ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

’’سیاست‘‘ حقیقت یا ڈرامہ

editor k qalam syپاکستانی سیاست اور گرگٹ میں کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں رنگ بدلتے رہتے ہیں۔دنیا کے ہر ملک ، ہر خطہ میں سیاست ہوتی ہے مگر واہ ری پاکستانی سیاست تیری کیا بات ہے ۔ جتنی اچھی سیاست پاکستان میں ہوتی ہے شاید اتنی کسی اور ملک میں نہیں ہوتی ۔
پاکستان اسلامی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی ایک اسلامی ریاست ہے اور الحمداللہ ہمارے صدر ، وزیر اعظم اور زیادہ تر مرکزی و صوبائی حکومتی نمائندگان مسلمان ہیں اور جھوٹ بولنا صرف اسلام ہی نہیں بلکہ ہر مذہب میں گناہ ہے۔ ہمارے سیاستدانوں جتنا جھوٹ کوئی نہیں بول سکتا کیونکہ اپنے ذاتی مفادات سے آگے انہیں ایک انچ بھی نظر نہیں آتا ۔
پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے تو اپنا نام گنز بک میں لکھوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے ۔ انہوں نے جھوٹ بولنے اور اپنے ذاتی مفاد حاصل کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے پانچ سال مکمل کر لیے ہیں مگر جن بیساکھیوں کے ذریعے یہ پانچ سال مکمل کیے اس کے بدلے میں اس کے اتحادیوں نے خوب مفاد اٹھایا۔ حسب روایت ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس نے سب سے زیادہ مرتبہ حکومت چھوڑنے کا ڈرامہ رچا کر اپنے مفادات کو حاصل کیا۔ حکومت سندھ کی پچھلے دو سال کی کارکردگی دنیا بھر سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حکومت سندھ اور اس کے اتحادیوں کے تعاون سے پاکستانی عوام کو روزانہ چالیس پچا س لاشوں کا تحفہ ملتا ہے مگر افسوس کہ یہ روح فرسا واقعات حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھول سکے بلکہ وہ آنکھیں بند کیے اپنے اپنے محلوں میں سوئے ہوئے ہیں۔ خدانخواستہ اگر کسی سیاسی پارٹی کا کوئی کارکن مارا جائے تو پھر ان علاقو ں میں بھی حالات خراب ہو جاتے ہیں جہاں حالات بہتر ہوتے ہیں ۔ یہ ہے موجودہ سندھ حکومت کی کارکردگی ۔
سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کے متحد ہونے سے پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم دونوں کی نیند حرام ہو رہی ہے۔ ایک پنجابی محاورہ ہے ’’کتی چوراں نال رلی اے‘‘ ایسی ہی سیاست اب سندھ میں ہورہی ہے۔آج پھر متحدہ نے ناصرف حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے بلکہ اپنے استعفے بھی جمع کرا دیے ہیں۔ اور حیرت اس بات پر ہے کہ پہلی بار حکومتی نمائندگان خصوصاً رحمان ملک ایم کیو ایم کو منانے کی بجائے ان کے استعفیٰ پر خوش ہورہے ہیں۔ حالانکہ پہلے ایم کیو ایم کی حکومت چھوڑنے کی سرگوشی پر ہی زرداری پہلی فرصت میں الطاف بھائی کو فون کرکے منا لیتے مگر اس بار تو خورشید شاہ، رحمن ملک اور کائرہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم جاتی ہے تو جائے مگر ہم نہیں منائیں گے۔
سادہ لوح عوام شاید ایم کیوایم کی حکومت چھوڑنے کی اصل وجہ نہیں جانتی مگر کچھ لوگ ضرورجانتے ہیں کیونکہ انتخابات سر پر ہیں اور نگران حکومت قائم ہونے والی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے نگران وزیرا عظم اور وزیراعلیٰ نامزد کیے جائیں گے۔ اگر سند ھ کی یہی حکومت رہتی ہے تو پھر اپوزیشن لیڈر حقیقی اپوزیشن کا ہوگا جس کی وجہ سے ایم کیو ایم اور پی پی کی دال نہیں گلے گی اوراگر ایم کیو ایم حکومت سے باہر آکر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ جائے تو پھر اپوزیشن لیڈر ان کاہوگا جو نگران حکومت مل کر بنا لیں گے۔
ایم کیو ایم ہر دور میں حکومت میں شامل رہی ہے اورہر حکومت کو اس نے اپنے مفا دکے لیے استعمال کیا ہے۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کو خطرہ ہے کہ سندھ میں اسوقت جواتحاد نواز شریف ، پیر پگاڑا اور ایاز پلیجو وغیرہ کا بن رہا ہے کہیں وہ موجودہ حکومت کی چھٹی کرا کے اپنی حکومت قائم نہ کرلے۔ سیاستدان وقت کے ساتھ ساتھ اپنی چالیں بدلتے رہتے ہیں اور اس وقت تو ویسے بھی الیکشن کی آمدآمد ہے ۔اس لیے ہرسیاسی پارٹی ایک دوسرے کے ارکان توڑنے اور اپنے ووٹ بنک بڑھانے میں مصروف ہے۔ کسی کو اس غریب عوام کی فکر نہیں جوبجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کی لوڈشیڈنگ،بیروزگاری اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button