تازہ ترینکالم

تبدیلی کا سفر

haseeb ijazہمارا جس خطے سے تعلق ہےوہاں کچھ الیکشن کی منفرد اور دلچسپ روایات ہیں، کہ الیکشن مہم کی گہما گہمی میں سیاستدانوں کے بڑے بڑے جلسوں میں بڑے بڑے دعوے بڑے بڑے وعدے بڑے بڑے بینزر بڑے بڑے اشتہارات ایک سماں باندھ دیتے ہیں جبکہ عوام کا جوش و جذبہ بھی قابلِ دید ہوتا ہے گھروں پےجھنڈے،سواریوں پے جھنڈیاں، سینوں پے بیجز، محفلوں میں تذکرے،راہوں میں بیٹھے ویلے مصروفوں کے بھرپور تبصرے اور گہرے تجزیئے ۔۔۔۔ مگر الیکشن کے دن، ووٹنگ کے بعد منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ایک طرف تو شام کو پریشان حال امیدوارں کی قسمتیں اگلی صبح حلوایوں کی قسمتیں چمکا دیتی ہے، گلیوں میں سیٹیوں باجوں کا شور شرابا بازاروں میں ڈھول کی تھاپ اور بھنگڑے تو الیکشن کا مزہ ہی دوبالا کر دیتے ہیں مگر دوسری طرف شام کو چہرے پے تبسم سجائے امیدوار اگلی صبح اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہوتے ہیں مخالفین پے رات کے اندھیرے میں دھاندلی کے نت نئے الزامات کی بُچھار کر دیتے ہیں۔کئی روز تک اخبارات کے صفحات جشن و سوگ کی ملی جلی خبروں سے بھرےرہتے ہیں ۔۔۔۔۔ کہیں تو فتح کے دعویدار کئی روز کئی ہفتوں تک تو منظر سے ایسے غائب رہتے ہیں جیسے ہولی ووڈ مووی سے ایلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اِس بار الیکشن ۲۰۱۳میں روایات کے علاوہ بھی کچھ ہٹ کر دیکھنے کو ملا کراچی، خیبر پختون خوان اور بلوچستان کے کچھ اضلاع میں لبرل اور سیکولر نظریاتی سیاسی جماعتیں پے الیکشن سے قبل ہونے والے قاتلانہ حملے۔۔۔تبدیلی کا پرکشش نعرہ۔۔۔۔نئے پاکستان کی نوید۔۔۔۔۔۔۔عوام کا الیکشن کے تمام پراسس میں توقعات سے کہیں زیادہ دلچسپی کا اظہار۔۔۔۔۔ حریف سیاسی جماعت کے خلاف اخبارات اور ٹی وی پے کئی کئ منٹس کے طویل پیڈ اشتہارات ۔۔۔۔کسی نے جلسوں میں اپنے منشور پے بات کرنے کے بجائے حریف کی پگڑیاں اچھالنے کو ثواب جانا۔۔۔۔پھر الیکشن کے بعد کا منظر بھی ایک الگ ہی رنگ میں سامنے آیا کہ ہارنے اور جیتنے والے دونوں ہی دھاندلی کے الزامات لگانے لگے۔۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعلیٰ کی سی130- طیارہ کے ذریعے امدادی اشیاء فوری طور پر بلوچستان بھجوانے کی ہدایت

اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو الیکشن ۲۰۱۳نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام میں ووٹ کی اہمیت بارے  حقیقی سیاسی شعور بیدار کیا ہے  وہ دَور اتنا دُور نہیں کہ ہمیں بھول جائیں کہ جب ایک سرکاری ٹی وی چینل الیکشن کے سیاہ و سفیید  نتائج سناتا تھا اور ہم من و عن سچ مان لیتے تھے۔۲۰۰۲ کے ہونے والے الیکشن جس ڈنڈے کے سائے تلے دبی الیکشن کمیشن،عدلیہ اور نگراں حکومت کے دور میں ہوئے کسی سے پوشیدہ نہیں جبکہ میڈیا آزادی کی جانب رواں دواں تھا۔ ۲۰۰۸کے الیکشن میں بھی ایک آمر مسلط تھا جب کہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت بھی اُسی کے زیرِ اثر تھے،دھاندلی کی چیخ و پکار کرنے والوں کی آوازیں جیت کا جشن منانے والوں کے شور شرابے میں دب کر رہ گئیں تھیں, لیکن اب وقت دھیرے دھیرے بدل رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب پارلیمنٹ نے اپنی پانچ سالہ مدت ایک منتخب صدر، آزاد عدلیہ، آزاد الیکشن کمیشن، آزاد میڈیا کی موجودگی میں پوری کی ہے اور باقاعدہ طور پے باہمی مشاورت سے ایک نگران حکومت تشکیل دی گئی۔اس سارے پروسس میں فوجی کی تھاپی تو رہی مگر بوٹوں کی تھاپ سنائی نہیں دی۔اس لئے اس الیکشن کو تاریخی کہا جا سکتا ہے جس میں سیاستدانوں نے فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کوتسلیم بھی کیا ہے جسیے "صدر زرداری نے میاں نواز شریف کو جیت پر مبارکباد دی”، "ہم سندھ اور کے پی کےمیں جیتنے والوں کا منیڈیٹ قبول کرتے ہیں: نواز شریف”، "ہارنے والے شکست تسلیم کریں یہ ہی جمہوریت کا تقاضہ ہے: قائم علی شاہ”، "جہاں ہار گئے وہاں دھاندلی،جہاں جیت گئے وہاں الیکشن شفاف، کو نہیں مانتے ،انتخابات کے نتائج قبول کرتے ہیں: اسفندیار ولی”، "ہم شکست تسیلم کرتے ہیں: مخدوم امین فہیم”، "مجموعی طور پر الیکشن شفاف ہوئے مگر کچھ جگہ سے تحفظات ہیں، لیکن ہم شکست قبول کرنے اور نتائج تسلیم کرتے ہیں، چوہدری شجاعت”، "مسلم لیگ کا مینڈیٹ کھلے دل سے تسیلم کرتے ہیں: الطاف حسین”، "تحریک انصاف کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، بدیانتی نہیں کر سکتے: شہباز شریف”، عمران خان کی نتائج تسلیم نا کرنے کی ضد اسوقت دم توڑ گئی جب نواز شریف نے شوکت خانم ہسپتال میں انکی عیادت کی اور کامیابی کی مبارکباد دی اور وصول کی،مگر بیکوقت فکرمندی اس میں ہے کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کوکراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی سے, تحریک انصاف ،مسلم لیگ (ق)اور پیپلز پارٹی کو پنجاب میں مسلم لیگ(ن) سے،جے یو آئی ایف ،مسلم لیگ(ن) کے علاوہ کچھ آزاد امیدوارکو کے پی کے میں تحریک انصاف سے اور اب تو مسلم لیگ کو بھی سندھ میں اپنی حریف جماعتوں سے الیکشن رزلٹ کے حوالے سے تحفظات ہیں،بلوچستان بھی بمع ثبوت و شواہد کچھ ایسی ہی منظر کشی کر رہا ہے،عجب ماجرہ ہے قانونی اور آئینی طریقہ کار کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں اورادارے پے دباؤ بڑھانے کے لئے یومِ سیاہ، دھرنوں ،جلسوں،الیکشن کمیشن کا گھیراو اور الٹی میٹم دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جو کے وقت اور حالات کے تقاضوں کے عین برعکس ہے اگر زبردستی کا مطالبہ کسی کا مان لیا جائے تو اسے جواز بنا کر سبھی کواپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کا حوصلہ ملے گا اسطرح انتشار و فساد کو مزید ہوا ملے گی۔ری پولنگ ،ری کاونٹنگ ،فنگر پرنٹس ویریفکیشن وغیرہ وغیرہ مطالبات کا حل سڑکوں کے بجائے الیکشن کمیشن کے پاس تلاش کرنا ہی جمہوریت کی بقاء اور پاکستان کی خوشحالی کیلیے بہتر ہو گا ،فی الفور پارٹی قائدین الیکشن کمیشن کے فیصلے کو حرفِ آخر ماننے کیلئے مشترکہ حکمت عملی لے کر سامنے آئیں ،اورایک دوسرے کومینڈیٹ کو تہہ دل سے تسلیم کر کے جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں،اور عہد کریں کہ آئندہ مل بیٹھ کر کوتاہیوں،غلطیوں اور کمی کا سدباب کریں گے، عوام کو بھی احساس کرنا ہو گا کہ کسی نے باہر سے آکر ہمارے مسائل حل نہیں کرنے، یہ سیاستدان جیسے بھی ہیں ہمارا اثاثہ ہیں اور اللہ نے ہمارے وطنِ عزیز کے مقدر کا فیصلہ انہیں کے ہاتھوں میں لکھا ہوا ہے اگر ہمارا موقف اور رویہ انہیں ایک دوسرے سے دور کر دے گا تو ہمیں ایک دوسرے کے قریب کون لائے گا؟ کیسے نظام بدلے گا؟ کیسے خوشحالی کا سفر شروع ہو گا؟الیکشن۲۰۱۳ اگرحسبِ معمول صاف شفاف نہیں بھی ہوئے تو کم از کم غیرحسبِ معمول اِسکے حقائق تو صاف شفاف دیکھنے کو ملے،یہ بات خوش آئند ہے کہ عوام نے جرات کا مظاہرہ کر کے دھاندلیوں کی نشاندئی کی اور آزاد میڈیا نے  اِسے بے نقاب کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور جبکہ مستقبل میں ان شکایات کے ازالے کے لئے تجاویز بھی سامنے آرہیں ہیں یہی یہ وہ تبدیلی کا پودا ہے جسکا بیج الیکشن سے قبل نوجوان نسل نے بویا تھا اور آج وہ تمام زمینی شدتوں کو چیرتا ہوا ابھر چکا ہے جسکا پھل انشاءاللہ آنے والیں نسلوں کا مقدر ہو گاnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker