے کانٹے بچھائے اس کی عیادت کی جس نے اوجھڑی پھینکی اس کوبددعانہ دی شعیب ابن ابی طالب میں تین سال بھوکے پیاسے رہے جس میں اوربھی کئی افرادشامل تھے مگرمنہ سے آہ نہ نکلی اورنہ اصحابِ باوفامیں کسی نے تنگ دستی کاشکوہ کیاآپؐ وہ ہستی ہیں جوہمارے لیے قابل تقلیدہیں مگرہم نے توعقبہ ،مسلم اورطارق بن زیادکواپنالیڈربنایاہواہے جنہوں نے تبلیغ اسلام توکی مگرامن کارستہ ہموارنہ کرسکے۔میرے نبی(ص)نے پہلے امن کاراستہ دکھایالوگوں نے ظلم وستم کے پہاڑگرائے مگرآپ تبلیغ کررہے ہیں دعادے رہے ہیں جب 10سال کے قریب عرصہ گزراتوآپ مدینہ تشریف لائے۔جب معلوم ہواکفارلشکرکیصورت میں مدینہ پرآرہے ہیں۔تب آپ(ص)کی زندگی کیساتھ تمام اہلیان مدینہ کی زندگی آپ(ص)کے ہاتھ میں تھی تب آپ نے جاکرتلواراٹھائی۔جہاد میں آپ(ص)نے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کاخیال رکھنے کاحکم دیاان کی عبادگاہوں کے احترام کادرس دیا۔نہتے ہرتلواراٹھانے پرٹھہرنے کاحکم فرمایافتح مکمہ کے بعدآپ(ص)نے کسی پرتلوارنہیں اٹھائی پوری زندگی میں امن اورمحبت کادرس۔حضرت امام جعفرصادقؓ سے کسی نے دین اورمحت کے بارے میں پوچھاتوآپ نے فرمایادین محبت کے علاوہ بھی کچھ ہے توآپؐ نے فرمایا’’لوگوں کے دل جیتے۔کیاکبھی آپؐ نے لشکربناکرکبھی کسی مندرپرحملہ کیاکسی بت خانہ پرکسی گرجاگھرپربالکل نہیں آج 14سوسال بعدان کی محبت کویادکرتے ہیں رحمت کاذکرکرکے،شفقت کااحوال دیکران کی پیروی کرتے ہیں۔یہ باتیں دوسروں کوسناکرمسلمان اورمومن کے مرتبے تک لے جاتے ہیں حتیٰ کہ روزمحشر بھی سرکاردوعالمؐ شفاعت فرمائیں گے۔
اسلام میں حکمت عملی ہے حضرت عیسیٰ(ع)تین دن کے ہوکرکہتے ہیں میں اللہ کاررسول ہوں صاحب کتاب ہوں میری ماں پاک دامن ہے بنی
مکرم(ص)40سال کے ہوکرتبلیغ کرتے ہیں۔جن میں گیارہ سال تکالیف برداشتک رتے ہیں۔پھربھی تلوارنہیں اٹھاتے۔پہلے فرماتے ہیں۔خودبچو،گھرچھوڑدو،شہرچھوڑدو،ہجرت کرجاؤ،مدینہ میں آمدکے بعدخودکومحفوظ بناتے ہیں۔
جس طرح40سال کے بعدتبلیغ شروع حکمت تھی اسی طرح گیارہ سال تلوارنہ اٹھاناحکمت تھی اسی طرح آج نصاب کی کتب میں جہادشامل نہ کرناحکمت عملی ہے ہم نے دنیاکوامن اور محبت والاچہرہ دیکھاناہے ہم نے جنگجونہیں بننا۔ہم نے اپنے اقتدارکیلئے طویل رقبہ نہیں لیتا۔ہم نے طویل رقبے پرمحبت کے ذریعے اسلام پھیلاناہے آج نصاب میں جہادشامل کرنے سے اگرنقصان ہورہاہے تو ہمیں اس سے بچناچاہئے ہم نے جہادکونہیں پیھلانااورنہ یہ مومن کامقصدہے ہمارامقصداسلام کوپھیلاناہے اگرچندعرصے کیلئے ہم نصاب میں جہادکوشامل نہیں کریں گے۔توجہادختم نہیں ہوجائیگا۔بلکہ اس سے وہ جہادضرورختم ہوجائیگاجس نے جہادکے نام پرظلم وجبرکابازارگرم کیاہواہے اس سے وہ جہادختم ضرورہوجائیگاجسمیں مندراورگرجاگھرکااحترام نہیں ہے جس میں انسان کی جان کی قیمت نہیں ہے جس میں عورتوں کوبیوہ بنادیاہے جس میں بچوں کویتیم کیاجاتاہے جس میں گھرکاواحدکفیل چھین لیاجاتاہے اس سے وہ جہادختم ہوجائیگا۔جس میں بہن سے اس کابھائی چھین لیاجاتاہے جس ماں سے اس کالخت جگرچھین لیاجاتاہے جس میں باپ کابوڑھاپے کاسہاراچھین لیاجاتاہے۔
آج جہادکوغلط استعمال کیاجارہاہے جس سے نادان لوگوں کوگمراہ کیاجارہاہے آج جہادکے نام پرجوکاروبارچل رہاہے اس میں وہ تمام مدارس کے خطیب شامل ہیں جوجہادکی صحیح شرائط نہیں بتاتے جس میں علماء کرام جہادمیں غیرمسلموں کے حقوق نہیں بتاتے۔جس میں جہادبالفتال کاتودرس دیاجاتاہے۔مگربوڑھوں کے احترام کانہیں بتایاجاتا۔جس میں عورتوں کی عزت کاخیال رکھنے کاحکم ہے وہ فرمان نہیں سنایاجاتا۔ہماراالمیہ یہ ہے کہ ہم حکمت سے کام نہیں لیتے۔اللہ سے بڑاحکم کوئی نہیں۔خداوندکریم نے اپنے محبوب کوخون میں نہاتے ہوئے دیکھایہ ذات کبریائی جلال میں آئی مگر سرکاردوعالم نے ہدایت ورحمت کی گزارش کی اللہ نے اپنے پیروکاروں کوآرہے میں چیرتے ہوئے تودیکھامگرتلوارکاحکم نہیں دیااس نے بچوں کے گلے توکٹتے دیکھامگرباپ کولڑنے نہ دیا۔
آج ہمارے بعض سیاستدان چندمذہبی علماء جلسوں میں جہادی گروپوں کی حمایت کرتے ہوئے نظرآتے ہیں جوحقیقت میں اس ظلم کوپُرموٹ کرتے ہیں یہ ظلم وجبرکی انتہاہے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے آج جن لوگوں نے جہادکے نام پرقتل وغارت کابازازگرم رکھاہے ان کے حمایتی قیامت کے دن یقیناظلم کرنے والو ں میں شامل ہوں گے ہمیں ان منافقوں سے بچناہے جوہمیں جنت کے نام پرلوگوں پرظلم کرنے کاکہتے ہیں ان بے دین ملاؤں سے اورسیاستدانوں سے بچو۔ بقول جناب مسلم سلیم انڈیا ؂؂
جہاد زندگی لازم ہے مسلم جان لو لیکن ملے گی کامیابی صرف آقا کے طریقے سے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button