امجد قریشیتازہ ترینکالم

تبدیلی کا عمل اپنی ذات سے شروع کریں

amjadالیکشن کی گہماگہمی ختم ہوچکی بہت وعدے ٗبہت نعرے سننے کو ملے لیکن اللہ کے کرم سے الیکشن والے دن تقریباً پورے پاکستان میں امن و امان کی فضاء قائم رہی سوائے چند اکا دکا واقعات کے جس کا کریڈٹ قانون نا فذ کرنے والے ادارے ٗافواج پاکستان کو جاتا ہے نگران حکومت کو میں اس کا کریڈٹ کسی طور بھی نہیں دینا چاہوں گا کیونکہ میرے نزدیک اس سے زیادہ نکمی نگران حکومت پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزری ہوگی جس کے دور میں کسی ایک بھی بحران پر قابو پایا ہو بلکہ جب سے نگران حکومت قائم ہوئی ہے جو بحران ملک کو درپیش تھے اُس میں دو سو گنا اضافہ ہوگیا اور عمل ندارد خاص طور پر بجلی کا بحران اپنے پورے عروج پر ہے لیکن نگرانوں کو کوئی پرواہ ہی نہیں وہ صرف اپنے مقاصد پورے کرنے میں لگے ہوئے ہیں مقاصد کیا کہ دھڑا دھڑقواعد کی رُو سے ہٹ کر تبادلے کیئے جا رہے ہیں من پسند افراد کو عہدوں سے نوازا جا رہا ہے اور کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے تحت تمام پرکشش عہدے او ر مراعات اپنے قریبی رشتہ داروں اورفقاء میں تقسیم کی جارہی ہیں ۔مرے کو مارے شاہ مدار ایک تو بجلی نہیں دوسرا بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔خیر نگرانوں پر زیادہ بات کرنا میرے نزدیک وقت ضائع کردینے کے ہی مترادف ہے جیسا کہ میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے نکما نگران سیٹ اپ اِس مری ہوئی قوم پر مسلط کیا گیا تاکہ جو تھوڑی بہت سانس چل رہی ہے وہ بھی بند ہوجائے ۔

چلیں کچھ ہی دن کی بات ہے نئی حکومت بھی اقتدار سنبھال لے گی پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔وفاق میں تویہ بات 12مئی کو ہی واضح ہوچکی تھی کہ اس بار حق حکمرانی میاں نوازشریف صاحب کو ہی ملے گا ۔اور بارہا اخبارات کی شہ سرخیاں اور نیوز چینلزپر یہی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ 100 دنو ں میں عوام کو حقیقی ریلیف ملے گا جو کہ عوام خود دیکھے گی اور میاں صاحب نے ان تمام بحرانوں سے نمٹنے کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو ابھی سے اپنی سفارشات تیار کر رہی ہے تاکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو اچھی خبریں سننے کو ملیں جس میں بجلی کے بحران میں نمایاں کمی کی نوید بھی شامل ہے۔مگر ایک بات سمجھ نہیں آتی بجلی کی بحران کی کمی میں کس قسم کی تبدیلی واقع ہوگی ؟کیونکہ اس وقت ملک کے یہ حالات ہیں کے 20 سے 22 گھنٹے بجلی موجود نہیں ہوتی اور جب اتنا سنگین بحران نہیں تھا تو شہری علاقوں میں زیادہ سے زیادہ 6 سے 8اوردیہی علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے بجلی جاتی تھی یہ ایک مستقل روٹین تھی جو گزشتہ حکومت سے چلی آرہی تھی کبھی کبھی یہ بحران شدت اختیار کرجاتا تھا مگر پھر کچھ دنوں بعد صورت حال معمول کی لوڈشیڈنگ پر آجاتی تھی ۔تو کیا میاں صاحب اس معمول کی لوڈشیڈنگ کے اوقات میں نمایاں کمی کرکے عوام کو خوشی کی نوید سنائے گے یا20 سے 22 گھنٹے ختم کرکے وہی پرانی روٹین کے مطابق 6 سے8 گھنٹے والی مصیبت مسلط کردی جائے گی اور بھولی عوام ہمیشہ کی طرح خوش ہوکر بیٹھ جائے گی ۔نمایاں کمی یہ ہوگی کے شہری علاقوں میں 3اور دیہی میں 4گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا جائے اایسا کیا جاسکتا ہے اگر بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو اُن کی رقوم کی ادائیگی وقت پر کردی جائیں اور جلد سے جلد تمام منصوبوں کو پایہ تکمیل کر کے اس بحران سے نجات حاصلکرنے کی حقیقی سعی کی جائے ۔خیر لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر قلم کی پابندی اجازت نہیں دیتی لیکن تبدیلی ہمارا مقدر کبھی نہیں بن سکتی جب تک ہم خود اپنے آپ کو تبدیلی کے قابل نہیں بنا لیتے اس کیلئے ہمیں اپنی تمام ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھنا ہوگا ۔
میں سمجھتا ہو کہ تبدیلی اگر ’آرڈر‘ پر تیار کرنیکی چیز ہوتی ، یا ایک دوسرے کو طعنے اور کوسنے دینے سے برپا ہوجایا کرتی، یا خواہش اور آرزو پر منحصر ہوتی تو بڑی دیر سے رونما ہوچکی ہوتی۔ صلاحیت، محنت، دین کی حقیقت کا صحیح ادراک، باطل کی حقیقت سے آشنائی، مومنوں کیلیے نرمی اور کافروں کیلیے سختی کا مظہر بننا… اِس مطلوبہ عمل کی ناگزیر ضرورتیں ہیں۔
صاف سی بات ہے قوم کو ظلم کے اِس نظام سے نجات دلانے کیلیے کسی کے پاس بھی طلسمی حل نہیں ہے۔ قوم کے ایک معتدل حصے کو اس کام کے لیے ہلائے جلائے اور اٹھائے بغیر یہاں کوئی راستہ نہیں ہے۔ نہ بندوق اس مسئلے کا حل ہے اور نہ لاٹھی۔ محض تقریروں ، درسوں، وعظوں اور خطبوں سے یہ ہدف حاصل ہونے والا ہے اور نہ بیلٹ بکسوں کی راہ سے۔ اس کیلیے آپ کو سماج میں اترنا ہوگا اور اس کیلیے ایک خالص ایمانی بنیاد اختیار کرنا ہوگی۔ نہ کسی تنظیم کی دعوت اور نہ کسی لیڈر کی پروجیکشن اور نہ کوئی سیاسی لہجے۔ اس کیلئے خالص ایمانی اسلوب۔ اللہ اور یوم آخرت کی تذکیر، نجات کی دْہائی اور باطل سے دامن کش ہوجانے اور شرک سے بیزاری اختیار کرلینے ایسے بے ساختہ قرآنی نبوی موضوعات اس کا حل ہیں۔
تبدیلی کے داعیوں کو یہ گھاٹی بہرحال چڑھنا ہوگی۔ اِس گھاٹی کے چند ابتدائی مراحل بظاہر اس قدر تنگ ہیں گویا گزرنے کا راستہ نہیں ہے۔ البتہ تھوڑا آگے جاکر یہ راستہ حیران کن حدتک کھلا ہوجاتا ہے۔ قوم کا ایک بڑا حصہ ایسی کسی نجات دہندہ جمعیت کا بڑی دیر سے منتظر ہے۔ قوم کی حالت اْس بچے کی طرح ہے جو اپنی بھوک اور پیاس نہ بتاسکتا ہویا جو اپنی بھوک اور پیاس کا مداوا کرنے سے قاصر ہو اور اس کیلئے کسی ’بڑے‘ کی راہ تک رہا ہو۔ یہ زخموں سے چْور اور جذبوں سے لبریز قوم بھی یہاں صرف کسی ’بڑے‘ کی راہ تک رہی ہے۔ اسکا ’’بڑا‘‘ وہ ہوگا جو اسکی بات سمجھے اور اسکو اپنی بات سمجھائے
اگر پاکستان کو بدلنا ہے تو پہلے خود کو بدلواگر ہمارا منشور اصلاح نفس اور خود احتسابی ہو جائے تب پاکستان میں آئین اور اسلام کی بالا دستی قائم ہوجائے گی،
ہم سب کو تبدیل نہیں کرسکتے مگر کوشش کرسکتے ہیں، فرق پڑتا ہے، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو ، یہ معمولی فرق ، بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے
جو بھی حکمران آتا ہے وہ قوم کا عکس ہوتا ہے، قوم جیسی ہو ویسے ہی حکمران آتے ہیں، اگر قوم ، جھوٹ بولنے سے کم تولنے سے سود کھانے سے باز نہیں آتی تو، حکمران بھی جھوٹ بولنے والے اور دھوکہ دینے والے، ڈاکو لٹیرے آتے ہیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے، جو اٹل ہے۔سو جب تک اپنے آپ کو ٹھیک نہیں کروگے تو اس حکومت سے بھی کوئی توقع مت رکھنا ۔
اصل تبدیلی انسان کے اندر کی تبدیلی ہے ، وہ فیصلہ کرے کہ میں نے خود کو تبدیل کرنا ہے، تبدیلی آجائے گی۔
تو آئیں، تبدیلی کا عمل اپنی ذات سے شروع کرتے ہیں۔
note
یہ بھی پڑھیں  سپریم کورٹ:اسلام آباد کو محفوظ بنانے کا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker