شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / تبسم اور دیا اور وطن کی محبت

تبسم اور دیا اور وطن کی محبت

لاکھ سا زش ہو ں ، وہ معا شر ے اور قو میں پڑواھان چڑ ھتی رہتی ہے ، جہاں ان معا شروں اور قو مو ں کے اندر کے با شند ے وہاں اپنی صلا حیتوں سے ئنی نسل کے کھیت میں آ ب کا ری کر تے رہیں کہ حا لا ت کچھ بھی ہو اپنے وطن کے سا تھ پو ری دینا میں عز ت اور مقام ،،، کیا خو ب لکھا گیا ہے ،،،،
اپنے حصے کی شمع ضر ور جلا تے جا نا ۔۔۔۔
مزدوری کے لیے یو رپ کا رخ کیا ، دن گز رے ، بچے بڑ ھتے ہو تے ، جو لو گ اپنے ملک سے با ہر یو رپ رہتے ان کی اکثر کی تعداد یہ گلہ کر تی آ ئی کہ ہما رے بچے یو رپ کے ما حول میں ایڈ جسٹ ہو گے ہیں ،وہ پا کستان جا نا پسند نہیں کر تے ، کیو نکہ نیو ز پر سنتے رہتے ہیں کہ پا کستان کے حا لا ت ٹھیک نہیں ہیں ، والد ین بچو ں کے عجیب رویے سے پر یشان ہو تے ہیں، ان میں کچھ اس سے الگ سنے کو ملے تو تو جہ اس طر ف ضرور جا تی ہے ، حیرانگی کے سا تھ تسلی بھی ہو تی کہ آ ج کے مو جو د ہ دور میں بھی ایسا ہو رہا ہے ، فر انس میں رہنے والی پا کستا نی فیملی کی بیٹی فرا نس کے ما حو ل میں بڑی ہو ئی ، پا کستان آ نا جا نا زیا دہ ہو ا تو وہاں کے ما حول ، تہذ یب ، روایت کو دیکھتے ، اس سے متا ثر ہو ئے ، سا تھ کشمیر کے کلچر کو یو رپ میں پر ومو ٹ کر نے کے مقصد سے شا رٹ ویڈ یو بنا ئی جس میں کشمیر کی خوبصو رتی، وہاں کا کلچر ، اس ویڈ یو میں شو کیا ، اس ویڈ یو کی یو رپ بھر بہت پذ ئرائی ملی ، بہت سہرا یا گیا ، یہ محتر مہ تبسم سلیم صا حبہ جب پا کستا ن گے ، وہاں کی میڈ یا پر ان کے اس طر ح کے کام کو بہت سہرا یا گیا ، ہما رے پا کستا نیوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ جو بیرون ملک میں بیٹھ کر اپنے ملک کے بار ے گلے شکو ے کر تے رہتے ہیں ، ان کو اپنے وطن کے اندر کی خو بیوں کو دوسرے ممالک میں پر وموٹ کر نا چا ہیے، کر تے بھی ہیں ، کچھ، مگر تعداد میں بہت کم ، جو ہیں بہت دل لگن کے سا تھ کا م کر رہے ہیں ، ان میں محتر مہ تبسم سلیم صا حبہ کا نا م بھی آ تا ، کم عمر ی میں جہاں ہما رے نو جوان ملک سے گلے شکو ے کر تے رہتے مگر اس کے ساتھ محتر مہ تبسم سلیم صا حبہ کا کم عمر ی میں وطن کی محبت کا اظہا ر کچھ اس طر ح ہو کہ یو رپ میں ما رے کلچر کو دیکھا جا ئے، پھر وہاں لوگ اس طر ح کی ویڈ یوز میں پا کستان کی خو بصو رتی کو دیکھ کر پا کستان جا نے کا ارادہ کر یں اور فرانس کی ایک تنظیم کے کا رکن تبسم سلیم کے ساتھ کشمیر کا وز ٹ کر بھی چکے ہیں ، تبسم سلیم صا حبہ کو اس شا رٹ ویڈ یو پر فرا نس کی ایک تنظیم کی جا نب سے ایو اڈ بھی دیا جا چکا ہے ۔
سو شل میڈ یا کا دور ، پہلے گلہ کیا جا تا تھا کہ کچھ اچھا کا م کیا جائے ، وہ ٹی وی چینل پر نیو ز یا انٹر ویو بنے یہ میڈ یا پر سن پر ہو تا تھا ، مگر اب کچھ بھی اچھا کا م ہو ، سو شل میڈ یا کے ذریعے سب کی نظر سے گز ر جا تا ہے ، کچھ دن پہلے سو شل میڈ یا پر ایک تنظیم کی لا نچنگ پر وگرام کی تصو یر یں دیکھیں سا تھ تحر یر تھی کہ یہ تنظیم اور ٹیم کیا کا م کر تی آ ئی اور آ گے کیا کا م کر ئے گی ، اس کو پڑ ھنے کے بعد اس تنظیم کے بارے سر چ کیا تو معلو م پڑ ا کہ یہ دیا ٹیم کے نا م سے یہ تنظیم کا م کر تی آ ئی ہے اور اس دیا ٹیم کی خا ص تر جیح ہی بہت اہم ہے ، وہ تر جیح یہ کہ نو جو ان ٹیلنٹ کو پر ومو ٹ کر نا ہے ، اور جس جس نو جوان ٹیلنٹ میں جو بھی ٹیلنٹ یا خو بی اس کو کہیں اور نظر انداز کیا جا رہا تو یہ ٹیم اس کے ٹیلنٹ کو پر ومو ٹ کیا جا رہا ہے ، اس ٹیم کی کچھ دن پہلے کی کا رکر دگی دل جیتنے والی تھی، وہ یہ کہ غر یب بستی میں جا کر نو جوانوں کی اس ٹیم نے اپنی مد د کے تحت غر یبو ں کے بچو ں میں بستے ،کتا بیں ، جو تے اور پیسے تقسیم کیے ، ایک طر ف ہما رے نو جوان ایسی حر کا ت میں مشغول پا ئے جا تے ہیں جن کی وجہ سے ان کے والدین پر یشان ہو تے ساتھ وہ معا شر ے میں خرا بی پیدا کر نے کا با عث بھی بنتے ہیں ، مگر دیا ٹیم میں نو جو انوں کی ٹیم کو دیکھ کر با قی ان کو سبق لینا چا ہیے کہ کم وسا ئل کے سا تھ بھی معا شر ے میں بہتری لا ئی جا سکتی ہے ،لا زمی نہیں ہو تا کہ جب بہت زیا دہ وسا ئل ہو ں گے تو کا م شر وع کیے جا ئیں گے ،نو جو انوں کی اس ٹیم کی ہیڈ محتر مہ دیاچو ہد ری صا حبہ سے تفصیل سے با ت ہو ئی کہ آ پ کی اس ٹیم کی تر جیح یہ ہے کہ نو جو انوں کے ٹیلنٹ کو پر ومو ٹ کیا جا ئے تو آ پ کیسے کر تے تھو ڑی معلو ما ت فراہم کی جا ئے، محتر مہ کا تعلق میڈ یا کے سا تھ ہے ، خو د اینکر ہیں ، ریڈ یو کے سا تھ بھی کا م کر رہے تو ان کو کہنا تھا کہ کیو نکہ وہ میڈ یا میں تو جو نو جو ان ہما رے پا س آ تے ان کا ٹیلنٹ دیکھتے ہیں تو جو ممکن ہو تی ہم ان کے لیے پر وگر اموں کا انعقا د منعقد کر تے ہیں، اور جو ہما رے پا س و سا ئل ہو تے ان سے غر یبو ں کی مدد کی جا تی اور اب یہ ٹیم پو رے پا کستان میں کا م کر ئے گی ، خا کسا ر نے ایک دم کہا اتنے تو آ پ کے پا س وسا ئل نہیں ، جو اب سنے کو ملا کہ ، آ پ ٹھیک کہہ رہے کہ وسا ئل کم ہیں ، مگر ہما ری پو ر ی ٹیم کے اندر بہت جذبہ ہے کہ کسی کی مد د کی جا ئے ، جب جذ بہ اور نیت ٹھیک ہو پھر قد رت بہت سے رستے کھو لتی جا تی ہے ۔
ہما ری حکو مت کو چا ہیے کہ تبسم اور دیا جیسے بہت سے نو جوان اپنے ملک کے لیے اچھا کا م کر رہے ان کو ملکی سطح پر پذئر ائی دی جا ئے اور جو ممکن ہو سکے حکو مت ان کے سا تھ تعا ون کر ئے ، لاکھ سا زش ہو ں ، وہ معا شر ے اور قو میں پڑواھان چڑ ھتی رہتی ہے ، جہاں ان معا شروں اور قو مو ں کے اندر کے با شند ے وہاں اپنی صلا حیتوں سے ئنی نسل کے کھیت میں آ ب کا ری کر تے رہیں کہ حا لا ت کچھ بھی ہو اپنے وطن کے سا تھ پو ری دینا میں عز ت اور مقام ،،، کیا خو ب لکھا گیا ہے ،،،،
اپنے حصے کی شمع ضر ور جلا تے جا نا ۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:تیزرفتاربس کی ٹکر،مو ٹر سائیکل سوارمیاں بیوی سمیت5افراد زند گی کی بازی ہارگئے