تازہ ترینکالممیرافسر امان

طالبان ،مہربان ، ظالمان!!!

mir afsarصاحبو!یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ طالب علم کے معنی علم حاصل کرنے والے کے ہیں چاہے وہ دِینی ہو دُنیاوی! لیکن جن طالبان کا ہم ذکر کرنے جا رہے ہیں یہ اُن طالبان کا نام ہے جو پاکستان کے دینی مدارس میں دین کی تعلیم حاصل کر کے واپس افغانستان اپنے گھروں کو جاتے رہے تھے اور پھر نئی کھیپ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتی رہی اِس طرح طالبان کی کثیر تعداد وجود میں آ گئی۔ مزید دِین سے گہری محبت کی وجہ سے عام افغانی بھی شکل وصورت سے بھی اور عملی زندگی کے لحاظ سے بھی طالبان لگتے ہیں تو یہ ہوئے طالبان۔
اب ہم مہربان طالبان کا تجزیہ کرتے ہیں۔افغانستان میں روس کی شکست کے بعد امریکا بہادر اور اُس وقت کی ہماری پٹھو حکومت نے افغانستان میں مجائدین کے ذریعے اسلامی حکومت قائم نہ کرنے دی جہادی جماعتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک غیر مقبول شخص صبغت اللہ مجددی کو حکومت کا سربراۂ بنا دیا جس کا جہادِ افغانستان میں کوئی قابل ذِکر کردار نہیں تھا۔ امریکا( صلیبیوں) کی مسلمانوں کے متعلق خلافت کو ختم کرنے سے لیکر آج تک یہی پالیسی ہے کہ اسلامی دنیا میں کہیں بھی سیاسی اسلام کو نہیں آنے دینا چاہے وہ پُرامن مروجہ ا لیکشن سے ہی کیوں نہ آئے اِس کی مثال الجزائر اور مصر وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے امریکی کی مدد سے صبغت اللہ مجددی کی غیر مقبول حکومت کے دوران جب افغانستان میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی جو امریکا کی خواہش کے عین مطابق تھی تو اُس وقت کی ہماری پٹھوحکومت کے ذریعے طالبان اکٹھے کیے گئے اور کہا گیا کہ یہ طالبان ہمارے بچے ہیں شاید امریکا اور ہماری امریکی پٹھو حکومت کا خیال تھا کہ اِن کے پیدا کردہ طالبان کو جس طرح چاہیں گے استعمال کر لیں گے ۔اللہ کا کرنا کہ طالبان نے پورے ملک میں سفید جھنڈے کو لہرا کر تمام جنگجوں سے اسلحہ واپس لے لیا طالبان پورے افغانستان پر غالب ہو گئے امن وامان قائم کر دیا گیا پوست کی کاشت ختم کر دی گئی خانہ جنگی ختم ہو گئی افغانستان میں طالبان نے اسلامی امارت قائم کر دی اور مُلا عمر کو اپنا امیر المونین مان لیا۔ کچھ جزوی اختلافات چھوڑ کر اسلامی احکامات پر عمل شروع کر دیااور پورے ملک میں ایک پاکستان دوست مستحکم اسلامی ریاست قائم کر دی جس کو پاکستان نے قانونی طور پر تسلیم بھی کر لیا اِس سے پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو گئیں ایک لاکھ پاکستانی فوج جو اب مغربی سرحد پر تعّینات ہے اُس کی ضرورت نہ تھی۔ اِس طرح پاکستان کی دوست اور بھارت کی مخالف حکومت قائم کرنے والے طالبان مہربان تھے۔
اسلامی ریاست کے قائم ہونے پر امریکا بہادر کے کان کھڑے ہوئے ساتھ ہی ساتھ پاکستان دوست حکومت کی وجہ سے بھارت کے کان بھی کھڑے ہوئے ہم سب جانتے ہیں افغان جہاد سے پہلے افغانستان میں بھارت دوست ماسکو نوازحکومت قائم تھی بھارت کی دوست عوامی نیشنل پارٹی کے بھی اِس حکومت سے گہرے تعلقات تھے اِن کے لیڈر کی قبر بھی جلا ل آباد کے اندر ہے یہ پچاس ساٹھ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ افغانستان جایا کرتے تھے بھارت کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے ساتھ ٹینشن اور مغربی سرحد کو ڈسٹرب رکھنے کے لیے پختونستان کے مسئلے کو اُچھالتے رہتے تھے۔ خیبرپختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ختم ہونے اور اِن کے آپس کے اختلاف اور کچھ پارٹیوں کے انتخابات میں حصہ نہ لینے سے خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی کی کولیشن حکومت امریکی مدد سے قائم ہو گئی تھی۔اِسی دوران امریکہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ کو امریکہ آشیر باد کے دوران ( بقول اعظم خان ہوتی صاحب اور بیگم ولی خان صاحبہ ڈالر پیش کیے) افغانستان پر امریکی حملے کے بعدافغانستان کی بچی کچی اسلامی ریاست کو تیس نیس کرنے کا پروگرام بنایا گیا امریکا کے افغانستان پر حملے کے وقت سے طالبان پاکستان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں اِن طالبان کا موئقف ہے کہ پاکستان نے ایک کال پر ہمارے دشمن امریکا کا ساتھ دیاپاکستان امریکہ کا اتحادی ہے اس نے امریکا سے مل کر ہمارے ملک کا تورہ بورہ بنا دیا ہے لہٰذا پاکستان بھی ہمارا دشمن ہے ہمارے پاس جدید جنگی ٹیکنالوجی نہیں ہے اِس لیے ہم خود کش بمبار بنتے ہیں اور جو بھی ہم سے ہو سکتا ہے اپنے دشمن کے خلاف کرتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے طالبان ایک قوم ہیں آپس میں رشتہ دار ہیں۔پاکستان میں ڈمہ ڈولہ کی80 سے زائد طالبعلموں کی شہادت ، افغان سرحدی علاقوں سے حملے، لال مسجد،لڑکیوں کے مدرسہ حفصہ ، سوات ،جنوبی وزیرستان اور ڈرون حملوں وغیرہ کے بعد پاکستانی طالبان پاکستان میں کاروائیاں کرنے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے اسلامی حلقوں سے ہمدردی کے لیے پاکستان میں اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں مگر پاکستان کی اسلامی جماعتیں مسلح کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتیں وہ اسلام کے پُر امن پروگرام کے تحت جد وجہد کے صحیح تصور پر گامزن ہیں اور ان ظالمان کی بے گناہوں پرکاروائیوں کو رَد کرتے ہیں ۔ اسلام میں جنگ کے دوران بے گناہوں،عورتوں، عبادت گاہوں پر حملوں کو پسند نہیں کیا گیا بلکہ منع کیا گیا ہے بہ ہر حال اس میں جو طالبان لڑکیوں
کے اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں،مزاروں، بازاروں،عبادت گاہوں، پر حملے کرتے ہیں یقیناً وہ ظالمان ہیں۔
قارئین! ہمارے ملک میں اس تجزیہ سے جو بات سامنے آئی ہیں وہ یہ ہے کہ ڈیکٹیٹر مشرف کو ایک مسلمان پڑوسی ملک جس نے ہماری مغربی سرحد محفوظ بنا دی تھی کے خلاف امریکا کا اتحادی نہیں بننا چاہیے تھا۔ ناٹو کینٹینرز کی وجہ سے ہمارے ملک کا 150؍ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔18 ہزار سے زائد کنٹینرز کی گم شدگی کی وجہ سے جدید اسلحہ پاکستان کے خلاف کاروائیں کرنے والوں مقامی ایجنٹوں کے ہاتھ پہنچ چکا ہے جس کا ذکر سپریم کورٹ میں بھی سنا جا رہا ہے۔ پاکستانی قوم دو سوچوں میں بٹ چکی ہے ہماری مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد بھی ڈسٹرب ہو چکی ہے۔ ملک میں گوریلہ جنگ ہو رہی ہے ۔ہمارے دفاعی ادارے اس صورت حال کے تحت اپنی ہیڈکواٹرز کے اندر ہی مورچہ زن ہو چکے ہیں اور عوام کی حفاظت کرنے سے مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ہماری دفاہی انسٹالیشن جن میں ہمارے جنرل ہیڈ کواٹر،ایئر بیس،نیول بیس پر حملوں سے نقصان ہو چکا ہے اس سے ہماری بہادرفوج پر منفی اثر پڑھ رہا ہے۔یہ سب کام ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمن کر رہے ہیں امریکا سازش سے اپنی جنگ کو پاکستان کی جنگ بنا چکا ہے۔جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے اس کی مخالفت کرتا ہے جب طالبان اور نواز حکومت ایک میز پر آنے لگے اور تین رُکنی ٹیم مذاکرات کے لیے تیار ہوئی توڈرون حملہ کر کے پھر جنگ کی آگ بھڑکا دی۔اس ے قبل پشاور کے کور کمانڈر نے بھی نیک محمد سے معاہدہ کیا تھا تو امریکا نے نیک محمد کو ڈرون حملہ کر کے شہید کر دیا تھا مشرف نے بہادری سے کہا تھا اِس کو پاک فوج نے شہید کیا ہے۔اِس حالت میں پاکستان کو طالبان سے ہر قیمت پر مذاکرات کرنے چاہیںآج کے اخبارات میں اچھی خبر آئی ہے کہ حکومت ملک کے علماء سے رابطے کر رہی ہے ہم طالبان سے بھی کہیں گے کہ وہ علماء کی عزّت کا خیال کریں اور امریکی چالوں میں ٹریپ نہ ہوں چائے حالات کچھ بھی ہوں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس گوریلہ جنگ کو ختم کریں مذاکرات جب ہوتے ہیں تو کچھ لو کچھ دو کی بات ہوتی ہے۔ خیبرپختونخواہ کے عوام اسلام سے والہانہ محبت رکھتے ہیں پہلے بھی سوات میں امریکا کے کہنے پرمولانا صوفی محمد سے شریعت کے نفاظ کا وعدہ کر کے وعدہ خلافی کی گئی اور اُسے قید کر دیا گیا جس سے حالات خراب سے خراب تر ہوئے۔ اچھی بات ہے اُس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ایک پاکستان کے ہمدرد عالم جناب ڈاکٹر محمد امین نے اپنے رسالے البرہان لاہور میں اپنے ایک مضمون میں تجزیہ کیا ہے، جس کی ہم تائید کرتے ہیں کہ اگر انڈونیشا کے ایک صوبہ میں عوام کا مطالبہ مان کر اسلامی نظام نافظ ہو سکتا ہے تو ہمارے ملک کے صوبے خیبرپختونخواہ میں ایساکیوں نہیں ہو سکتا ؟کیا پاکستانی طالبان جن کو حالات نے جَنگ جُو بنا دیاہمارے ملک کے باشندے نہیں ہیں؟۔ ڈیکٹیٹر مشرف کی ایک غلطی سے پاکستان ،فوج اور عوام کا بہت جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے۔ اب اس جنگ کو ہر حال میں ختم ہو نا چاہیے۔اللہ ہمارے ملک اور عوام کی حفاظت فرمائے آمین ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button