شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو

تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو

عشروں پہلے ایک مہاورہ مشہور تھا کہ ” پڑھو فارسی بیچو تیل”۔اس وقت تیل بیچنے کے کاروبار کو کوئی اچھا کاروبار نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا میں تیل کی قوت کا بول بالا ہوا اور نت نئی اقسام کے تیل سامنے آنے لگے اور تیل بیچنا زبردست منافع والا کاروبار بن گیا۔تیل کی تین بڑی اقسام ہیں،کھانے پینے کا تیل،بیرونی استعمال کا تیل،مشینوں میں استعمال ہونے والا تیل۔ سورج مکھی کا تیل،  ناریل کاتیل، بورج  ایک قسم کا پودا کا تیل ،اس کے بیجوں کا تیل،تلوں کاتیل،السی کا تیل،کدو کے بیج کا تیل،ایوا کاڈوایک قسم کا پھل کاتیل،،موتئے کا تیل،سرسوں کا تیل،پودینے کاتیل، زیتون کا تیل، میتھی کا تیل،مچھلی کا تیل ،مچھلی کے جگر کا تیل،وغیرہ وغیرہ۔مختلف اقسام کے تیل کی مختلف خصوصیات ہوتی ہیں جس کا استعمال مختلف حوالوں سے فائدہ مند رہتا ہے۔مالش کا تیل،مختلف اقسام کے تیل ملا کر منفرد خصوصیات والا تیل،اور تو اور سانڈے کا تیل۔
دنیا میں مختلف اشیاء کا ہی نہیں بلکہ انسان کا بھی تیل نکالا جاتا ہے۔ پاکستان کو دنیا میں ایسا ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے کہ جہاں عوام کا تیل بھی نکالا جاتا ہے۔ملک کے تمام اللے تللے، طاقت،ٹھاٹھ باٹھ ،سرکاری امارت،شان و شوکت سب ملکی غیرت و طاقت  عوام کے نکالے گئے تیل پہ ہی چلتا ہے۔ عوام کا مسلسل اور گنجائش سے بھی زیادہ تیل نکالے جانے سے عوام کا پھوک ہی باقی رہ جاتا ہے ؛لیکن یہ ارباب اختیار کا کمال بلکہ استادی اور فنکاری ہے کہ وہ عوام میں سے بار بار تیل نکال لیتے ہیں اور مسلسل  نکالتے رہتے ہیں۔ مزے کے بات کہ عوام کا تیل عوام اور ملک کا مفاد بتاتے ہوئے ہی نکالا جاتا ہے۔
پہلے انسانوں کو طاقت کے زور پر زبردستی غلام بنا کر اس سے کام لینے،اس سے فائدہ اٹھانے کا چلن تھا۔جب غلاموں کو بھی عقل اور طاقت ملنے لگی اور انہوں نے مزاحمت کرنا شروع کی تو غلاموں سے کہا گیا کہ اب آپ کو کام کرنے کا معاوضہ ملے گا ،جس سے وہ اپنی ضروریات حاصل کر سکیں گے۔ ضروریات کی نت نئی چیزوں کے معاشرے میں آنے سے پیسوں کے بدلے کام کرنے والوں پر بوجھ بڑہنے لگا۔ انسان کو زندگی کی سہولیات ،خوراک،لباس، سواری کے علاوہ گھر میں روشنی،پکانے کے لئے آگ، فریج،ٹی وی، استری،انٹر نیٹ خریدنے اور ان کے استعمال کے لئے بجلی کے بلات ،بچوں کے تعلیمی اخراجات وغیرہ کے لئے زیادہ محنت کی ضڑورت پڑی۔ لیکن ساتھ ہی پیسوں کے عوض باصلاحیت ،اپنے کاموں میں ماہر افراد کی بہتات کی وجہ سے کام ملنا کم ہوتا چلا گیا،یوں ماضی میں کھانے،لباس،رہائش کے عوض ہر طرح کا کام کرنے والے،  غلام کہلائے جانے والے افراد کو ان کے اختیار کے نام پر معاوضے کا طریقہ کار ،رواج دیا گیا۔
غلام سمجھا کہ وہ آزاد ہو گیا ہے ،وہ پوری لگن سے کام کرتا رہا۔ یوں وہ جو کماتا وہ اس کا بڑا ،غالب حصہ اس کی سہولیات کے عوض اس سے واپس چلا جاتا ۔پھر انسان کو ذاتی اور خاندانی آزادی کے بعد ایک مخصوص علاقے کے شہری کی آزادی کے فوائد دکھائے گئے۔اس ملکی آزادی کے عوض اس پر مزید اخراجات کی ذمہ داری ڈال دی گئی۔ اب انسان ذاتی سہولیات کے علاوہ ملکی آزادی کے نام پر دیگر ادائیگیاں بھی کرنے لگا۔  ایسے آقائوں کی عقل و دانش اور بصیرت کو سلیوٹ نہ کرنا کنجوسی اور کم عقلی ہو گی کہ جنہوںنے غلام انسان کو عقل و طاقت آ جانے پر ایسے چکر میں ڈال دیا کہ جہاں وہ خود کو آزاد سمجھتا ہے،خود مختار سمجھتا ہے لیکن عملی طور پر وہ اب بھی غلام ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے’ کھل کھیلنے’ کا میدان ذرا سا وسیع کر دیا گیا ہے۔ اسے ذہنی طور پر آزاد ہونے کا احساس دیا گیا ہے۔، لیکن عملی طور پر انسان کو غلام بنا کر ہی رکھا گیا ہے۔اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، جو وہ کماتا ہے وہ سہولیات،خدمات،ٹکسز وغیرہ کے مختلف حوالوں سے اس سے واپس لے لیا جاتا ہے۔انسان ہے کہ غلام کی طرح کوہلو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومتے ہوئے گھمانے والے کے لئے تیل نکالنے کا کام ہی کر رہا ہے۔انسان پہلے بھی غلام تھا،آج بھی غلام ہے اور آئندہ بھی غلام ہی رہے گا اور دنیا کے طاقتور آقائوںکی عظمت کے لئے استعمال ہوتا رہے گا
error: Content is Protected!!