تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

تبدیلی کی جانب گامزن عمران خان کے نئے فیصلے

اس میں توکوئی شک نہیں کہ عمران خان دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہنے اور اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی داغ بیل ڈال کر عملی سیاست میں قدم رکھنے سے لے کراب تک نظام میں تبدیلی کانعرہ لگاتے سنائی اور دکھائی دیئے ہیں۔کوئی شک اس بات میں بھی نہیں کہ لگ بھگ اٹھارہ سال کے اپنے سیاسی سفرمیں عوام کوقائل کرتے اوراپناہمنوابناتے ہوئے آج وہ اپنی جماعت کو جس پوزیشن پر لے آئے ہیںیہ کسی بھی طرح آساں کام نہیں۔کہتے ہیں کوششیں اکثربارآورثابت ہوتی ہیںیہی وجہ ہے کہ پچھلے الیکشن میں عوام نے ان کی قیادت اورپارٹی منشورپرغیرمعمولی اعتمادکااظہارکیاجس کے نتیجے میں آج ان کی جماعت ملک کے ایک اہم صوبے خیبرپختونخوا پربرسراقتدارہے اور اپنے تواپنے بدترین سیاسی مخالف قوتیں بھی عمران خان کی صلاحیت اورغیرمعمولی سیاسی جدوجہد کی معترف ہیں جبکہ اگر انہوں نے اپناقبلہ درست نہیں کیاتوآنے والاوقت تحریک انصاف کاہی ہوگا یہ احساس اور ادراک کئی بارملک کے طول وعرض پرحکمرانی کرنے والی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نوازجیسی سیاسی جماعتوں کو بھی ہے۔ لیکن جہاں ایک حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخواکی حکومت نہیں بلکہ عمران خان اور ان کی جماعت کی منزل اسلام آباد کے اقتدارتک رسائی ہے وہاں اس بات کونظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ اسلام آباد تک ان کی رسائی کاانحصار خیبرپختونخوا میں ان کی قائم حکومت کی کارکردگی پرہوگا۔اگرچہ جب سے خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت تشکیل پائی ہے اب تک وزیراعلیٰ پرویزخٹک اورصوبائی وزراء بس یہی کہتے آرہے ہیں کہ تبدیلی آئے گی،صوبائی حکومت انقلابی اقدامات اٹھارہی ہے اور عوام بہت جلد تبدیلی دیکھیں گے ۔یہ اور بات ہے کہ تبدیلی کی دُم اور سینگ توہوتے نہیں اور اگرتبدیلی تعبیرہوتی ہے ترقی کے حصول سے تو صوبائی حکومت تاحال کسی بھی شعبے میں ایسی کوئی بھی قابل ذکرتبدیلی لانے سے قاصررہی ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے تبدیلی کے دعوے تووجودنہیں پاسکے تاہم اب میڈیاکے ذریعے تازہ موصولہ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے خیبرپختونخواحکومت کی صوبائی کابینہ میں ردوبدل کرناناگزیرقراردیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کی مثالی خدمت کے لئے صوبائی وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔مختلف اراکین کی جانب سے پولیس اور بیوروکریسی میں تقرریوں اورتبادلوں کی کوششوں سے متعلق معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان نے واضح کیاہے کہ مذکورہ رویہ یکسر ناقابل قبول ہے کیونکہ عوام نے تحریک انصاف کوتبدیلی لانے اور نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے منتخب کیاہے جس سے انحراف کسی صورت ممکن نہیں۔15مارچ کو وزیراعلیٰ پرویزخٹک ،تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کے ساتھ ملاقات کے موقع پر عمران خان نے مزیدیہ کہاہے کہ تحریک انصاف مثالی طرزحکومت پرمکمل یقین رکھتی ہے اوراقرباء پروری سمیت بیوروکریسی اور پولیس میں کسی قسم کی مداخلت اوراپنے عوامی نمائندوں کی جانب سے معمولی سی بدعنوانی بھی اس کے لئے ناقابل قبول ہے۔مختلف شعبوں میں اصلاحاتی ایجنڈا آگے بڑھانے پر صوبائی حکومت کی کاوشوں کوسراہتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ جب تک بدعنوان سیاسی اور انتظامی ہتکھنڈوں کے خلاف دانستہ مؤثراقدامات نہیں اٹھائے جاتے تب تک تبدیلی کاپروگرام ادھورارہے گا۔عمران خان کامزید کہنایہ تھاکہ انہوں نے سترہ برس تک تبدیلی کے لئے مثالی جدوجہد کی ہے چنانچہ وہ کسی صورت بھی تحریک انصاف کو دیگرروائتی سیاسی جماعتوں کی طرح بنناپسندنہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کو اسٹیٹس کو کی جماعت بننے کی بجائے حزبِ اختلاف کے بنچوں پر بیٹھناان کے لئے قابِل قبول ہوگا۔اہم بات یہ بھی ہے کہ چیئرمین عمران خان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی جانچنے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے ساتھ مل کر صوبائی وزراء کی آئندہ تین ماہ کی کارکردگی کاخود جائزہ لیں گے۔دیرآیددرست آیدکے مصداق اگر اتنی دیر کے بعد بھی انہوں نے اس ضرورت کااحساس کرلیاہے جس کاذکر سیاسی امور کے ماہرین خیبرپختونخواحکومت کے قیام سے لیکراب تک کرتے آرہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے اور ممکن ہے کہ ان کے ایساکرنے سے صوبائی حکومت کی کارکردگی بہتر بھی ہوجائے ورنہ صوررتحال یہ ہے کہ نہ صرف اپوزیشن جماعتیں اور اسمبلی میں بیٹھے حزبِ اختلاف کے اراکین تحریک انصاف کے وزراء اورممبرانِ اسمبلی پر کرپشن اور بے قاعدگی وبے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں بلکہ اب توخود عمران خان نے بھی پولیس اور بیوروکریسی میں اپنے منتخب ممبران کی جانب سے تقرریوں اور تبادلوں میں ملوث ہونے کا حوالہ دیاہے۔ہمارے موجود ہ نظام میں کئی خرابیاں ہیں اس حقیقت کورد نہیں کیا جاسکتااور نظام میں تبدیلی لانا ناگزیرعمل بھی ہے شائد تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی بھی اسی تبدیلی کے نعروں ،دعوں اور وعدوں کی بدولت تھی ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک کی جانب سے انتخابات سے قبل اور بعدازالیکشن عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے اب عملی اقدامات اٹھائے جائیں جس سے ترقی کے آثارنمودارہونے کے ساتھ قائم یہ عوامی تاثر بھی ختم ہوکہ تحریک انصاف کہتی توہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتی یایہ کہ کہتی کچھ اور کرتی کچھ ہے۔صوبائی حکومت نے چند ماہ قبل بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کی خصوصی مہم چلائی اگرچہ بچوں کوداخل کرانے کے حوالے سے تویہ مہم کامیاب رہی لیکن تعلیمی اداروں میں کمر

یہ بھی پڑھیں  سرحدی کشیدگی پر چین کا پاکستان اور بھارت سے رابطہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker