ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

جہیز فیشن بن گیا!

انسان کے اندر لالچ اور خودغرضی کے جراثیم کا پایا جانا ایک فطری امرہے۔جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابرنہیں ہوتیں ٹھیک اسی طرح لالچ اور خود غرضی کے جراثیم تمام انسانوں کے اندر یکساں طورپر نہیں پائے جاتے۔کسی کے اندر یہ جراثیم کم ہوتے ہیں۔توکسی کیاندر زیادہ۔ہرچیزاسی وقت تک قابل قبول اور قابل برداشت ہوتی ہے جب تک وہ چیزاپنی حدودکے اندررہتی ہے۔لیکن جب کوئی چیزخواہ وہ اپنی پسندہی کیوں نہ ہواپنی حدودکوپھلانگ کر آگے نکل جاتی ہے توو ہ عوامی پسند،سماجی برائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔اور پھر عوام کا ایک بڑا طبقہ عوامی برائی کا مسلسل شکار بنتا چلا جاتا ہے۔جہیزکا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے زمانہ قدیم میں ایک باپ اپنی بیٹی کوشادی میں گھرداری کیلئے کچھ ضروری سامان دیا کرتا تھا۔اس خیال کے ساتھ کہ بیٹی اپنا گھر بسانے جارہی ہے۔جہاں اس سامان کی اس کو ضرورت ہوا کرے گی۔بعد میں باپ کے زریعے اپنی بیٹی کو دئیے گئے سامان کوجہیزکے نام سے پکارا گیا۔جب سے یہ رواج وجودمیں آیا اس وقت سے لے کر آج تک تقریبا 40,50 سال قبل تک یہ ہوتا رہا ہے کہ باپ اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بیٹی کوجہیزمیں مرضی کے مطابق جوکچھی بھی دیا اسے داماد یا اس کی فیملی نے بخوشی قبول کرلیا۔سامان کم ہونے کے صورت میں یا پھر پسند نہ آنے کی وجہ سے داماد یا پھر اس کے والدین کی زبان پر کوئی حرف شکائیت نہیں آیا۔افسوس صد افسوس کہ آج حالات با لکل بدل گئے ہیں آج ہم پہلے کی نسبت زیادہ مہذب کہلاتے ہیں،لیکن ہماری نئی اور ماڈرن تہذیب نے ہمیں پہلے کی بہ نسبت زیادہ لالچی ،خودغرض اوربے رحم بنا دیا ہے۔آج ہم نے ایک سیدھے سادھے رواج کو تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔پہلے اور آج میں فرق یہ ہے کہ پہلے باپ اپنی مرضی کے مطابق اپنی بیٹی کو جہیزدیا کرتا تھا۔اور ج باپ کی مرضی نہیں چلتی۔کل اور آج میں دوسرا فرق کہ پہلے جہیزدیا جاتا تھا اور اب جہیزلیا جاتاہے۔ہرلڑکی کا باپ آج بالکل بے بس و پریشان دکھائی دیتا ہے۔آج شادی سے پہلے سامان کی لمبی چوڑی فہرست بیٹی کے باپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ ہونے والا داماد اپنی پسند کے مطابق مختلف چیزوں کی فرمائش کرتا ہے۔بعض اوقات یہ دیکھا جاتا ہے کہ سامان طلب کرنے والا سامان طلب کرتے وقت اپنی اوقات و صلاحیت کوقطعی بھول جاتا ہے۔اور اپنی اوقات سے بہت زیادہ طلب کربیٹھتا ہے۔اکثراوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسی چیزیں طلب کربیٹھتے ہیں کہ جن کے وہ اہل نہیں ہوتے۔ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں نے زورزبردستی کرکے اپنی اوقات سے زیادہ سامان لڑکی کے باپ سے وصول توکرلیا لیکن اس سامان کورکھنے کے لئے ان کے گھرمیں جگہ نہیں ہوتی جگہ کی قلت کی وجہ سے وہ سامان کواستعمال میں نہیں لاسکتے اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سامان غلط جگہوں پر پڑے پڑے یونہی خراب ہوجاتا ہے۔دراصل موجودہ زمانے میں جہیزکے نام پر لڑکی کے باپ سے لاکھوں کا سامان وصول کرنا فیشن سا بن گیا ہے۔اور آج ہر کوئی اس جان لیوا فیشن سے سبقت لے جانا چاہتا ہے۔جہیزمیں لاکھوں کا سامان لے کر لوگ پھولے نہیں سماتے لیکن کوئی بھی اس بارے میں غور کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔کہ جہیزکے سامان کے لئے لڑکی کے باپ نے کیا کیا پاپڑ بیلے ہونگے۔سامان اکٹھا کرنے میں کیا کیا دشواریاں اسے پیش آئی ہونگی۔کیا اس
کے پاس اتنا سامان خریدنے کے لئے رقم موجود تھی اگر نہیں تو وہ رقم اس نے کہاں سے لی اور کیسے لی یہ سب سوچنے کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں۔ایک باپ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے توکرلیتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کی کوشش میں باپ کا پورا جسم پیلا کیسے ہوگیا۔اخباروں میں تقریباًً روزانہ ایسی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔کہ وعدے کے مطابق جہیزکا پورا سامان نہ دینے کی وجہ سے فلاں ساس اور سسرنے اپنی بہوکو جلا کر مارڈالایا شوہر نے اپنی بیوی کا خون کردیا۔جہیزکے ساتھ ساتھ اب تو نقد لینے کی وبا ء بھی عام ہوچکی ہے۔جس معاشرے میں جہیزکو غلط تصورکیا جاتا تھا اب اسی معاشرے میں جہیزکے ساتھ ساتھ نقد لینے کا رواج بھی پروان چڑھتا جارہا ہے۔دولت مندلوگ توبڑی بڑی رقمیں صرف کرکے من پسند داماد حاصل کرلیتے ہیں۔لیکن ایک غریب انسان کیا کرے ۔اونچا دام دے کر اچھا مال خریدنے کی بات تو سنی تھی لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب انسان کوبکتے دیکھا جارہا ہے۔یہ شائد ہمارے مہذب ہونے کا ثبوت ہے۔کاش دولت مند لوگوں نے اس جانب بھی سوچا ہوتا ان کے اس عمل سے غریب والدین پر کیا اثر پڑتا ہے۔ان غریب ماں باپ کی طرف بھی کبھی کسی نے سوچا ہے جن کی پانچ چھ بالغ بیٹیاں جوروپے کی کمی کی وجہ سے ماں باپ کے سینے پر پتھر بنی بیٹھی ہیں۔لڑکے والے جو مانگتے ہیں ان کی مانگ پوری کرنے سے غریب والدین قاصر رہتے ہیں۔غریب والدین کی بیٹیاں شادی کے انتظار میں دن گنتی گنتی بوڑھیاں ہوجاتی ہیں۔بلا شبہ جہیز جیسی رسم نے معاشرے میں ایک برائی کو جنم دیا ہے۔کچھ غریب والدین کی بالغ بیٹیاں اچھے اور سہانے سپنے دل میں بسائے گھروں سے بھاگ جاتی ہیں ۔اور اس طرح اپنے والدین خاندان کی پیشانی پر بدنما داغ لگا جاتی ہیں،کچھ لڑکیوں سے اپنے غریب والدین کی پریشانیاں دیکھی نہیں جاتیں اور جب وہ انتظار کی راہوں میں چلتے چلتے تھک جاتی ہیں تو ان کے ہاتھوں سے صبرکا دامن چھوٹ جاتا ہے اور وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں موت کوگلے کا ہار بنا کر پہن لیتی ہیں ۔اور خود غرض بے حس معاشرے پر ایک بدنما داغ چھوڑ جاتی ہیں۔اور اس اپنے غریب والدین کے سر سے شادی کے بوجھ کو ہلکا کرجاتی ہیں۔اور پھر غریب والدین اپنی بدنصیب بیٹیوں کے غم میں گھٹ گھٹ کر وقت سے پہلے ہی دم توڑ جاتے ہیں۔کوئی بھی رسم ورواج معاشرے کی بہتری کے لئے ہوتا ہے نہ کہ انسانی قدروں کوپامال کرنے اور انہیں موت سے ہمکنار کرنے کے لئے ۔آئیے ہم سب مل کر عہدکریں کہ جہیزجیسی لعنت سے معاشرے کوپاک کریں اللہ ہمیں مارے ارادے میں کامیاب کرےِ آمین ۔بشکریہ (پریس لائن انٹرنیشنل)

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو اور سرائے مغل سے چار لڑکیوں کا گن پوائینٹ پراغوا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker