پاکستانتازہ ترین

مذاکرات کامیاب:علامہ طاہرالقادری کا پانچ روز سے جاری لانگ و دھرنا اختتام پذیر

حکومت نے مطالبات تسلیم کر لئے ’’اسلام آباد لانگ مارچ ڈکلریشن‘‘ پر دستخط
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نوکیلئے آئینی ماہرین کی رائے،اسمبلیاں 16مارچ سے قبل تحلیل،انتخابی امیدواروں کی کلیئرنس کے لئے آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر عمل درآمد، امیدواروں پر کلیئرنس کے بغیر انتخابی مہم چلانے کی پابندی، نمائندگی کے ایکٹ سیکشن 77سے 82پر عمل درآمد، عام انتخاب 90دن میں کرانے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انتخابی اصلاحات ،عوامی تحریک اور اتحادی جماعتوں کے اتفاق رائے سے نگران حکومت کے لئے 2نام تجویز کیے جانے کا چار نقاطی معاہدہ ’’اسلام آباد لانگ مارچ ڈکلریشن‘‘ کا مسودہ

tahir ul qadriاسلام آباد(بیورو رپورٹ)تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے شروع کی گئی عوامی تحریک کے تحت پانچ روز سے جاری لانگ و دھرنا اختتام پذیر،حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات تسلیم کر لئے ’’اسلام آباد لانگ مارچ ڈکلریشن‘‘ پر دستخط کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نوکیلئے آئینی ماہرین کی رائے،اسمبلیاں 16مارچ سے قبل تحلیل،انتخابی امیدواروں کی کلیئرنس کے لئے آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر عمل درآمد، امیدواروں پر کلیئرنس کے بغیر انتخابی مہم چلانے کی پابندی، نمائندگی کے ایکٹ سیکشن 77سے 82پر عمل درآمد، عام انتخاب 90دن میں کرانے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انتخابی اصلاحات ،عوامی تحریک اور اتحادی جماعتوں کے اتفاق رائے سے نگران حکومت کے لئے 2نام تجویز کیے جانے کا چار نقاطی معاہدہ ’’اسلام آباد لانگ مارچ ڈکلریشن‘‘ طے پا گیا ہے۔جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے حکومت نے دانشمندی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی بات کی ہے اور ہمارے جائز آئینی مطالبات تسیلم کیے ہیں۔جمعرات کے روز ڈاکٹر طاہر القادری(عوامی تحریک) اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان چار نقاطی معاہدہ طے پا گیا ہے۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت چودھری شجاعت حسین کر رہے تھے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان قائرہ ،وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ،ایم کیو ایم کی طرف سے ڈاکٹر فاروق ستار اور بابر غوری،مسلم لیگ ق کی جانب سے مشاہد حسین سید،اے این پی کی جانب سے افراسیاب خٹک اور فاٹا کے سینیٹر عباس آفریدی شامل تھے۔ڈاکٹر طاہرالقادری اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات جمعرات کے روز پونے چار بجے کے قریب شروع ہوئے تھے جہاں طویل مشاورت کے بعد ایک معاہدہ طے پاگیا،حکومتی ٹیم اور طاہر القادری کے درمیان ابتدائی معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے کے بعد اسے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے دستخط کیلئے بھیجا گیا،جہاں صدر آصف علی زرداری کی مشاورت کے بعد اس پر وزیراعظم نے دستخط کردئیے،اس کے بعد حکومتی ٹیم واپس دھرنے کے مقام پر آئی،جہاں ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اس پر دستخط کئے،اس طرح یہ معاہدہ طے پایا،جسے ’’اسلام آبادڈکلریشن کا نام دیا گیا ہے۔معاہدہ طے پانے کے بعد دھرنا ختم کرنے سے قبل ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے یہ معاہدہ اردو میں پڑھ کر سنا یا جس کے مطابق طویل مشارت میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو پر مشاورت کے بعد آئینی دشواریوں کے سے یہ طے پایا ہے کہ اس حوالے سے حکومت کی نامزد کردہ آئینی ماہرین اور وفاقی وزیر قانون کی زیر صدارت اس حوالے سے اہم اجلاس منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ لاہور میں 27جنوری کو اہم اجلا س بلایا جائے اور اس کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے پایا جائے گا۔طاہر القادری نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق یہ طے پایا ہے کہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت کے مطابق 16مارچ سے قبل تحلیل کر دی جائیں گی جبکہ الیکشن 90دن کے اندر اندر منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے معاہدے پڑھ کرسناتے ہوئے مزید بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ طے پایا ہے کہ الیکشن کے لئے تین ماہ کی تاریخ میں سے ایک ماہ کی مدت انتحابی امیدواروں کی سکروٹنی اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے دیا جائے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی امیدوار کی آئین کے آرٹیکل 62، 63 اور 218کے سیکشن (3)کے تحت کلیئرنس دیئے جانے کے بعد کسی بھی امیدوار کو انتخابی مہم شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔کسی بھی امیدوار کو انتخابی کلیئرنس ملے بغیر انتخابی مہم چلانے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔طاہر القادری نے واضح کیا کہ معاہدے میں یہ بات بھی طے پائی ہے کہ حکومت اتحادی جماعتیں اور عوامی تحریک مل کر اتفاق رائے سے نگران وزیر اعظم کے لئے 02نام تجویز کریں گے جن کے لئے دیانت دار اور غیر جانبدار ہونے کی شرط لازم ہوگی ۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق یہ طے پایا ہے کہ عوامی ایکٹ کے سیکشن 77سے82کے تحت عوامی نمائندگی کا انتخابی امیدواروں کو حق دیا جائے گا،ناجائز اثرورسوخ ،کرپشن اور استحصال کو ختم کرکے انتخابات کو پاک،شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے گا۔سپریم کورٹ کے 8جون2012 ء کے فیصلے کے مطابق انتخابی اصلاحات کیلئے اس فیصلے کی روح کے مطابق من وعن عمل کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات لائی جائیں گی۔مارچ کے شرکاء،آرگنائزرز،قائدین اور فریقین کے ایک دوسرے کے خلاف شروع کی گئی انتقامی کارروائیوں ،مقدمات اور عدالتوں میں دائر کی گئی درخواستوں کو واپس لیا جائے گا۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس موقع پر فرداً فرداً مذاکراتی ٹیم کے ممبران کا شکریہ ادا کیا اور انہیں دھرنے کے شرکاء سے فرداً فرداً اظہار خیال کرنے کی دعوت دی۔ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذاکراتی ٹیم نے فراخدلی اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی تحریک کے جائز آئینی مطالبات کو تسلیم کرکے مفاہمت کا ثبوت پیش کیا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں سب سے پرامن لانگ مارچ رہا،جس کے مطابق کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔بعد ازاں انہوں نے دھرنے کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء کو ثابت قدمی پر مبارکباد پیش کی

یہ بھی پڑھیں  عمران خان نےمشترکہ اپوزیشن کےاحتجاج میں جانےکی تاریخ بتادی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker