تازہ ترینتہمور حسنکالم

پیسہ ہے ایمان میرا۔۔۔۔؟

انسانی روش اپنی منزل اقتدار کو کھوتی اس نہج تک آ پہنچی ہے جہاں انسان کی قیمت صرف رنگ برنگی آسائشیں ہیں‘ جس میں ذات پات کے انسانی جھگڑے‘ انسانی رسومات چھوڑ کر کاغذ ی دنیا کا بادشاہ بننا اور بنیادی ضروریات زندگی کی پامالی سب شامل ہیں‘ ان سب بولیوں اور قہقہوں پر بکنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہم جیسے انسان ہی ہیں جن کو حالات اور وقت نے بے انتہا مجبور کر رکھا ہے‘ جو راحت اور مجبوری کے درمیان فاصلہ کی تشبیح صرف اس جملے میں بیان کرتے ہیں کہ کبھی زمین اور آسمان مل نہیں سکتے ‘ گر یہ ممکن بھی ہے تو صرف یوم حساب کو جس پر چلنا مرد مومن کیلئے کسی پل صرط سے کم نہیں‘ یہی وہ لوگ ہیں جو بدن پر سادہ لباس پہن کر انسانیت کے مجرموں سے اپنی ذات کا حساب مانگتے ہیں اور اپنے چہرے پر غربت کا خمار اوڑھے دہلیز انسانیت پر کھڑے انساں سے انساں ہونے کا حق طلب کر رہے ہیںجس کیلئے کبھ بھوک ‘ جرم اور اصول کی مار اک کال کوٹھڑی کی طرح معلوم ہوتی ہے اس کیلئے معاشی بد حالی ایک تحفہ حیات ہے اور ریاست کی طرف سے چند اقدامات جو ہمیشہ اس کی نفی ہی کرتے آئے ہیں سب ریاستی سوغاتیں ہیں‘ ایسی صورتحال میں مایوسی اور خود سے بد ظن ہو جانا ایسے ہی ہے جیسے یہ احساسات اس فرد کے گھر کا ہی حصہ ہوں اور ان کے ہاں تو زندگی کا تجربہ گھر کے برتنوں کی طرح جا بجا بکھرا دکھائی دیتا ہے۔ پر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان ناپید رسومات کا پابند کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ انسانوں جیسے انسان ہیں جن کو اس معاشرے نے چند مراعات کی بنیاد پر یہ سند جاری کر رکھی ہے کہ وہ کبھی کسی کو بھی ’’بدمعاش‘‘ یعنی معاشرے کیلئے بد جیسے القابات سے نواز کر انسانی تاریخ میں اپنی مدعیت میں ایک مقدمہ درج کرے اور تمام عمر اس کو ہم جیسے افراد سر انجام دیتے رہیں اور یہ نہ سوچیں گے کہ کل یہی ہجوم میرے لئے بھی اکٹھا ہو سکتا ہے‘ کل کا سورج میری قسمت میں بھی مجرم ہونا لکھ سکتا ہے‘ آج میں کچھ کر تو سکتا ہوں لیکن کل میں ہی انصاف کا طلبگار ہوئے ان افراد سے مظلوم ہونے کی درخواست کروں گا اور وہ اپنی مرضی سے سوچ و بچار کرنے کے بعد اس نہج تک پہنچیں گے کہ کیا کارروائی عمل میں لائی جائے‘ وہ بھی اس صورت جو افراد فیصلہ کرنے والے ہیں ان کے ہاں انکی خواہشات بجا لاتا تھا‘ وہ کبھی مستقبل کو مد نظر نہیں بلکہ ماضی کی سرحد کو ذہن نشیں کئے اس فیصلے پر پہنچ گئے‘ ان خیالات کا کیا فائدہ جو موجودہ کسی عہدے کی بنائ پر کسی فرد کے ذہن میں نشونما پاتے ہوں اور دوسرا شخص اخلاقی جرأتوں کو ملحوظ خاطر ہی نہ لاتا ہو‘ صرف ان چند ناسور رسومات کا پابند رہ گیا ہے انسان‘ وہ خود کو تو مار چکا ہے‘ ایک زندہ لاش کی طرح دنیاوی سودے کر رہے ہیں اور ناجائز کمائی کما کما کر پیٹ کے ساتھ ساتھ ایمان بھی نوٹوں سے بھرتے جا رہے ہیں‘ دو منٹ نہیں کسی کے ساتھ پیار محبت سے بات کرنے کو‘ صرف چند نوٹوں کو جیب میں رکھ کر یہ تصور کرتے ہیں کہ سب پا لیا‘ کیا دنیا؟ اور کیا آخرت؟ اس کھیل کو احسن طریقے سے سرانجام دینے والا ہی انسان تصور کیا جاتا ہے‘ لیکن غلط‘ اگر انسان کی یہی تشریح ہے تو آج کل کا معاشرہ اس صورتحال کا پیروکار ہے جس میں نا انصاف ہے اور نہ ہی جینے کا ڈھنگ‘لسانی بنیادوں پر جان لی جا رہی ہے‘ خوف و ہراس کے مارے لوگ فاقہ کشی کرنے کو ہی عزت سے جینا کہتے ہیں‘ کیا یہی پاکستان ہے جس کی روح میں شامل ہے کہ یہاں بسنے والوں کو اسکا حق دیناہی اولین ترجیح مملکت ہو گی‘ کیا وہ وقت آئے گا؟ جب جان عزیز اور مال فنا سمجھا جائے گا‘ کیا ہم اندر کے بے لگام انسان کو لگام ڈال کر خود کی عدالت میں کھڑا کر سکتے ہیں؟ اور کیا اس سے وہ سوال پوچھ سکتے ہیں جن کو شرم کے پردوں میں لپیٹ کر تاریخ کی عمارت کے حوالے کر رکھا ہے‘ کیوں اندر کے انسان کو خوں ریزی کا شوق سا ہو گیا ہے‘ کیا ہم نے اس کیلئے یہ سزا چن لی ہے کہ آنکھوں دیکھے‘ کانوں سنے اور بہرے پن کا تماشہ کرتا پھرے‘ پھر سے سوچ لیں آخر کب تک۔۔؟ صرف اپنی سوچ کو دعوت فکر دینے کی ضرورت ہے‘ خود کو ان افراد کی صف میں سے نکال کر معاشرے اور خود اپنے سامنے سرخرو ہونے کا موقع فراہم کریں‘ آج کا انسان غریب سہی مگر اپنے نفس کو مطمئن کرکے گھر لوٹتا ہے‘ اس کے پاس چند سکے ہی سہی لیکن وہ کسی کی دل آزاری نہیں کرتا‘ وہ چند لذتوں سے محروم ہی سہی لیکن زندگی کی اصل لذت صرف اسی کو میسر ہے‘ اگر زندگی کی حقیقت دریافت کرنے کا حوصلہ آپ رکھتے ہیں تو میری تجویز پر اپنی زندگی کے چند لمحات کسی غریب مجبور کیساتھ گزار کر تجربہ کیجئے گا‘ راحت و سکون استقبال کیلئے کھڑے ہونگے اور نیند کا خمار بارش کی مانند پلکوں پر اترنے لگے گا۔۔۔کون کہتا ہے کہ غریب انسان نہیں؟؟؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان نہیں۔

یہ بھی پڑھیں  صدر کی جانب سے اتحادی جماعوں کو افطار کی دعوت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker