تازہ ترینکالم

تعلیم کے ساتھ غریب کو بھی ووٹ دیں

sahara iaqbalحق زندگی اور حق آ زادی کے بعد تیسرا بڑا فطری حق ملکیت کا ہے ۔ ملکیت کا مألہ قدیم اور نیم مذ ہب انسانوں کے زمانے سے لے کر آج تک اتنا اہم ہے کہ اس پر کتنے ہی خون بہے ، بڑی بڑی جنگیں لڑی گیںئ سیاسی اور معاشی نظریوں کا وجود ہوا ۔آج پاکستان کا ہر وہ شہری جو ہر قسم کی ملکیت سے محروم بے بسی کی تصویر بنا نظر آتا ہے بے شمار قومی اثاثے ، بڑی بڑی عمارتیں ، اور بے شمار وساأل ہونے کے باوجود پاکستان غریب طبقہ صرف دو وقت کی روٹی کیلئے دن رات محنت کرتا ہے۔آج پاکستان کا ہر وہ شہری جو شعور رکھتا ہے وہ خود پہ فا ئز عہداداروں اور حکمرانوں سے حق زندگی اور حق آ زادی کے ساتھ ساتھ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اپنے تمام تر حقوق چاہتا ہے،اسی طرح اپنی زندگی گزارنے کے ذرا ئع کا مطالبہ بھی کرتا ہے وہ ذرا ئع جو اسے اچھی زندگی جینے کی امید دلاأیں اور اس کی شخصت کو ترقی دے سکیں ۔پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک کی تاریخ کا بغور جا ئزہ لیا جا ے، تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حق زندگی اور حق آ زاد ی کے لیے ایک عام شہری کو آگ اور خون کا دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔جیسا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے عوام جمہوریت ، ریاست اور اپنا مستقبل بچانے کی خاطر مختلف شہروں ،بلخصوص شہر ق�أد کراچی کی سڑکوں کو اپنے خون سے سیراب کر رہے ہیں ۔مقصد صرف مخلص اور محبِ وطن حکمران ہیں ۔
۱می۳۱۰۲پاکستان میں انتخابات سب سے بڑا سیاسی دنگل ہو گا انتخابات میں کچھ گھنٹے باقی ہیں۔ اوھرراہ نما بہت بڑے بڑے وعدوں اور دعوں کے سا تھکہیں پاکستانی قوم اور کہیں ہجوم میں کھڑا نظر آتے ہیں۔ جہاں۶۶ویں برس میں قدم رکھتے پاکستان کوبجلی کا بحران پسماندہ ممالک کی صف میں شامل کر رہا ہے وہیں بیروز گاری، بدامنی، توڑ پھوڑ، ہنگامے ،اور جلسے جلوس ملک بھر میں ٓانکھ مچولی کا کھیل کھیل ر ہے ہیں ایک طرف بار بار آزماے گے حکمران اور دوسری طرف۱۹کڑوڑ عوام کا مستقبل ۔ ٹیلی و ژن سکرین پر باری باری سارے ھکمرانوں کو تعلیم کو ووٹ کرتے ہوے میں محو حیرت تھی کیونکہ انتخابی مہم کے انتطامات، کاغذات کی نامزدگیاں اورپھرانتخابی نشانات کی الاٹمنٹ ایک ایک کر کے سب کام اپنے انجام کو جا پہنچے ، لیکن پاکستان کی شہری ہوتے ہوے بھی میں ایک طویل عرصے میں یہ بھی نہیں جان پائ کہ تعلیم کاانتخابی نشان کیا ہے ؟
اگر ۸ کروڑ اور ۶۱ لا کھ پاکستانی عوام تعلیم(جس کا انتخابی نشان بھی ابھی تک کسی کو نہیں معلوم) ووٹ دیں گے تو پھرکیا بھوک و افلاس کی وجہ سے۷۰ لاکھ ا سکولوں سے باہر مارے مارے پھرنے والے بچے یقینًا ۱۲ مئ سے ہی اسکولوں کا رخ کرنا شروع کر دیں گے؟۔ مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ ان بچوں کو اور یومیہ دو ڈالر سے بھی کم کمانے والے مزدور طبقہ کو ووٹ کون دے گا ؟جو کہ ہر روز مجبوراً اپنی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں ، تعلیم یافتہ بڑے لوگوں کی گاڑیاں کے شیشے صاف کرتے نظرآتے ہیں یا پھر کچرے کے ڈھیر پرشاید اپنے مستقبل کے لیے کچھ تلاشتے نظر آتے ہیں ۔ان کا کیا قصور ؟ کہ کوئ بھی ان کو ووٹ کیوں نہیں دے رہا۔میں انہیں ووٹ دینا چاہتی ہوں جو قانونً ووٹ دینے کاحق نہیں رکھتے ۔ وہ بچے جو اپنا کوئ بھی فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔
مجھے تعلیم تو چاہے لیکن اس کے ساتھ ہی زندگی جینے کے لیے زندہ رہینے کے لیے دو وقت کی روٹی میری اولین ضرورت ہے جن ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونا چاہے وہ آج پتہ نہیں کس کس کے غلط فیصلوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ میں انہیں ووٹ دینا چاہتی ہوں جو قانونً ووٹ دینے کاحق نہیں رکھتے میں نوجوان نسل میں شامل ہوں میں اگر خود کو تعلیم یافتہ نہ بھی مانوں توپھر بھی شعور کی سرحدوں پر قدم رکھ چکی ہوں اور اپنے بل بوتے پر تعلیمی میدان میں آہستہ آہستہ آگے قدم بڑھا رہی ہوں ایک انسان اور باشعور شہری ہونے کی حیثیت سے میرا فرض بنتا ہے کہ میں انسانیت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے غربت کو ووٹ دوں،احساس محرومی کو ووٹ دوں ،قابلیت کو ووٹ دوں ،اپنے کل کے مستقبل کو ووٹ دوں ۔یہ وقت ہے کہ نوجوان نسل اپنے ملک کے ان لاکھوں بچوں کو سہارا دے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ روٹی ،کپڑا اور مکاں سے بھی محروم ہیں اور پاکستان جس کا مطلب لا الہ الا ﷲ ہے کی بنیاد کو مضبوط کرے ان لاکھ وں بچوں کو حق زندگی آزادی کے بعد تعلیم کے حصول کے لیے بھی راستہ دیں مجھے آج اپنے لیے نہیں بلکہ خود سے چھوٹے ان معصوموں کو ووٹ دینا ہے جو وردی میں کتابیں تھامے بچوں کو حسرت و حیرت سے دیکھتے ہیںیہ بچے ہمارے بعد پاکستان کا مستقبل ہیں ۔تعلیم کو ووٹ دیں مگر یس کے ساتھ ہی غریب کو بھی ووٹ دیں ۔note

یہ بھی پڑھیں  نواز شریف جا رہے ہیں، اسحاق ڈار عبوری وزیر اعظم ہو ں گے:شیخ رشید احمد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker