تازہ ترینصابرمغلکالم

تبدیلی آ چکی ہے؟؟؟

sabir1933میں چوہدری رحمت علی نے عظیم وطن کا نام ۔پاکستان ۔تجویز کیا،انہوں نے بر صغیر سے تعلق رکھنے والے طلباء پر مشتمل ایک تنظیم پاکستان نیشنل لبریشن فرنٹ قائم کی ،اسی سال انہوں نے دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنا مشہور کتابچہ Now or Never(اب یا کبھی نہیں)پیش کیا تھا جس میں پہلی مرتبہ لفظ ۔پاکستان۔لکھا گیا تھا،پاکستان نام کے خالق پاکستان آئے تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب سکندر حیات نے)وفا داری انگریزمیں) ان پر پنجاب میں داخلہ پر پابندی لگا دی،رحمت علی 16اپریل 1948کو پاکستان آئے تو انگریزی بودوباش میں رنگی بیوروکریسی نے انہیں پاکستان نہ رہنے دیا،پاکستان کا نام دل پر سجائے علالت کے بعد وہ 29جنوری کو انگلستان میں انتقال کرگئے جنہیں اپنے وطن کی بجائے کیمرج کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا،لاہور کے منٹو پارک میں 23مارچ1940کو نظریہ پاکستان قوم کے سامنے پیش کیا گیا،وہیں اب یاد گار پاکستان کے نام سے ۔مینار پاکستان ۔بلکتی سلگتی اور بے بس عوام کو دیکھ رہا ہے،اب 23 مارچ ہمارا یوم پاکستان ہے،14اگست1947کو بر صغیر میں بسنے والوں کو الگ وطن کی نوید ملی،تحریک پاکستان کے نعرے ۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ ا اللہ ۔پر قائم ہونے والی جمہوری ریاست1956تک ایک مخصوص طبقہ اور مفاد پرست ٹولہ کے ہاتھوں بغیر آئین اور قانون کے چلتی رہی،کئی ادوار آئے ،سینکڑوں نعرے عوام نے سنے،ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دے کر ان کے دلوں میں گھر کیا،یہ الگ بات ہے کہ ان کے بعد آنے والے پی پی پی کے والی وارثان نے سب سے زیادہ عوام کو ۔روٹی کپڑا اور مکان ۔سے ہی محروم کیا،میاں نواز شریف کی صورت میں بھی مسیحا اس دھرتی پر فوج کے ہاتھوں منظر عام پر آیا مگر ذاتی کاروبار اولین ترجیح پایا،طویل عرصہ کے بعد آزادی کے نئے علمبردار۔عمران خان ۔نے آزادی کے نام پر نعرہ بلند کیا ان کا جو منشور تھا یا ہے اس بارے اب خدا جانے؟ عوام سڑکوں پر نکل آئی دنیا کے طویل ترین دھرنے میں ان کا ساتھ دیا،سخت موسم میں بھی عوام اسلام آباد کی سڑکوں پر رہی،دھرنے کے سامنے پارلیمنٹ کو جو نام اور خطاب دئے گئے پوری دنیا اس سے واقف ہے، آگے دنیا کی اس گھٹیا ترین جمہوریت کے لیڈران بھی لنگوٹ کس کر سامنے آگئے ، انہوں نے سب سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری کو تنہا کیا انہیں شدید خطرہ تھا کہ اگرڈاکٹر طاہر القادری نیا نظام لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے سب عزائم سب مفادات ۔لیرو لیر۔ہو جائیں گے،اس کاؤش میں عمران خان بھی کسی نہ کسی طور شامل تھے، دھرنا کے آخری دنوں حالات بتا رہے تھے کہ پی ٹی آئی کسی بھی Copmromiseکے نزدیک ہے کہ پشاور میں ایک المناک سانحہ پیش آ گیا،سینکڑوں پھول مسلے گئے تو دھرنا ختم کرنے کا اعلان ہوا ، سانحہ پشاور کی نزاکت کے باعث سیاسی رہنماء پشاور اکٹھے ہوئے تووہاں قہقہوں کی برسات شروع ہو گئی،سیاسی بحران سے نکلنے کی خوشی سفید سفید گالوں سے ٹپکتی اور چھلکتی نظر آئی،عوام کو تو کچھ نصیب نہ ہوا البتہ اسی خوشی میں پی ٹی آئی کے لیڈران اور بزرگ کارکنوں کو بھابی ،ینگ جنریشن کو ماں اور کسی کو باجی مل گئی ۔وقت نے مزید انگڑائی لی توانٹیلی جنس رپورٹس پر کراچی میں جاری آپرپشن کے دوران نائن زیرو تک بات جا پہنچی، سینٹ الیکشن بھی بدلتی سیاسی ہوا کا سبب بن گئے،کئی ماہ پر محیط چونچلوں کا نتیجہ جوڈیشنل کمیشن کی صورت میں سامنے آیا،یمن کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تو عمران خاں اپنے ارکان کے ہمراہ پاکستان کی تاریخ میں منحوس تاریخ ۔16۔ کو جعلی جمہوریت کو پروان چڑھانے والی پارلیمنٹ پہنچ گئے،16دسمبر کو پاکستان دو لخت ہوا اور 16دسمبر کو ہی پشاور میں ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں اسی طرح 16اپریل بھی پاکستانی تاریخ کا حصہ بن گیا ہے،عمران خان دوران دھرنا کنٹینر پر ٹہلنے کے بعد اپنے خطاب میں فرماتے تھے کہ ۔جتنا مزہ مجھے اس کنٹینر پر آیا ہے اتنا پوری سیاست میں نہیں ،عمران خان کو اس وقت بھی بڑا ۔مزہ۔آیا ہو گا جب پارلیمنٹ میں ان کا شاندار نرالا اور انوکھا استقبال ہوا،حکومتی ارکان نے ان پر پھول برسائے،ان کی آمد پرقہقہے ہی قہقہے،پارلیمنٹ میں جیسے جان پڑ گئی،اداس درو دیوار بھی جھوم اٹھے،ان کی آمد پر ملک بھر میں بادلوں نے رم جھم برسائی،ڈھنڈی ڈھنڈی ہواؤں نے ماہ اپریل کے موسم کو یکسر بدل ڈالا،لیکن سارا مزہ اس وقت کر کرا ہو گیا جب ایوان میں ۔شیم شیم ۔کے نعرے لگے،اجنبی اور سول نافرمان جیسے نعرے گونجے اور تو اور جن کے ساتھ چلنے کے وعدے وعید ہوئے انہی کے ذمہ دار خواجہ آصف نے یمن کے حوالے سے بلائے گئے مشترکہ اجلاس کو پی ٹی آئی کے خوش آمدیدی اجلاس میں بدل ڈالاانہوں نے اپنی تقریر کے دوران جہاں ارکان اسمبلی کی توجہ کو یکسو کیا وہیں نیوز چینلز کے ذریعے پوری قوم کو ٹی وی دیکھنے پر مجبور کر دیا،کسی کو قطعاً توقع نہیں تھی کہ خواجہ آصف پی ٹی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے۔اسی ایوان کو گالیاں دینے والے آ کر بیٹھ گئے ہیں انہیں شرم کرنی چاہئے تھی،لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے ارکان کو کہا کہ یہ قومی مجرم ہیں ایوان کی تذلیل پر معافی مانگیں،شیخ رشید دور کی کوڑی لائے اور مانتے ہوئے کہا کہ۔عمران کو منصوبے کے تحت ذلیل کیا گیا صلع کر کے مارنا نواز شریف کی سیاست ہے۔شیخ رشید کا یہ بیان بلا تبصرہ ہے۔اس تاریخی عزت پر عمران خان اٹھ کر ایوان سے باہر نکل گئے اور میڈیا کے سامنے بھڑاس نکالی کہ ۔خواجہ آصف نے اپنا اور پارٹی کا وقار مجروع کیاہے،اسے ہتھکنڈوں سے تحریک انصاف اور مضبوط ہو گی(عمران خان کو چاہئے کہ ایسے کاموں میں اور تیزی لائیں جس سے پی ٹی آئی مزید مضبوط ہو؟)،عمران خان نے میاں نواز شریف کی خواجہ آصف کے بیان پر خاموشی کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان کی موجودگی میں خواجہ آصف نے جو زبان استعمال کی وہ کوئی تلنگا بھی استعمال نہیں کر سکتا،انہوں نے مجھے ذلیل کیااور اپنی اوقات دکھائی،حکومتی رویہ قابل افسوس ہے،کیسی عجب بات ہے کہ جس اسمبلی میں خان صاحب گئے اس پر اسی روز پھر تبصرہ فرمادیا۔کہ اسمبلی کیسے جائز ہو سکتی ہے؟ خیر پاکستان میں گڈی گڈے کا کھیل ہمیشہ سے دکھایاجاتا رہا ہے،خواجہ آصف قومی اسمبلی میں اپنی تقریر پر ڈٹ گئے ہیں،پرویز رشیدنے عمران خان کی پارلیمنٹ آمد کو ۔تھوک کر چاٹنے کے مترادف قرار دیا ہے اوران کے دورہ کراچی پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے۔عمران خان اب حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ پڑھنے کراچی گئے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل پا چکا ہے۔نیا پاکستان بن چکا ہے جس میں سب کچھ وہی،عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر،ہسپتالوں میں چوہے،دو نمبر ادویات،کرپشن عروج پر،سڑکوں پر موت کا رقص،مسافر ذلیل و خوار،کاشتکاروں کی معاشی موت،مہنگائی آسمان پر،لاقانونیت اور کرپشن کی انتہا،ملاوٹ ہر چیز میں،مردار گوشت کی فروخت ،حرام فوڈز کی فراوانی،ترقیاتی کاموں میں 70فیصد گرانٹ ہضم،وہی وی آئی پی کلچر۔اسے کہتے ہیں تبدیلی آنی نہیں بلکہ تبدیلی آ چکی ۔میرے ہم وطنوں یہ ہی نیا پاکستان ہے اسی نظام ۔حق۔میں خود کو رہنے کا عادی بنا لو تمہاری نسلیں کسی بہتری کو ترستی شہر خموشاں میں جا بسیں اب تماری باری ہے پھر تبدیلی کے لئے سڑکوں پر نکلنے والی ینگ جنریشن کی باری ہو گی آپ کی طرح ان کی آنکھیں بھی کسی اور تبدیلی کی آس میں پتھر ہو جائیں گی،باری لینے والے باریاں لیتے رہیں گے اور تم نیم مردہ حالت میں زندگی گذارتے گذارتے اگلے جہان سدھار جاؤ گے،اقتدار کی غلام گردشوں میں بننے والے جالوں تک رسائی ہمارے بس میں نہیں ہے ۔مت کسی سیراب کے پیچھے بھاگوجو پاس ہے اسی پر قناعت کرو،یہ ماہر شکاری بڑی دور کی سوچ رکھتے ہیں ہم ان کے آگے کیا چیز ہیں،ہم میں یا ہمارے بچوں میں جتنی بھی صلاحیت ہوجتنا بھی ٹیلنٹ ہو اس پر ان کی نسلوں کا بہت بار ہے جو شاید کبھی انہیں اپنے مقام تک پہنچنے نہ دیں،اب عوام کے لئے عمران خان تازہ بیان ہے کہ سال2015الیکشن کا سال ہے۔بڑا عجیب لگ رہا ہے..

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ:مختلف واقعات میں5 افراد جاں بحق جبکہ آٹھ افراد شدیدزخمی ہوگئے

 

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker