پاکستانتازہ ترین

ڈاکٹرطاہرالقادری نےاکتوبر1999ء میں آئی ایس آئی کےمعزول ڈائریکٹرجنرل کی ایما پرمشرف اورضیاءالدین بھائی بھائی کانعرہ لگایا

tahir-ul-qadriاسلام آباد(بیورو رپورٹ) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اکتوبر 1999ء میں آئی ایس آئی کے معزول ڈائریکٹر جنرل کی ایما پر مشرف اور ضیاء الدین بھائی بھائی کا نعرہ لگایا تھا ، دارالحکومت میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران طاہر القادری نے نواز شریف حکومت کے ان عناصر پر کڑی تنقید کی تھی جو دونوں فوجی جرنیلوں کے مابین کشمکش کا تاثر دے کر فوج کی صفوں میں پھوٹ ڈالنے کے خواہاں تھے، ڈاکٹر صاحب کو لاہور سے اسلام آباد لانے والے ایجنسی کے اہلکاروں نے انہیں یہی تاثر دیا تھا کہ فوجی قیادت کو ان کی فوری مدد درکار ہے جس کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی سے ان کی بالمشافہ ملاقات ضروری ہے ۔ نواز شریف حکومت کیخلاف ان کے مخالفین کو متحرک کرنے کے اس پس پردہ آپریشن میں ایجنسی کے اہلکار بھانجی کے نکاح اور رخصتی کا خفیہ کوڈ استعمال کرتے رہے جس میں نکاح کا مطلب 26 ستمبر کو جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ہونے والا مبینہ فیصلہ تھا اور رخصتی سے مراد نواز شریف کی اقتدار سے بے دخلی تھی ۔ آئی ایس آئی کے یہ دونوں خفیہ اشارے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری کرنل مشتاق طاہر خیلی کو بتائے گئے جنہوں نے فی الفور وزیراعظم کو صورتحال سے آگاہ کیا قبل ازیں وزیراعظم نے اپنے خلاف ہونے والی سازش کو اس لئے بھانپ لیا کہ ان کے شدید ترین سیاسی مخالف سے دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کرائی گئی ۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کے نتیجے میں جب فوج اور سیاسی حکومت میں تناؤ شدت اختیار کرگیا تو وزیراعظم نے اپنے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب کو واشنگٹن بھیجا جہاں سے افواج پاکستان کو ایک وارننگ جاری کی گئی کہ وہ سیاسی حکومت کیخلاف کسی انتہائی اقدام سے باز رہے ۔ واشنگٹن میں پاکستان کے ملٹری اتاشی نے شہباز شریف کی سرگرمیوں سے جی ایچ کیو کو آگاہ کیا اور بعد ازاں یہ معاملات ڈاکٹر طاہر القادری کے گوش گزار کئے گئے جس پر ان کا شدید ردعمل اخبارات کی زینت بنا اور اس طرح وزیراعظم کو معلوم ہوا کہ فوج امریکہ میں ان کے بھائی کی پوری مانیٹرنگ کررہی ہے اس تلخی کے خاتمے کیلئے آرمی چیف کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اضافی چارج بھی دیدیا گیا اور کھچاؤ میں قدرے کمی آئی البتہ ڈاکٹر طاہر القادری مسلسل نواز شریف حکومت کے ا عصاب پر سوار رہے اور 12اکبوتر کی سہ پہر تک وہ اس تاثر کا شکار رہے کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں اس سے جنرل پرویز مشرف کو باخبر رکھا جارہا ہے اس کے پاس جنرل مشرف کے ساتھ براہ راست رابطے کی کوئی صورت نہ تھی لہذا وہ جنرل ضیاء الدین کے کہنے پر آنکھ بند کرکے چلتے رہے اس لئے نواز شریف کے ہاتھوں جنرل ضیاء الدین کے کندھوں پر چیف آف آرمی سٹاف کے بیجز لگانے کے منظر نے انہیں بھونچکا کردیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ ماضی کے اس تجربے کے باعث ڈاکٹر طاہر القادری فوج کے موقف کے بارے کسی ایک فرد کی رائے یا رویے پر انحصار نہیں کرتے ۔ ذرائع نے بتایا کہ طاہر القادری کے علاوہ آئی ایس آئی کے چند افسران بھی اس غلط تاثر کا شکار رہے کہ نواز حکومت کے خاتمے کا فیصلہ 26 ستمبر کو جی ایچ کیو میں ہوا تھا یاد رہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ آئی ایس آئی کے جونیئر افسران شریک نہیں ہوتے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس فیصلے کی نوید دوسرے روز جنرل ضیاء الدین نے اپنے مخصوص ماتحت افسران کو اشارتاً سنائی اور انہیں اس ضمن میں ڈیوٹیاں دی گئیں اس وقت کرنل فہیم آئی ایس آئی کے اسلام آباد ڈیٹچیمنٹ کے انچارج تھے اور نواز شریف کے مخالفین سے رابطہ اسلام آباد کے اہلکاروں نے ہی کیا ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے رابطہ کرنے والے افسر کو اپنی تعلیمی اسناد اور تجربے سے آگاہ کیا اور ان کا ہدف وزیراعظم سے کم کوئی عہدہ نہ تھا جنرل ضیاء الدین نے ان کی خوب حوصلہ افزائی کی جس نے ان کی گھن گرج میں خاصا اضافہ کیا جب ان ذرائع سے پوچھا گیا کہ 26 ستمبر کی کور کمانڈرز کانفرنس کے مبینہ فیصلے کی معتبر تصدیق یا تردید ممکن ہے تو ذرائع نے بتایا کہ سب سے موثق تردید یا تصدیق خود جنرل مشرف ہی کرسکتے ہیں لیکن فوجی ایکشن کے بعد آرمی چیف اور جی ا یچ کیو کے سینئر جرنیلوں سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ۔ ذرائع نے بتایا کہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر آئی ایس آئی کے پہلے رابطے پر طاہر القادری خاصے خوش ہوئے کہ بالاآخر ملک کی انٹیلی جنس نے ان کی طرف توجہ کی اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے اسباب بنائے ۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور: طاہر القادری کا حکومت مخالف تحریک شروع کرنیکا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker