تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

تباہ کن زلزلہ کی آمد اور بے بس زندگی

zafar ali shah logoویسے توزلزلے سے کم واقعہ اتوار 22ستمبر کو پشاور میں چرچ پر مبینہ خودکش حملہ بھی نہیں تھاجہاں مسیحی برادری کے مردوزن بوڑھے ،بچے اور جوان عبادت میں مصروف تھے اورپوری قوم کو اور ملک بھر بلکہ دنیابھرکوہلاکررکھ دینے والے اس واقعہ میں اب تک کی موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ اسی کے لگ بھگ بے گناہ مسیحی جاں سے گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اگرچہ یہ واقعہ بھی کسی زلزلے سے کم نہیں تھا اور ملک بھر میں سیاسی زلزلوں کے جھٹکے تو روز محسوس کئے جاتے ہیں تاہم پیر24ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق چاربجکرانتیس منٹ پر بلوچستان میں وہ زلزلہ آیاجس میں کروٹ بدلتی زمین تھوڑی سی کھسکتی ہے تو ایک دنیا کی دنیا بدل جاتی ہے سو یہی ہوا کہ ایک جھٹکے میں پلک جھپکتے ہی کئی علاقے لرز اٹھے اور وہاں کے مکین خوف وہراس کی حالت میں گھروں سے نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا وردکرتے رہے اگرچہ یہ زلزلہ ہلاکتوں اور دیگر نقصان کا سبب ضروربناہے اس کے باوجود پوری قوم کو اس بات پر خدا کا شکر بجالاناچاہیے کہ 8اکتوبر 2005کے بعد یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا زلزلہ تھا جوموجودہ نقصان سے کہیں زیادہ نقصان کا سبب بن سکتاتھا جیسا کہ اتنی شدت کے زلزلہ نے چین میں دولاکھ ،بھارت میں بائیس ہزار،2005 میں ایک لاکھ جبکہ کوئٹہ میں قیام پاکستان سے قبل اتنی شدت کے پیش آنے والے زلزلے نے چالیس ہزارافراد کو نگل لیا تھااس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کے نتیجے میں ہونے والا حالیہ نقصان کم ہی شمارہوگا۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سات اعشاریہ سات جبکہ امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق ریکٹرسکیل پر زلزلے کی شدت سات اعشاریہ آٹھ ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کا مرکزبلوچستان کے علاقہ خضدار سے 120کلومیٹردورجنوب مغرب میں23کلومیٹر زِیرزمین بتایاجاتا ہے جو کراچی سے 284کلومیٹر دور ہے ۔زلزلہ پیمامرکزاور امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق دس سے پندرہ سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے جاری رہے۔ اسلام آباد اور سوات سمیت ہمسایہ ملک بھارت،ایران ،مسقط اور دبئی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت اواران ، مستونگ، قلات، پنجگور، جعفرآباد، نصیرآباد،گو ادر، چاغیِ، پشین،نوشکی جبکہ دارالحکومت کراچی سمیت اندرونِ سندھ لاڑکانہ، حیدرآباد،ٹھٹہ،نوابشاہ، سکھر،خیرپور، ٹنڈومحمدخان ، بدین اور کئی دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے بڑی شدت سے محسوس کئے گئے ہیں اور اس کے بعد بعض علاقوں میں 5.9شدت کے اَفٹر شاکس آنے کے بھی اِطلاعات ہیں ادھر چیف میٹرولوجسٹ محمدریاض نے میڈیاکو بتایاکہ چونکہ یہ بڑازلزلہ تھا اس لئے پندرہ سے بیس دنوں تک مزید اَفٹرشاکس آنے کے اِمکان کوبھی ردنہیں کیاجاسکتا جبکہ گوادرسے موصولہ اِطلاعات یہ بھی ہیں کہ زلزلے کے بعدوہاں ساحل سمندر سے ایک ڈیڑھ کلومیٹرکے فاصلے پرسمندرمیں ایک پہاڑی نماء جزیرہ اُمڈ آیاہے جس کی لمبائی کم وبیش سوگزجبکہ اُونچائی تیس سے چالیس فٹ تک بتائی جاتی ہے اور یہ عوام کی دلچسپی کامرکزومحوربناہوا ہے تاہم کہاجارہاہے کہ اس سے گوادرپورٹ کسی طرح متاثر نہیں ہوگا۔میڈیارپورٹس کے مطابق زلزلے میں بلوچستان کا علاقہ اَواران سب سے زیادہ متاثرہواہے جہاں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک چالیس سے زائد افراد لقمہء اجل بنے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں ریسکیوذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہونے کے ساتھ تاریخی عمارات متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جبکہ لباش گاؤں میں لیویزکیمپ کو بھی شدیدنقصان پہنچاہے کمشنر گوادراور ایڈیشنل کمشنراَواران کے مطابق علاقے میں کچے مکانات شدیدمتاثرہوئے ہیں دیکھاجائے تو کچے مکانات غریب لوگوں کے ہوتے ہیں پشتوکامشہورمقولہ ہے کہ کانڑے زی اؤ د یتیم پہ سر پریوزی یعنی اٹھتاہواپتھر ہمیشہ غریب پر آگرتاہے حادثاتی واقعات ہویا قدرتی آفات غریب لوگوں کا متاثرہونا تومعمول کی بات ہے ۔22ستمبرکوبڑے پیمانے پر قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، ملک وقوم کی بدنامی اوردیگر ناقابل تلافی نقصان کاسبب بننے والا پشاور میں چرچ پر خودکش حملہ اور24 ستمبرکوبلوچستان میں آنے والے ہولناک زلزلے کے واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں کہ ملک کے منتخب وزیراعظم بیرون ملک دورے پر ہیں جبکہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ بھی برطانیہ میں ہیں اگرچہ وزیراعلیٰ نے سمندر پارسے انتظامیہ کو بھرپورامدادی کاروائیوں کی ہدایات جاری کردی ہیں ۔ کمشنرکوئٹہ نے ڈویژن کے پانچ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کیاہواہے۔پاک آرمی ،پولیس ،لیویزاور دیگر ریسکیوٹیموں نے امدادی کاروائیاں شروع کردی ہیں ایرا کے چیئرمین متاثرہ علاقوں کی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور زخمی افراد کو ہسپتالوں میں پہنچایاجارہاہے تاہم ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں ادویات کی قلت اور دیگر سہولیات کی کمی کا سامنا ہے ۔قدرتی آفات آتے رہتے ہیں اور زلزلے جیسی قدرتی آفت جس کی پیشگی اطلاع بھی نہیں ہوتی جانی و مالی نقصان کا ذریعہ ضرور بنتی ہے اور اس کی پیشگی تدارک کی قدرت اور استطاعت دنیاکی ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں رکھتے البتہ ترقیافتہ ممالک میں ایسے آفات اور واقعات پیش آنے پر حفاظتی تدابیر اور امدادی کاروائیوں کا
انتظام پہلے سے موجود ہوتاہے جس کے باعث نقصان کو کم کیا جاتاہے مریضوں کو طبی سہولیات اور متاثرہ افراد کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں دشواریوں کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئٹہ میں اس سے قبل بھی بڑے بڑے زلزلے آئے ہیں آٹھ اکتوبر2005کا زلزلہ بھی ہم بھولے نہیں ہیں مزید زلزلوں کے امکانات کو بھی رد نہیں کیاجاسکتا۔جبکہ ہر سال بدترین تباہ کن سیلاب جیسے قدرتی آفات بھی آتے رہتے ہیں لیکن ان سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہوتاجس کے باعث نہ تو زخمی افراد کو مناسب طبی سہولیات ملتی ہیں نہ متاثرہ افراد کو بروقت ریلیف اور جس طرح پشتو میں کہا جاتا ہے کہ پہ تڑلی جنگ کی اسونہ نہ سربیگی یعنی دوران جنگ گھوڑوں کو صحت مند نہیں بنایاجاسکتا سو ہمارے پاس سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں ہوتاحالانکہ کامیاب قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی تاریخ سے سبق سیکھتی ہے لیکن ہم ایسا کیوں کریں۔۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button