بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

طالبان ،ہندوستان اور عالمی برادری کے اہداف؟؟؟

bashir ahmad mir logoعید میلادالنبی ﷺ کی تعطیل اور اس سے ایک دن پہلے اور بعد کی developments کافی ہوئیں جن میں متذکرہ موضوع کے علاوہ آذادکشمیر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ،سردار عتیق خان کی جاتی عمرہ یاترا ،بلاول بھٹو ریلی جیسے موضوعات پر آئندہ ’’انشاء اللہ کل ‘‘قارئین کو با خبر کروں گا ۔ آج کے موضوع پر بات کرتے ہیں ۔بھارتی وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کے بیانات تو آپ کی نظر سے گذرے ہونگے جبکہ ’سیشل کمار سنڈے اور جنوبی ایشیاء کا امن‘‘ کے ٹائیٹل سے راقم کا کالم بھی آپ نے مطالعہ کیا ہو گا ۔اس کے ساتھ ساتھ ایک حیران کن ،تباہ کن اور پریشان کن خبر بھی آپ کے علم میں ہو گی کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ،بھارتی آرمی چیف کا دھمکی آمیز بیان اور بھارتی صدر پرناب مکھر جی بھی بول اٹھے کہ ’’ہماری دوستی کو کمزوری نہ سمجھا جائے قبل ازیں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی اسی لہجے میں بیان داغا تھا،اس کے ساتھ اب مقبوضہ کشمیر میں قائم سول ڈیفنس اور ڈیزاسٹر رسپانس فورس نے ایک آلارمنگ مسیج ڈلیورکیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ایٹمی حملے کے بچاؤ کے لئے تربیت اور انتظامات کریں ۔
یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا جب اس کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ہے۔۔۔ہو گی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کشمیریوں کو ایٹمی جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے؟ چھ لاکھ کشمیری شہداء کے خون سے لت پت بھارت اب پھر تباہ کن حالات پیدا کرنے کا خواہاں ہے؟ ایسا کشمیری ہرگز نہیں ہونے دیں گے ۔اگر بھارت کو خوش فہمی لا حق ہے تو اسے بحیرہ ہند میں غرق ہونے کی خبر ہونا چاہئے ۔کشمیر ایک ایسا آتش فشاں ہے جو پورے جنوبی ایشیاء کو بدل سکتا ہے۔اس سنگینی کا احساس کرتے ہوئے بھارت اپنے رویوں اور طرز عمل پر نظر ثانی کرئے تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا۔ایٹمی تباہ کاریوں سے اب تک ہیروشیما ،ناکاساکی میں آج بھی گھاس تک نہیں اُگتی ،کیا دنیا کی جنت بے نظیر کشمیر کو مٹانے کے عزائم بھارت کو قائم رکھنے میں مددگار ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔۔۔تو پھر اہل الرائے اور امن کے خواہاں مفکرین کو کھل کر ان بیانات اور اس کے مضمرات پر دنیا کو آگاہ کرنا چاہئے سیانے کہتے ہیں کہ ’’ورنہ ہندوؤں بنیا چار آنے کے فائدے میں روپیہ کھو سکتا ہے‘‘۔ بھارت کو انتہائی غلط فہمی ہے ،ایٹمی جنگ کا جنون صرف کشمیریوں کی تباہی نہیں بھارت سمیت جنوبی ایشیاء میں دنیا کا سب سے بڑا قبرستان بن سکتا ہے جس میں من موہن سنگھ ،پرناب مکھر جی ،سونیا جی ،بکرم سنگھ ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے دیڑھ ارب بے بس ،بے کس اور مسائل کی چکی میں پسے ہوئے انسان ایٹمی راکھ کا نشان بن سکتے ہیں۔کیا یہی سلوک کیا جانا ہمارے اجتماعی مفاد ات کا تقاضہ کرتا ہے؟؟؟
جنوبی ایشیائی ممالک اس وقت غربت ،بے روزگاری ،مہنگائی ،دہشگردی ،انتہاء پسندی ،سماجی ناہمواری سمیت توانائی ،کرپشن اور بد نظمی کا شکار ہیں ،جس سے ہر شہری بے شمار مسائل سے دوچار ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں مل کر ان مسائل پر سر جوڑنا چاہئے ،اگر بھارتی حکمران اپنے عوام کی بہتری کے حق میں ہیں تو ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے بڑا ملک ہے جس میں مسائل کی شرح بلند تر ہے ،بھارتی منصوبہ بندوں کو ٹھنڈے دل اور گہرے دماغ سے حالات کا جائیزہ لینا ہو گا۔غیر سنجیدہ بیانات اور تناؤ کی فضا کسی بھی لحاظ سے مفید نہیں ۔
عوام اتنی بھی بیوقوف نہیں کہ وہ جنگی نقصانات سے لاعلم ہو کر چند سر پھروں کی واہ واہ میں اپنا ستیا ناس کر بیٹھے ،اب نہ تو ہٹلر کے زمانے کا دور ہے اور نہ ہی ہیرو شیما پرایٹمی بمباری کرنے جیسے حالات ہیں ،ان تمام حالات ،اسباب ،خطرات اور مضمرات کا احاطہ کرتے ہوئے بھارت کی عوام کو مشورہ ہی دیا جا سکتا ہے کہ ان کی موت کا ساماں بننے والے عناصر جو درپردہ منظم دہشتگرد کہلانے کے حقدار ہیں ان کا محاسبہ کیا جائے تاکہ امن دشمنوں کے عزائم ناکام ہو سکیں ۔بھارت کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ اگر ان کے پاس ایٹم بم ہے تو پاکستان کے پاس’’ پٹاخہ‘‘ نہیں ،اس سے بھی خطرناک ایٹمی اسلحہ موجود ہے ۔آنکھیں کھول کر خطرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔عالمی برادری کو بھی ان حالات سے باخبر ہونا چاہئے کہ بھارت جو جنگی عزائم رکھتا ہے اس کے کس قدر دنیا پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ سمیت اتحادی ممالک پر بھارت کے جارحانہ عزائم کوبے نقاب کرئے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ آخری مراحل کو چھو رہی ہے اس لمحے بھارت کا رویہ دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے جس سے عالمی امن کی کوششیں ناصرف متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ اس کے تباہ کن نتائج بر آمد ہونگے ۔جس سے چھ ارب سے زائددنیا بھر کے عوام شدید معاشی ،سماجی اور معاشرتی مسائل میں بحرانی حالات کا سامنا کر سکتے ہیں اور اس طرح عالمی برادری کی دہشتگردی کے خلاف جنگ شکست کا شکار ہو سکتی ہے جس کے نتیجہ میں امریکہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گا اور جن کے خلاف کھربوں ڈالر لگائے جا رہے ہیں ان کا حاصل وصول صفر رہے گا ۔کیا باراک اوباما یہ چاہئے گا کہ اس کے دور میں دنیا تباہ کن صورت حال کا شکار ہو ،امریکہ سمیت یورپی ممالک پر دہشگردوں کا کنٹرول ہو ،وہ تمام قوتیں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل ہیں انہیں سر عام تختہ دار پر لٹکایا جائے ؟؟؟ اگر ایسا نہیں ہونا چاہئے تو پھر ایسے عزائم جو ان پُر خطر حالات کو جنم دے سکتے ہیں ان پر سختی سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ہے؟اب یہ فیصلہ صرف جنوبی ایشیاء کے عوام کی درد سری نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔جہاں تک بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی مہم جوئی کا تعلق ہے تو ان حالات و واقعات کے پس منظر میں بھارت انتہائی نا پسندیدہ ملک قرار دیا جانا عین انصاف ہو گا اس ضمن میں وزارت خارجہ پاکستان کو ہر اول دستہ کے طور کھل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو ملک دنیا کے امن کو برباد کرنے کے مذموم عزائم رکھتا ہو وہ کسی طور پسندیدہ ہونے کے لائق نہیں ہو سکتا ۔بھارت نے دنیا بھر میں جو امن کی آشا کا راگ الاپا ہوا ہے وہ محض ڈھونگ ہے ذمینی حقائق بھارت کے عزائم بے نقاب کرتے ہیں ۔اگر بھارت کو اس خود فریبی سے نہ نکالا گیا تو پھر طالبان کی جنگ روکنا کسی کے بس میں نہیں ہو گی۔note

یہ بھی پڑھیں  جمبر:عید میلادالنبی کے حوالے سے مشعل بردارجلوس نکالاگیا۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. میر صاحب آپ نے ایک انتہائی اہم موضوع پر قلم اٹھایا جو حقائق پر مبنی ہے لیکن کاش کہ ہمارے حکمران اپنی خارجہ پالیسی کو بناتے وقت آپ کے بتائے ہوئے حقائق پر بھی توجہ دیں امید ہے آپ اسی طرح کے حقیقی ایشوز کو آئندہ بھی اجاگر کرتے رہیں گے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker