تازہ ترینکالممحمد ریاض پرنس

تبدیلی اور مہنگائی کا بڑھتا ہواطوفان

ہائے ہائے تبدیلی کو کس نے نظر لگا دی۔آخر کیا قصور تھا ہمارا۔تبدیلی کیوں نظر نہیں آرہی۔ کب یہ تبدیلی آئے گی۔کب مہنگائی اوربے روزگاری کا خاتمہ ہو گا۔بابا جی اپنے پرانے دور کے دوستوں سے گپ شپ لگا رہے تھے میں بھی ان کے پاس بیٹھا ان کی باتوں سے معضوض ہو رہا تھا۔ان کی باتوں سے یہ ضرور نظر آ رہا تھا کہ اب گھر کوچلانا کتنا مشکل ہے۔گھر کی سبزی سے لے کر بل بجلی بچوں کی سکول فیسیں ادا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔گھر کا کچن چلانا اب ایک نچلے طبقے کے بس کی بات نہیں۔ وہ سب دوست اپنے دور کی باتیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے تھے کہ ہمارے دور میں یہ یہ ہوتا تھا۔ بات ان کی بھی ٹھیک ہے وہ دور بہت اچھا تھا خالص ہر چیز مل جاتی تھی۔اب تو خالص نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ملاوٹ اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اس نے ہماری زندگیوں کو تباہ وبرباد کر دیا ہے۔روزمرہ ضروریات کی تمام اشیاء ملاوٹ شدہ ہیں۔اب عوام نے گھبرانا شروع کر دیا ہے۔ویسے اگر عمران خان قتدار سنبھالنے سے پہلے اپنی ٹیم کا انتخاب اچھے طریقے سے کر لیتے تو شاید آج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ اگر ٹیم اچھی نہ ہو تو میدان میں اترنا کہاں کی عقل مندی ہے۔اور پلیرز بھی مانگے تانگے کے ہوں تو ان پر کسی قسم کی امید رکھنا کہ یہ میدان مار لیں گے بہت بڑی بیوقوفی ہے۔ بات سمجھ سے باہر ہے ملک کو لوٹا بھی جار ہا ہے، کرپشن بھی ہو رہی، قتل وغارت بھی ہورہی ہے،ہماری بچیاں بھی محفوظ نہیں۔غریب مر بھی رہا ہے۔ڈگریاں والے خود کشیاں کر رہے ہیں۔والدین بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا کر رہے ہیں۔ڈاکے راہ زنی سب ہر طرف عام ہو گئے ہیں۔ ہم محفوظ بھی نہیں رہے۔مہنگائی اور بے روزگاری نے ہمارے گھروں کے چوہلے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ہم اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھریں۔ڈاکے ڈالیں یا خودکشیاں کریں۔وزیر اعظم صاحب آپ پر ہم کو بہت سی امیدیں ہیں مگر یہ نہ ہو کہ ہماری ساری امیدیں خاک میں مل جائیں۔اور ہم یہ نہ کہیں کہ آخر یہ تبدیلی والے ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں کون سے جرم کی سزا پائی ہے جو اس کی سزا مل رہی ہے حالات یہ ہو گئے ہیں کہ جن کے گھر کا خرچہ دس ہزار تھا وہ اب بیس ہزار سے بڑھ گیا ہے ہر روز کی نئی نئی پالیسیز کی وجہ سے غریب کا چولہا بھی نہیں ٹھنڈا ہونا شروع ہو گیا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے ملک کے اندر اتنے وسائل موجود ہونے کے باوجود ہم بے روزگاری اور مہنگائی کا شکار کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔بے روزگاری نے اس وقت ہمارے ملک کو گھیرا ہوا ہے اس سے ہم بچنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر بچ نہیں سکتے۔اس لئے کہ دن بدن مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گھر کو چلانے کے لئے تما م اشیاء ضروریات اس قدر مہنگی ہو گئی ہیں کہ ان کو خریدنا اور گھر کا چولہا چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔اس مہنگائی کو بڑھنے میں مدد کون کرتا ہے۔آپ کو شاید پتہ ہو مگر پھر بھی میں آپ کو بتانے اور سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں پہلی بات جن اداروں سے ملک کو چلانے کے لئے قرضے لیے جاتے ہیں ان کی شرائط میں ہوتا ہے کہ بجلی مہنگی کر دو،پٹرول مہنگا کردو،فلاں چیز مہنگی کر دو۔اور ہمارے نمائندے ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ نہیں پتہ کہ جو قرضہ ہم ان سے لے رہے ہیں اس پر ان کو سود بھی دے رہے ہیں۔ تو پھر ان کی شرائط کو کیوں مانا جائے۔دوسری بات جس ملک کو چلانے کے لئے سود حاصل کیا جائے وہ ملک کس طرح چل سکتا ہے۔ آپ ہی بتائیں سود کے پیسے سے چلنے والا کاروبار کبھی کامباب ہوا ہے۔ آگے آپ سب جانتے ہیں کون کیا کررہا ہے اس ملک کے ساتھ۔تیسری بات ہمارے ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے ملک میں مہنگائی بے روزگاری کو ختم کرنے کے ذرائع میں کمی ہے۔اگر کسی چیز میں کمی ہے تو ہماری سوچ اور بھوک میں، جو کبھی بدلتی ہی نہیں اور مٹتی بھی نہیں۔ جتنا مرضی کمیشن ہم کھا لیں میری بات آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں آپ کو کیا سمجھانا چاہتا ہوں۔
تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اب کہاں ہیں جو کہتے تھے ہم پاکستان کو ترقی کی رہ پرگامزن کریں گے ہم غریبوں کو وسائل دیں گے۔ غریبوں کے بچے اقتدار میں آ کر ملک کو سنبھالیں گے۔جیسے ہی کرسی ملی سب کی ہوا نکل گئی۔باتیں کرنے سے تبدیلی نہیں آتی اس پر عمل کریں گے تو تبدیلی آئے گی مگر تبدیلی والوں کو کیا ڈالر کی اڈان یا ملکی روپے کی تذلیل ان کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔جب تک ان کی پالیسیز بنیں گی تب تک کئی غریب غربت کی وجہ سے مر جائیں گے ایسی پالیسیز بنائی جائیں جس میں سب کو یکساں فائدے میسر ہوں لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں۔ ہمارے ملک کے اندر اس قدرقدرتی وسائل موجود ہیں کہ اگر ہم نیک نیتی سے ان پر کام کریں اور بے روزگاروں کو ان پر لگائیں تو ہمارے ملک سے بے روزگاری اور مہنگائی سے جان چھوٹ سکتی ہے۔مگر ایسا یہ لوگ کریں کیوں۔اگر ان لوگو ں نے غریب کو خوشحال دیکھ لیاتو ان سیاستدانوں کا کیا بنے گا جو غریب کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ان کو تو ضرورت صرف ان کے ووٹ کی ہے۔اور ان خداؤں کو پوجے گا کون۔اگر یہ لوگ اپنی سوچ بدل لیں تو ہمارے ملک کا کچھ بھلا ہو سکتا ہے۔عمران خان صاحب کب تک یوٹرن لیں گے۔کبھی اپنی کسی بات پر قائم بھی رہا کریں شاید اسی سے ملک کا بھلا ہو جائے۔آپ کے یوٹرنز نے ملک و قوم کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔خدارا ملک کی غریب عوام کے بارے میں سوچیں۔جو آپ پر بہت سے امیدیں وابستہ کر کے بیٹھے ہیں۔ان کا آپ کا یوٹرن نہیں چاہئے بلکہ ان کے معاشی حالات بہتر ہونے چاہئے۔ تاکہ ایسا نہ ہو۔ایک غریب کو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے ان خداؤں کے لئے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ان زمینی خداؤں کے لئے چور،ڈاکوبننا پڑتا ہے۔تاکہ اس کو اپنے بچوں کے لئے کھانا مل سکے۔مگر ہم چپ ہیں اور ہم سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ کر نہیں سکتے۔اس لئے کہ اگر ہم نے کچھ کہہ دیا تو کہیں ہمارا کھاناپینا بند نہ ہوجائے۔زمینی خداؤ اگر آپ کسی کو کچھ دے نہیں سکتے تو کیوں غریبوں کے بچوں سے نوالہ چھینتے ہو۔کب تک ایسے کرتے رہوگے۔اور آخر کب تک یہ ظلم ہو تا رہے گا۔ملک کے اندر تمام اسٹاک ہولڈرز کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ یہی لوگ ملک کے معاشی حالات خراب کرتے ہیں۔
عمران خان صاحب تبدیلی یوٹرنز سے نہیں بلکہ ملک کے حالات ٹھیک کرنے سے آئے گی۔اوراگر حالات اس طرح ہی رہے تو بے روزگاری،مہنگائی اور غربت میں اضافے کو روکنا ہمارے بس سے باہر ہو جائے گا اور ہم تنگ دستی،بے روزگاری اور غربت میں ڈوب جائیں گے۔ ہمارے ملک کے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔اگر حکومت نے بے روزگاری،مہنگائی اور غربت کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی اچھی حکمت عملی تیار نہ کی تو حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔اور تبدیلی کا نعرہ ملکی خوشحالی اور ترقی کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  پھولنگر: صحافی علامہ احسان الہی ظہیر کے والد شیخ محمد رفیق ہارٹ اٹیک سے انتقال کرگئے

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker