تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

تعلیم اور حکو متی کشکول تعلیم پر امداد

چائلڈ آرڈینینس کا قانون بنایا جانا اور اُس پر عملدرآمد کرنا بہت عرصہ سے چل رہا ہے پرائیوٹ سکولوں کا بورڈ سے الحاق اور رزلٹ کا زیرو ہونا سب سے بڑا مسئلہ جو اس وقت قومی مسئلہ بن گیا ہے۔ ہمارے ملک کا المیہ ہے غریب کے بچوں کو بنیادی تعلیم سے محرم رکھنا چھوٹی عمر میں بچوں کا گھروں میں کام کرنا ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں محنت مزدوری کرناچائے کے سٹالز پر چائے پیش کرنا یہ سب کچھ پاکستان میں ہوتا ہے صرف قانون بنایا جانا نہیں ہوتا بڑے بڑے سیمنار میں باتیں کرنا کہ حکومت چائلڈ آرڈ ینینس پر پوری طرح عملدرآمد کر رہی ہے اگر پورے ملک کا سروے کیا جائے تو تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے وفاقی وزیر تعلیم کا کیا کام ہے تعلیم کو فروغ دینا موصوف جہاں بھی جاتے ہیں تعلیمی پالیسی پر بات کرنے کے بجائے حکومتی پالیساں بیان کرنے لگ جاتے ہیں وفاقی وزیر تعلیم کو اپنے حلقہ میں افتتاحی تقاریب میں مہمان خصوصی بننے کا بھی بہت شوق ہے چاہے پر و گرام کوئی بھی ہو خوشی سے ہر جگہ برجمان ہوتے ہے اس لئے کہ وزیر اعظم کی طرح ان کی خبریں روزانہ لگی ہو اور جب بھی بات کرتے ہیں اپنی وزارت پر نہیں بلکہ وزیر اعظم کی تعریف کر تے ہوئے نظر آتے ہیں ، اس بار وmirz arifزات تعلیم کاقلمدان جنوبی پنجاب کے حصہ میں آہی گیا ہے تو جنوبی پنجاب سے محرومیاں کو ختم کرنا چاہیے اگر دانت والے ڈاکٹر سے آنکھ کے بارے میں بات کریں گئے تو بے وقوف ڈاکٹر نہیں ہم ہو گئے وفاقی وزیر تعلیم جنوبی پنجاب سے ہیں اور سب سے زیادہ لیبر چائلڈ بھی جنوبی پنجاب میں ہیں محنت مزدوری بھی جنوبی پنجاب میں بچوں سے کروائی جاتی ہے وفاقی وزیر تعلیم کی سوچ بھی وہی ہے کہ پٹواری تحصیلدار پاسپوٹ آفیسر ڈاکٹر ایس ایچ اُو اور تمام محکوں کے چھوٹے موٹے کلرک کوٹھی پر حا ضر ی ضرور دیں جب ایسی سوچ رکھنے والوں کو وزیر بنایا جائے گا تو وطن عزیز ترقی نہیں کرے گا اگر صوبائی وزیر تعلیم کو اس بات کا علم نہیں ہو گا کہ سب سے زیادہ پنجاب کے کس علاقہ کو تعلیم کی ضرورت ہے اور محرومیوں کا شکار کون سا علاقہ ہے ،صوبائی وزیر تعلیم کو جواب دینا مشکل ہو جائے گا جنوبی پنجاب کے علاقہ ضلع بہاول پور کے ساتھ سمہ سٹہ میں کالج جو کہ ابھی تک نہ مکمل ہیں ظلم کی بات یہ ہے کہ اس کے فنڈ بھی روک لیے گئے ہیں کیوں کہ سابق ایم پی اے کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا موجودہ ایم پی اے مسلم لیگ (ن) سے ہے سابق ایم پی اے کو تعلیم سے بہت لگاؤ تھااور موجودہ ایم پی اے کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ اس منصوبہ کو پائے تکمیل تک پہنچا سکے اگر (ن) لیگ تعلیم کے دعویٰ کرتی ہے تو پھر سمہ سٹہ والوں کا کیا قصور ہے پاکستان کا قانون ہے جہاں چالیس ہزار کی آبادی ہو وہاں کالج کا ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن حکومتی فنڈ روک دیا گیا ہے وفاقی وزیرے تعلیم کو بھی علم نہیں ہو گا اور موجودہ ایم این اے اور ایم پی اے بھی لگتاہے ابھی تک بے خبر ہیں پوری دنیا نے جب اپنے ملک میں پالیسی پر غور کیا تو سب سے زیادہ تعلیم پر غور کیا ۔
آج میر ی نظر ایک خبر پر گئی تو میں حیران رہے گیا اور سوچتا رہا کہ ہم ترقی کیوں نہیں کرتے دنیا کس طرح ترقی کر گئی ہے قانون وہاں سب کے لیے برابر ہے چاہیے غریب ہو یا پھر امیر ۔۔۔واقعہ کچھ اس طرح ہے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیر نے خاموشی سے اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے ایک ٹیوٹر کا بندوبست کیا ٹیوٹر وزیر اعظم ہاوس جا کر چھوٹے بیٹے کو پڑھاتا تھا کسی طرح یہ بات میڈیاتک پہنچ گئی اور بعد میں وہی بات اپوزیشن تک بھی پہنچ گئی پوری اپو زیشن نے اسمبلی کے فورم پر طوفان کھڑا کر دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار ختم ہو گیا سکولوں میں تعلیم کا معیار بہتر نہیں رہا وزیر اعظم جواب دے اپوزشن کو بھی اور قوم کو بھی وزیر اعظم کے بیٹے کو ٹیوٹر کے پڑھانے کا مطلب ہے کہ ہمارے ملک میں سرکاری سکولوں کا نظام ٹھیک نہیں چل رہا اس بات کا جواب جب تک وزیر اعظم نے اپوزیشن کو نہیں دیاجب تک معافی نہیں مانگی اُس وقت تک اپوزیشن نے جان نہ چھوڑی لیبر پارٹی کو اس بات پر اتنی شرمندگی ہوئی کہ برطانیہ کے وزیر اعظم نے پوری قوم سے اس بات پر معافی مانگی اور ٹیوٹر کو بھی فوری طور پر گھر آنے سے منع کر دیا اس کو کہتے قوم اور ترقی ایک ہم ہیں کہ ہمارے بچے سکول سے گھر آتے ہیں ابھی بیگ رکھ کر کھانا کھاہی رہے ہوتے ہیں کہ گھر میں ٹیوٹر کے آنے کا وقت ہو جاتا یا پھر پرائیوٹ اکیڈ می جانا ضروری ہوجاتاہے ہمارے وطن عزیز میں تعلیم بھی بہت بڑا بزنس بن گیا ہے جس کو کوئی کام نہیں ملتا وہی چار کمروں کا گھر کر ایہ پر لیے کر اپنا سکول کھول لیتا ہے یا پھر اکیڈمی کا نام دے کر پڑھنا شروع کر دیتا ہے سرکاری سکولوں میں کچھ عرصہ پہلے تعلیم کا معیار بہت بہتر تھا ٹاٹ پر تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم ٹیوشن نہیں پڑھتا تھا اُس دور کے ٹیچر جب کلاس میں کھڑے ہو کر لکچر دیتے تو سب کچھ سمجھ میں آجاتا سکول ٹائم ختم ہونے کے بعد ہونہار بچوں کو ٹیچر ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا کر سمجھتا ماضی میں تعلیم کا معیار آج سے بہت بہتر ہوتا تھا ، لیکن آج تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہے ہر غریب آدمی کی کوشش ہوتی ہے میر ا بچہ اچھے سکول میں تعلیم حاصل کرے باپ چاہیے محنت مزدوری بھی کرتا ہو اپنے بچے کو اُس سکول میں داخل کرتا ہے جہاں انگلش پڑھائی جاتی ہو اور بچے کو کچھ آتا ہو یا نہ آتا ہو انگلش ضرور آتی ہو ہمارے ملک میں قومی زبان کو اس طرح ختم کیا جا رہا ہے جس طرح ہم کبھی اُردو بولنے والے بھی نہ ہو اپنی قومی زبان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے ایسی ہی علا قائی زبان بھی ختم ہوتی جارہی ہیں تعلیم پر بہت سے قانون بنائے گئے لیکن 1947ء سے لیکر 2016 ء تک عمل نہیں کیا گیا ہماری بھی وہی مثال ہے۔۔ کوا۔۔ چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ۔۔۔ایک دور تھا جب دنیا بھی ترقی یافتہ نہیں تھی لیکن اُس وقت کے حکمرانوں نے تعلیم کی طرف توجہ مرکوز رکھی لیکن اب اس ترقی یافتہ دور میں جب دنیا کی نظر جب ہمارے ملک پر پڑتی ہے تو وہ حیران ہوتے ہیںیہ کس طرح کی قوم ہے جو دنیا سے تعلیم کے نام پر امداد لے کر بھی تعلیم پر توجہ نہیں دیتی تو ہر ملک یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کو تعلیم پر امداد دی جائے یا نہیں اور کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم تعلیم کے لیے بھی اپنا کشکول دوسروں کے آگے کرتے ہیں کہ اس میں کچھ ڈالر ڈال دیں ہمارا ملک بہت غریب ہے ہمارے پاس پڑھنے کے لیے بھی رقم نہیں ہے جب کبھی تاریخ لکھنے والا یہ بھی لکھے گا کہ ہر سال اربوں کی کرپشن کرنے والے تعلیم پر بھی کرپشن کرتے تھے تو آنے والی نسلیں کیا سوچیں گئی
ہر ایک بات کر کہنا اور بار بار وہی بات کہ ہم تعلیم کو عام کر دے گئے وہی قوم ترقی کرتی ہے جو پالیسی پر عمل کرتے ہیں یہاں تو تعلیم حاصل کرنے کے بعد انٹری ٹیسٹ سے گزرنا بھی ضروری ہے اگر انٹری ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہے تو پھر پاکستان بورڈ پر جو اتنا خرچہ کیا جا رہا ہے وہ بھی فضول ہے حکومت پاکستان کے قانون میں سب سے پہلے سرکاری سکول بعد میں کچھ اور اگر پورے ملک میں پرا ئیوٹ سکولوں میں تعلیم اہم ہیں تو پھر حکومت توجہ دے پرائیوٹ سکولوں میں تنخو ا سرکاری سکول کے طرح کی جائے پرائیوٹ سکولوں کو بھی آڈ ٹ میں شامل کیا جائے ٹیچر وں کی تنخو ا ں کا عمل بھی بنکو ں سے ہو نا چاہیے جب تک پالیسی پر عمل نہیں ہوگا تعلیم عام نہیں ہوگئی حکومتی توجہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ؟

یہ بھی پڑھیں  افسوس صدافسوس

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker