تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

بُت شِکن ’تاج محل‘

m javid iqbalتاج محل ! یہ نام سنتے ہی مغلیہ دور کے بادشاہ شاہجہاں کا نام ضرور یاد آتا ہے۔ تاج محل ہندوستان کے شہر آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے۔ ویسے تو یہ ایک مقبرہ ہے جومغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں بنوائی تھی۔تاج محل مغل طرزِ تعمیر کا اعلیٰ اور عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، ہندوستانی اور اسلامی طرزِ تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے۔ غالباً1983ء میں تاج محل کو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ بہترین تعمیرات میں سے ایک قرار دیا تھا۔ تاج محل (مزار)کے کتبے اور جالیاں جو نصب ہیں اُن کا بنانے والا ایک ہندو سنگ تراش تھا جس کا نام’ چرن جی لال‘ تھا۔اور سنگِ مر مر کی جالیاں بنانے والے کا نام’ مورتی‘ تھا۔مورتی ملکہ ممتاز محل کے خاص ملازم’ عیسیٰ ‘ کا بھائی تھا،عیسیٰ ایک خواجہ سرا تھا جو مسلمان ہو گیا تھا۔تاج محل کے گنبد کا ڈیزائن شاہ جہاں کے خیالات کے مطابق نقشہ جات کے ماہرجناب اسماعیل آفندی تھا ، اُسی کی نگرانی میں تاج محل کا ماڈل بھی تیار کیا گیا تھا ۔ایک دن شاہ جہاں نے اسمٰعیل آفندی کو طلب کیا اور کہاکہ’ اس مقبرے کو ہر حال میں دنیا کے دیگر تمام مقبروں اور عمارتوں سے مختلف ہوناچاہئے‘ ۔’ جی جہاں پناہ ‘ اسمٰعیل آفندی نے جوااب دیا،’ اس کا گنبد جامِ شیر کی مانند ہونا چاہئے۔‘اسمٰعیل آفندی کو ایک جھٹکا سا لگا ۔ وہ شاہ کی بات کا مطلب بخوبی سمجھ گیا تھا ، اُسکی نظریں بے اختیار دیوانِ عام میں موجود خوب صورت باندیوں کی طرف اُٹھ گئیں ۔میرے خدا مقبرے کا گنبد عورت کے۔۔۔ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں سوچ سکا۔ ’ جی ظِلّ الٰہی‘ اس نے بہ مشکل جواب دیا۔۔۔’ گنبد کا نچلا حصّہ کسی دوشیزہ کی پتلی کمر سے مشابہ ہونا چاہئے‘ شہنشاہ نے دوسرا حکم دیا ۔اسمٰعیل آفندی نے دوبارہ شاہی کنیزوں کو نظروں میں تولا اور آداب بجا لا کر واپسی کے لئے مڑ گیا۔
عام خیال یہی ہے کہ تاج محل کا خاکہ ابوالمظفرشہاب الدین محمد شاہ جہاں نے خواب میں دیکھا تھا اور اسی کے مطابق اسکی تعمیر ہوئی ہے۔تاج محل کا بنانے والا اسمٰعیل آفندی بار بار شاہ جہاں کی ہدایت کے موافق لکڑی کے نمونہ میں تبدیلی کرکے لاتا اور شاہ جہاں پھر کوئی نئی بات بتا کراسے حیران کر دیتا۔یہ عمارت جیسا کہ آپ جانتے ہیں شاہ جہاں کی چہیتی بیوی ارجمند بانو ملکہ ممتاز محل کا مقبرہ ہے جو ہندوستان کے شہر آگرہ میں جمنا کنارے آج بھی چارسو سال کے بعد اپنی روائتی خوب صورتی کے ساتھ قائم و دائم ہے اور تمام دنیا اُسے ایک’عظیم الشان ‘عمارت سمجھتی ہے اور اس عمارت کو دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ممتاز محل کو عارضی طور پر زین آباد نامی ایک باغ میں دفن کیا گیا جسے شاہ جہاں کے چچا دانیال نے دریائے تاپتی کے کنارے تعمیر کرایا تھا، کہا جاتا ہے کہ ممتاز محل نے بسترِ مرگ پر اپنے شوہر سے اس آخری خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس کی موت کے بعد ان کی محبت کی شاندار یادگار تعمیر کی جائے۔ اس نے اپنے شوہر سے یہ فرمائش بھی کی کہ وہ اس کے بعد کوئی اور شادی نہ کرے۔محبت سے معمور اور جذبات سے سرشار بادشاہ نے وعدہ کرنے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی۔مورخین نے ملکہ ممتاز محل کے انتقال پر شاہ جہاں کے غیر معمولی ردِّ عمل اور سوگ کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے ،کہا جاتا ہے کہ ملکہ کی موت پر بادشاہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا ۔ کتابوں میں ہے کہ شاہجہاں نے ایک سال تک گوشۂ تنہائی میں سوگ منایا تھا۔جب وہ دوبارہ نمودار ہوا تو اس کے سر کے تمام بال سفید ہو چکے تھے اور کمر جھک گئی تھی۔1931ء ہی میں زین آباد سے ملکہ ممتاز محل کے جسدِ خاکی کو ایک طلائی تابوت میں آگرہ منتقل کر دیا گیا۔پہلے آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے اایک چھوٹی سی عمارت میں دفن کیا گیا اسکے بعد اسے تاج محل میں دفن کیا گیا جس عمارت کی منصوبہ بندی شاہجہاں نے اسکے انتقال کے فوراََ بعد برہان پور ہی میں کرلی تھی۔یہی عمارت تاج محل کہلاتی ہے۔ جس کے بارے میں شکیل بدایو نی نے کس قدر عمدہ شعر کہا ہے کہ:
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ساری دنیا کو محبت کی نشانی دیدی
جمنا کنارے بننے والے تاج محل بہت اعتراضات تھے کہ اتنی بھاری عمارت کا بوجھ دریا کے قریب کی زمین اُٹھا سکے گی یا نہیں مگر بادشاہ کی ضد کے آگے ہر بات ہیچ تھی ، شاہجہاں کا مقصدیہ تھا کہ ہر خواہش کا قابلِ عمل حل نکالا جائے خواہ اس میں کتنا ہی روپیہ صرف ہو۔وہ بذاتِ خود تعمیرات اور ان کے مسائل سے کما حقہ‘ واقف تھا اور عمارت کی ساخت ، اسکی مضبوطی اور دیگر معاملات پر اسکی گہری نظر تھی ۔ بعد کی دیگر تعمیرات مثلاََ دہلی میں لال قلعہ ، اور جامع مسجد ، لاہور میں شالا مار باغ اور آگرہ کی موتی مسجد یا قلعہ آگرہ کا دیوانِ عام ایسی عمارتیں ہیں جو شاہ جہاں کے علم و ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ارجمند بانو کے انتقال کے فوری بعد برہان پور ہی میں شاہ جہاں اس کا عظیم الشان مقبرہ بنانے کا فیصلہ کرچکا تھا۔غم و اندوہ اور سوگ سے جب اسے کسی حد تک نجات ملی تو اس نے آگرہ میں تعمیرات سے متعلق لوگو ں کو جمع کرنا شروع کیا ۔ اسمٰعیل آفندی اور علی مردان خان سے اپنی تمام خواہشات کا اظہار کیا جو اسکے دل میں مقبرہ سے متعلق تھیں۔اپنے خواب کا تذکرہ کیا اور مقبرہ کا نمونہ بنانے کا حکم دیا۔یہ نمونہ لکڑی سے بنایا گیا لیکن بادشاہ ہمیشہ اس میں ترامیم اور ردّو بدل کرتا رہا اور بڑی مشکل سے وہ جزوی طور پر مقبرہ کے بعض حصوں کی اشکال پر اپنی رضامندی کا اظہار کرتا۔اس طرح مقبرہ کا نقشہ آہستہ آہستہ وجود میں آتارہا۔ادھر مقبرہ کا ڈیزائن اور تعمیری سرگرمیاں جاری رہیں اور دوسری جانب مقبرہ میں استعمال ہونے والے دیگر عوامل کے ڈیزائن اور ان کے مادّی حصے تیار ہونے شروع ہو گئے،مثلاََ جالیاں ، محرابیں اور ستون وغیرہ کیونکہ ان کاموں میں بھی عرصۂ دراز کی مدت درکار تھی ، یہ سب کام معمارِ اعلیٰ محمد حنیف کے سپرد تھا۔
تاج محل کی تعمیر کے موقع پر اس بات کا خاص خیال رکھا گیا۔(۹۷۵۔۱۸۹۰) پر محیط یہ منصوبہ درمیان میں ایک وسیع و عریض چار باغ پر مشتمل ہے جسکی لمبائی (۹۷۵)فٹ اور چوڑائی (۹۶۵)فٹ ہے۔جسکے چاروں حصوں کو مزید چار برابر کے حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔صدر دروازہ ایک وسیع عمارت (۴۱۲۔۵۳۶)فٹ رقبہ پر ہے اس میں بڑے حال کے طور پر اور انتظار گاہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس عمارت کے بعد چار باغ پھیلا ہوا ہے جس میں طول و عرض میں نہریں اور فوارے بنائے گئے ہیں ۔جنوب میں صدر دروازہ اور انتظار گاہ ، اسکے بعدباغات کا کھلا حصہ اور پھر تاج محل کی اصل عمارت جو شمالی حصہ میں واقع ہے۔یہ عمارت ایک(۳۱۵۔۳۱۵)فٹ وسیع چبوترے پر بنائی گئی ہے جس کی اونچائی ۱۸فٹ ہے،جبکہ تاج محل کی عمارت (۱۸۶۔۱۸۶)فٹ ہے، یہ ایک دو منزلہ عمارت ہے جسکے اوپر ۵۸فٹ قطر کا۸۰فٹ اونچا گنبد بنا ہوا ہے،یہ گنبد سطح زمین سے ۲۰۰فٹ اونچا ہے۔تاج محل کے بائیں جانب یعنی مغرب میں ایک مسجد ہے اور مشرق میں بالکل اُسی طرز کی ایک دوسری عمارت مسجد کے جواب میں بنائی گئی ہے جو نقار خانے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔چبوترے کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار۱۳۳فٹ بلند بنا ہوا ہے جسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مقبرہ کی رکھوالی کر رہا ہو۔
تاج محل کی تعمیر ۱۶۳۱ء میں شروع ہوئی اور اس کا سنِ تکمیل ۱۶۵۳ء ہے۔خالص اسلامی اور ایرانی انداز میں تعمیر ہونے والی دنیا کی اس خوبصورت ترین عمارت پراس وقت کے بتّیس کروڑ روپئے لاگت آئی ۔استعمال ہونے والا سنگِ مرمر بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیا کے مختلف حصوں سے منگوایا گیا۔ بیس سے بائیس ہزار افراد نے اپنی صلاحیتیں ایک سوچ کو مجسم شکل دینے میں دن رات کی پرواہ کئے بغیر صرف کیں جبکہ ایک ہزار سے زیادہ ہاتھی عمارتی سامان کو تاج محل کی جگہ تک پہنچانے کے لئے استعمال کئے گئے۔تاج محل کی اہمیت اور شاہجہاں کی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی اندرونی سجاوٹ اور تزئین و آرائش میں اٹھائیس مختلف اقسام کے زرو جواہر اور قیمتی پتھر استعمال کئے گئے۔ محبت کی یہ علامت آج سات عجائباتِ عالم کے علاوہ یونیسکو ورلڈ ہیری ٹیج سائٹس میں بھی شامل ہے۔
تاج محل کی چھت کی اندرونی سطح کو سجانے کے لئے خطاطی کا سہارا لیا گیا ہے۔قرآن مجید کی آیاتِ کریمہ کو سنگِ مر مر پر سنگِ یشب کی مدد سے کندہ کیا گیا ہے۔انہیں ایرانی نژاد خطاط امانت خان نے تحریر کیا ہے۔ایسی کئی سلوں پر امانت خان نے اپنے دستخط بھی ثبت کئے ہیں۔تاج محل میں جن سورتوں کی آیات کندہ کی گئی ہیں اُنکے نام کچھ یہ ہیں ۔سورۂ یٰسن‘ سورۂ الزمر‘ سورۂالفتح ‘سورۂملک‘سورۂالمرسلات ‘سورۂالتکویر‘سورۂالا نفطار‘سورۂالا شقاق‘سورۂالفجر‘سورۂالشمس ‘سورۂالضحیٰ ‘سورۂالشرح‘ سورۂالتین‘سورۂالبیّنہ ‘سورۂا خلاص۔تاج محل کا دروازہ۹۳فٹ بلند ہے اور یہ ۱۶۳۲ء سے ۱۶۳۸ء کے دوران پایۂ تکمیل کو پہنچا‘اسے سنگِ سیاہ سے تعمیر کیاگیاہے‘ اور اس پر مختلف قرآنی آیات کندہ ہیں، دروازہ کی اندرونی سمت کئی طاق ہیں جن میں پھول پتیاں اور نقش و نگار بنائے گئے ہیں ۔ان میں زیادہ تعداد کنول کے پھولوں کی ہے۔جنہیں سنگِ مر مر پر قیمتی پتھروں کی مدد سے تراشا گیا ہے۔تاج محل کا دوسرا اہم ترین حصہ مسجد ہے ‘ جسے تاج محل کے مغربی سمت سرخ پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے۔مسجد کے کنویں کی نزدیکی چار دیواری کے ساتھ ایک چھوٹا سااحاطہ ہے ‘ جہاں مرکزی روضے میں تدفین سے پہلے ملکہ ممتاز محل کا جسدِ خاکی رکھا گیا تھا۔مسجد کے چار مینار اور تین شاندار گنبد ہیں۔مسجد میں ۵۳۹ نمازیوں کی گنجائش ہے۔
تاج محل کا اندرونی حصہ بیرونی حصے سے کم خوبصورت نہیں ۔تمام اندرونی ایوانوں کو بھی شاندار اور بے مثال خطاطی سے سجایا گیا ہے۔مقبرہ کے تمام اندرونی زاویہ یکساں پیمائش کے ہیں ۔دیواروں کے نچلے حصوں پر خوبصورت قسم کا کام کیا گیا ہے اور انہیں بھی دل کش بیل بوٹوں کے علاوہ کنول کے پھولوں سے سجایا گیا ہے۔روضے کا کمرہ باقی کمروں سے نسبتاََ بلند ہے ، اس سے متصل لیکن اس سے قدرے نیچے چار اور کمرے موجود ہیں جو یقیناََ شاہی خاندان کے دیگر افراد کی قبروں کے لئے بنائے گئے تھے ۔ شاہجہاں اور ممتاز محل کی قبریں وسطی کمرے میں ہیں ۔ شاہ جہاں کی قبر اپنی محبوبہ کی قبر کے بائیں جانب اور قدرے بلند ہے۔قبروں پر کتبے فارسی زبان میں ہیں۔ممتاز کی قبر پر بعض قرآنی آیات بھی کندہ ہیں۔تاج محل کی عمارت بائیس برس میں تکمیل کو پہنچی یعنی یہ ۱۶۵۳ ء میں مکمل ہوا۔ اس عرصہ اور اسکے بعد شاہجہاں کے تخلیقی ذہن اور اسکی عظیم’ تعمیری‘ صلاحیتوں کے باعث کئی عمارتیں عالمِ وجود میں آئیں ، وہ مصوری‘ خطاطی ‘کندہ کاری کا بڑا اعلیٰ ذوق رکھتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ ہر سال اس تاریخی یادگار کو لگ بھگ تیس لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں، یہ تعداد ہندوستان کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ تاج محل مغلیہ دور کے فنِ تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں‘ ادیبوں‘ مصوروں ‘ اور فنکاروں کے لئے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں  غیرمعیاری لیبارٹریاں اور عوام

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker