تازہ ترینغلام مرتضیٰ باجوہکالم

طالبان سے مذاکرات اور سیاستدان

ا کہ پہلے سے اندازہ تھا طالبان کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ سب سے پہلے سامنے آئے گا۔ ابھی طالبان نواز حلقے اس مقصد کے لئے فضا سازگار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر حکومت نے سخت گیر رویہ اختیار کیا تو اسے حکومت کی ہٹ دھرمی قرار دے کر مذاکرات سے دست کش ہونا بھی آسان ہو گا۔ اور اگر حکومت نے نام نہاد امن کے نام پر طالبان کے دہشت گردوں کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی تو طالبان اس کے بعد قبائلی علاقوں سے فوج کے مکمل انخلاء اور معاوضہ کے مطالبات سامنے لائیں گے ۔حکومت کی طرف سے پرانی مذاکراتی ٹیم کو تحلیل کرنے اور سرکاری افسروں اور ایک سابق سفارتکار پر مشتمل نئی کمیٹی نامزد کرنے کے بعد سرکاری کمیٹی کے ارکان کے روزانہ میڈیا سرکس میں تو کمی آئی ہے لیکن طالبان نے پاکستان کے جن دو سیاسی رہنماوں کو اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا وہ بدستور طالبان کی وکالت میں میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ نئی خبر کی تلاش میں اخبارات اور ٹیلی ویژن نیوز چینل بھی ان لوگوں کو پبلیسٹی دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لے رہے ۔
حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد سرکاری طور پر تو کچھ نہیں کہا گیا لیکن طالبان کی طرف سے تین سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے ۔ طالبان کہتے ہیں کہ لوگ بوڑھے ، خواتین اور بچے ہیں۔ حکومت نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خواتین اور بچے اس کی تحویل میں نہیں ہیں۔موصولہ خبروں کے مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور فریقین نے اپنی اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حکومت کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ طالبان نے جنگ بندی کے لئے جو ایک ماہ کی مدت مقرر کی ہے اسے ختم کیا جائے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی، سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اور پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ طالبان کی طرف سے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
طالبان نے اپنی نام نہاد نمائندہ کمیٹی کے نام پر جو پاکستانی سیاستدان نامزد کئے تھے ، وہ بھرپور طریقے سے طالبان کی ترجمان کا حق ادا کر رہے ہیں۔ مولانا سمیع الحق طالبان کی حمایت میں بیان داغتے ہوئے حکومت اور فوج کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دینا نہیں بھولتے جبکہ پروفیسر ابراہیم خان نے طالبان قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ طالبان کے ان پاکستانی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ خیر سگالی کی فضا پیدا کرنے کے لئے قیدی رہا کرے تا کہ بات چیت آگے بڑھ سکے ۔ بوڑھوں اور خواتین کا نام لے کر طالبان درحقیقت جن قیدیوں کو رہا کروانا چاہتے ہیں وہ سب سنگین الزامات میں گرفتار ہیں۔ ان پر دہشت گرد حملے کرنے اور لوگوں کو ہلاک کرنے کے الزامات ہیں۔ ملک کے ناقص نظام عدل اور حکومت کی کمزوری کی وجہ سے ان لوگوں کے خلاف عدالتوں سے فیصلے حاصل نہیں کئے جا سکے ۔ بعض دہشت گردوں کو موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے لیکن حکومت نے ان سزاوں پر عملدرآمد روکا ہوا ہے ۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اگرچہ طالبان کا سرکاری نمائندہ بننے سے معذوری ظاہر کی تھی تاہم وہ صبح و شام ایسے بیانات داغتے ہیں جن سے طالبان کا مقدمہ مضبوط ہو رہا ہے ۔ ان کی باتوں سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک حق پرست گروہ اپنے جائز مطالبات کے لئے قتل و غارت گری پر مجبور کیا گیا تھا۔ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ عمران خان کے بقول مذاکرات شروع ہونے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ طالبان کے کون سے گروہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور کون سے گروہ اس کے خلاف ہیں۔ اس طرح اچھے اور برے کی پہچان کرنا آسان ہو جائے گا۔ایک تازہ ترین بیان میں عمران خان نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ طالبان طاقت کے زور پر ملک میں شریعت کا نفاذ نہیں چاہتے ۔ بلکہ ان کی ساری جدوجہد امریکہ کی مسلط کردہ جنگ سے نجات حاصل کرنے کے لئے تھی۔ نہ جانے عمران خان اپنے اس متضاد بیان سے کون سا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور شریعت کے نفاذ کے حوالے سے وہ طالبان کے نقطہ نظر کی وضاحت کرنے پر کیوں مجبور ہوئے ہیں۔ تاہم ان سے یہ سوال تو ضرور کیا جا سکتا ہے کہ اگر تنازعہ محض امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تھا تو طالبان نے کس استحقاق کے تحت پاکستان کے 50 ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں کو اپنے دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے ۔ اور اگر وہ اپنی خود ساختہ شریعت کے نفاذ میں دلچسپی نہیں رکھتے تو مذہبی اقلیتوں اور بزرگان دین کی درگاہوں پر حملے کس خوشی میں کئے گئے تھے ۔
عمران خان نے چند ہفتے قبل جب اپنے گھر پر وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے قبائلی لوگوں کے تحفظ کا ذکر کیا تھا۔ اب بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے قبائلی لوگوں کے نمائندے مقرر ہونے چاہئیں تا کہ وہ اپنی صورتحال کے مطابق طالبان قیادت سے معاملات طے کر سکیں۔ ان دونوں دلائل کو تسلیم کر لیا جائے تو ایک بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ طالبان قبائلی علاقوں کے نمائندے نہیں ہیں ۔ بلکہ انہوں نے ان علاقوں میں آباد لوگوں کو طاقت کے زور پر یرغمال بنا رکھا ہے ۔دریں حالات حکومت یا قبائلی عوام کے نمائندے درحقیقت ان یرغمالی طاقتوں سے بات چیت کر رہے ہیں جن کی واحد طاقت یہ ہے کہ وہ قانون کا احترام کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اسلحہ کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں بجا طور پر حکومت اور عمران خان دونوں سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ طاقت کے اس دنگل میں قبائلی عوام کی حیثیت کیا ہے ۔ وہ حکومت اور سیاستدان جنہیں ان لوگوں کی حفاظت کا مینڈیٹ دیا گیا تھا ، کیوں کر ان گروہوں سے بات چیت کو اپنی بہت بڑی فتح قرار دے رہے ہیں جو درحقیقت عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ طالبان کی اصل جنگ امریکی تسلط کے خلاف ہے تب بھی یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ کسی مسلح گروہ کو اپنے ایک سیاسی مؤقف کے حصول کے لئے قتل و غارتگری کی اجازت ہو اور ملک کے سیاسی و مذہبی رہنما اس کی تائید میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہیں۔ یک طرفہ طور پرطالبان کے مطالبات کی بات کرنے والے رہنما قبائلی عوام کے حقوق کو فراموش کر رہے ہیں۔طالبان کا ایک جرم تو دہشت گردی ہے ۔ انہوں نے بم دھماکوں اور خود کش حملہ آوروں کے ذریعے ملک بھر میں خوں ریزی کا بازار گرم کیا ہے ۔ لیکن ان کا یہ جرم بھی ناقابل معافی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایک وسیع علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کیا ہوا ہے اور اب حکومتِ پاکستان کسی مفتوح مملکت کی طرح ان ’’ فاتح ‘‘ گروہوں سے بات چیت کرتے ہوئے رحم کی اپیل کر رہی ہے ۔ عمران خان جیسے نا سجھ اور ناعاقبت اندیش سیاستدان اپنی دھن میں اس حکمت عملی کو کامیابی کا زینہ قرار دے رہے ہیں۔کسی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ امریکہ کی پالیسیوں اور توسیع پسندانہ حکمت عملی پر نکتہ چینی کی جائے ۔ نہ ہی کوئی شخص عمران خان کو اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ ملک بھر میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے مہم سازی کریں۔ انہوں نے نیٹو سپلائی کو روکنے کی ناکام مہم جوئی کے دوران اپنا یہ شوق پورا بھی کر لیا ہے ۔ لیکن قومی سطح کے ایک لیڈر کو کسی طور یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے مخصوص نقطہ نظر کی ترویج کے لئے ملک میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کریں اور ان کے مطالبات کو جائز قرار دیں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button