پاکستانتازہ ترین

شناختی کارڈ چیک کرنے والے شوق پورا کرلیں ہم وردیاں اتارکرٹیٹوچیک کریں گے،طاہرالقادری

tahirاسلام آباد(بیورو رپورٹ)تحریک منہاج القران کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ اسلام آباد میں65سال سے موجود سانپوں کو ختم کرنے کے لئے لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ کارڈ دیکھنے والوں کی وردیاں اتار کر جسم پر ٹیٹو چیک کریں گے۔ ہدف کے حصول تک اسلام آباد میں رہیں گے اور عوام کو خوش خبری دینے کے بعد واپسی ہو گی۔ امیدواروں کی سکروٹنی کے لئے ایک ماہ کا وقت ہونا چاہیئے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں طاہر القادری نے کہا کہ لانگ مارچ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہماری توقعات سے کئی گنا زیادہ لوگ اس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ روکنے کے لئے یہ خوف و ہراس پھیلانے کی جتنی کوششیں وہئی ہیں اس سے کئی بے گناہ لوگوں نے شمولیت کا کہا ہے اور تندہی سے گھبرانے کے لئے اقبال نے کہا تھا کہ ’’تندئی باد مخالف سے نہ گھبراے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے ‘‘انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سانپوں کی بات کی جا رہی ہے اور وہاں پر 65سال سے سانپ موجود ہیں جن کا اسلام آباد میں راج ہے اور انہی کو بھگانے کے لئے لانگ مارچ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا ہدف 12جنوری کو بیان کیا جائے گا۔ تاہم ہدف حاصل ہونے تک لاکھوں لوگ وہیں رکیں گے۔ انہوں نے کہا شناختی کارڈ چیک کرنے والے اپنا شوق پورا کریں جب مظلوم اور مجبور عوام نکلتے ہیں تو کسی میں کارڈ دیکھنے کی جرات نہیں رہتی جو شناختی کارڈ چیک کریں گے۔ ہم بھی ان کی وردیاں اتار کر ان کے جسم پر ٹیٹو چیک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نظام میں دستور کتاب کی شکل میں موجود ہے لیکن دستوریت نہیں اور آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔ اگر پارٹیوں میں خود اعتمادی آ جائے اور سیاسی جماعتیں شخصیت ، کردار پر ٹکٹ دیں تو پھر بات بنتی ہے اور آئین میں اہلیت کی جو شرائط موجو دہیں ان پر پورا اترنے والے کو ٹکٹ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ذی شعور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ انتخابی شرائط کو پورا کر کے کوئی انتخابات ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا ہے کہ ماضی میں الیکشن کمیشن شرائط پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے اور آئین کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل سکروٹنی کے لئے ایک دن مقرر ہوتا ہے اور جب دو بڑی پارٹیوں کے امیدوار اپنے مخالفین پر چوری چکاری اور کرپشن وغیرہ کے الزامات نہیں لگائیں گے تو امیدوار ایک دن میں کلیئر ہو جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس عمل کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا جائے اور پھر عدالت اہل اور نا اہل افراد کو الگ کرے تب اہل لوگوں کے درمیان مقابلہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک کی بھی پارلیمنٹ تھی وہ ایک فوجی آمر تھا اور یہاں پر سیاسی آمریت ہے ۔ مصر میں عوام کی طاقت نے آمریت کا خاتمہ کیا اور یہاں پر بھی عوام ہی آمریت کا خاتمہ کرنے کے لئے اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نام نہاد جمہوریت میں ایسے لوگ بھی منتخب ہوئے ہیں جو حلقے کے کل ووٹوں کا 10یا12فیصد لے کر منتخب ہوتے ہیں اور باقی ووٹ ان کے مخالفین کا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہوتے ۔ طاہر القادری نے کہا کہ انہیں مذاکرات کی طلب نہیں تاہم یہ بات واضح کی تھی کہ اگر حکومتی سطح پر مذاکرات کی خواہش پائی جاتی ہے تو پھر ایک ہی شرط ہے کہ وزیراعظم اپنی کابینہ کے وفد کے ساتھ مذاکرات کریں ۔ اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے جسے آئین اور قانون نہیں روکتا۔ احتجاج کو روکنا خود غیر جمہوری غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ ایسی کوئی بھی کوشش ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش ہو گی کیونکہ ہمارے لوگ پر امن ہیں اور کسی کے پاس گولی تو کیا غلیل بھی نہیں ہو گی۔ ایک سوال پر کہا کہ زندگی اور موت کا مالک خدا تعالیٰ ہے جب اس طرح کے فیصلے کئے جاتے ہیں تو خطرات کو نہیں دیکھا جاتا۔ میرا خدا کی ذات پر بھروسہ ہے اور ان عوام پر جنہیں نام نہاد جعلی جمہوریت سے باہر پھینک دیا گیا ہے جو ووٹ ڈال تو سکتے ہیں لیکن ووٹ لے نہیں سکتے۔

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد کچہری میں خود کش حملوں پر جماعت اسلامی ضلع قصور کے رہنماؤں کا شدید ردعمل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker