تازہ ترینکالم

دینی وعصری تعلیمی اداروں کی نظامِ تعلیم پر ایک طائرانہ نظر

rizwan pasroriہرقوم وملّت کو تعلیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے،تعلیم کے بغیرانسان ،انسانی شکل میں حیوان ہوتا ہے کیونکہ تعلیم یافتہ انسان ہرگوشۂ زندگی سے آگاہ ہوتاہے اورہرکام کاطریقہ اورڈھنگ جانتاہے لیکن آج کل توتعلیم فقط نام کارہ چکاہے۔ سکولوں میں بھی زبانی جمع خرچ کی جاتی ہے ،فقط فیس کو جمع کیاجاتاہے اورپھرامتحانات میں اپنے ہال ہوتے ہیں بہ استثنائے چند جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں،نہ کوئی سائنسدان بنا سکے اور نہ کوئی سائنسی تحقیقاتی ادارہ جو مغرب کا مقابلہ کر سکے، ہسپتالوں کا نظام دیکھیں،بیوروکریسی پر نظر ڈالیں ،عدالتوں کے نظام کو دیکھیں منتخب قومی نمائندوں کی بے رحمانہ کرپشن ،جانوروں سے بڑھ کر دھنگامیشتی،اقرباپروری اور نا اہلیت ہمیں کیوں نظر نہیں آتی ۔
پاک فوج کے عظیم ادارے کو فحاشی وعریانی اور نااہلی کہاں لے ڈوبی کہ ایک فون کال پر دشمن کے سامنے سرنڈر کرنے والے بن گئے،جو سقوط ڈھاکہ ناکام کشمیر کاز،کارگل پر پسپائی اور پھر آئے روز مٹھی بر نام نہاد دہشت گردوں کی آڑ میں اپنے ہی نہتے عوام سے نبردآزما ہیں،یہ ملک وعوام سے کیسا کھلواڑ ہورہا ہے پھر نام نہاد دانشور ،کالم نگار صاحبان صرف غیر ملکی اور مغربی میڈیا کی رپورٹس کو بنیاد بنا کر مدارس اور مدارس کے نصاب ونظام پر بن دیکھے آندہادھند تنقید کرتے نہیں تھکتے،زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا،مدارس کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور یہ بیچارے ابھی تک خواب خرگوش میں غافل ہیں۔
مجھ پراس۲۵سالہ زندگی میں دوادوارتعلیم کے لحاظ سے گزرگئے ایک وہ دور تھاکہ جب ہم پرائمری اورمڈل لیول میں پڑھتے تھے تو اس وقت جب ہم کتا ب کھولتے تھے تو اول وھلہ میں نظر حمد ونعت پر پڑتی تھی او رپھر اس کے بعد ایک سبق محمد ﷺ کی سیرت پر مشتمل ہوتا تھا مجھے اچھی طرح یا د ہے کہ جب میں پانچویں جماعت میں پڑھتاتھا تو اس وقت جب ہم ’’ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ‘‘والی سبق پڑھتے تھے تو ہمارے استاذ محترم نے ہمیں سیرت کی پہلو پر ایک طویل لیکچر دیا تھا تو ظاہر بات ہے کہ جب بچپن ہی سے آدمی کے ذہن میں آقائے نامدار ﷺ کی سیرت کی ایک ایک پہلو کا تذکرہ ہو تو جو ں جوں آدمی بڑھتا جائیگا تو تب تک اس کے ذہن میں وہ سارا نقشہ ہوتا ہے اورپھر اس کو بچپن کی وہ یادیں ستاتی ہیں تو وہ اسی شوق اور ولولہ کو لیکر اپنے آقائے نامدارمحمد ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور آہستہ آہستہ سیرت النبی ﷺ کو اپناتے اپناتے پرامن،محب وطن شہری اور عدل وانصاف کاداعی،شجاعت وبہادری کا پیکراور کامل ومکمل خوددار انسان بن جاتا ہے ۔
اور دوسرا دور یہ ہے کہ آج ہی میں نے بارہویں جماعت کی اردو کتا ب مطالعہ کے لیے اٹھائی تو بہت افسوس ہو ا کہ اس کی ابتداہی ایک افسانے سے کی گئی تھی اور اس میں ایک خواب کا تذکرہ کیا ہے ، فقط ایک جھوٹا افسانہ کے اس کو پڑھا اور کچھ بھی حاصل نہ ہو،ا نہ کچھ آیا نہ کچھ گیا ۔تو یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران خواب خرگوش میں سوئے ہیں ۔ اسی وجہ سے تو ان کی تعلیم بھی خوابوں سے شروع ہوتی رہی ہے اور پھر وہ خواب جو شرمندہ تعبیر بھی نہ ہو سکے۔ اب ہماری ان غلطیوں کا ازالہ کیسے ہو ؟ تو اس کے لیے پشاوری کے ذہن میں یہ ایک ترکیب آئی ہے کہ ہمارے حکمرانوں سے درخواست ہے کہ علماء ، اردو ادیبوں اور مشہور نامور ہستیوں کو جمع کر کے ایک نصابی کمیٹی تشکیل دی جائے اور پھر جب یہ کمیٹی ایک ہدف تک پہنچ جائے یا ایک نصاب تشکیل کر دیں اور پھر یہی نصاب ہو نہ کے اس میں دن بدن تبدیلی لاتی رہے، اسی دن بدن تبدیلی کی وجہ سے تو ہمارے نظام تعلیم کا یہ حال ہے ، اس کے برخلاف مدارس کا نظام تعلیم ہے جب سے دارالعلوم دیو بند قائم ہوا ہے اور اسی وقت علماء کرام نے مسائل جھیل کر کے ہر لیول کے طلبائے کرام کے لیے ایک نصاب مقرر کررکھی ہے تو آج تک وہی نصاب الحمد للہ ایک منظم تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت قائم ہے لیکن بعض لوگوں نے مدارس کے نظام تعلیم کو بھی نہیں چھوڑا ، اب اس میں تبدیلی لانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، آجکل مدراس کے نصاب و نظام پر یہ اعتراض بہت شد و مد کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ مدارس کا نصاب وقتی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اس سے ملکی ضروریا ت پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ حالانکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ اعتراض بے جا ہے کیو نکہ مدارس کا نصاب عصری تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور مدارس کے تعلیمی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور وہ وقتاًً فوقتاًاس نصاب کا جائزہ لیتی رہتی ہے اور جہاں پر ٹیڑھا پن ہو تو وہا ں سے وہ کمزوری دور کر کے مکمل طور پر مفید آمیز بنا دیتی ہے ۔
مخصوص دینی راہنمائی کے علاوہ آج کل مدارس والے صحافت میں آرہے ہیں آپ کے شعبہ تعلیم میں قدم جما رہے ہیں،معاشیات اور اسلامک بینکنگ میں کامیابی کے ساتھ چھا رہے ہیں،رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں،کمپیوٹر اور نیٹ کے اس زمانے میں مدارس والے ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور عنقریب حق وباطل کا یہ معرکہ عہد رفتہ کی طرح مدارس ہی سر کرے گا انشاء اللہ۔
غرض یہ کہ مدارس کے نصاب و نظام مکمل طور پر متحرک اور جس مقصد کے لیے دینی نظام کو بنا یا تھا مدارس کے نصاب و نظام سے وہ مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ آجکل ہمارے بعض بھائی مدارس پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ مدارس دنیا کی لب ولہجے سے ناآشنا ہے ۔ اگر اس اعتراض پر ہم غور کریں تو یہ اعتراض بے محل ہے کیو نکہ مدارس دنیا کے ساتھ چلنے کی سکت رکھتے ہیں اور ہمیشہ دنیا کے لوگوں کی خدمت کی ہے اور جب بھی اس قوم و ملت پر کوئی آفت ٹوٹی ہے تو مدارس کے غیور اور مخلص حضرات نے اس قوم و ملت کی ہر محاذ پر مدد و معاونت کی ہے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا مدارس نے ہمیشہ قوم و ملک کے لیے خدمات پیش کیے ہے اور جب بھی وطن عزیز پر کوئی سخت گھڑی آئی ہے تو مدارس نے کندھا دے کر ملک و قوم کو اس مصیبت سے نکالی ہے ۔ جب ملک میں سیلاب ، زلزلے اور قدرتی آفات آئی ہے تو اہل مدارس نے اس سخت آن میں مصیب زدہ لوگوں کی جانی و مالی خدمت کرکے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہے لیکن پھر بھی بعض نام نہاد لوگ مدار س کے نصاب و نظام پر انگلی اٹھاتے ہے اور مدارس کو دہشت گردی کے اڈے تصور کرتے ہیں، حالانکہ یہ بات غلط اور خلاف عقل ہے کیونکہ مدارس نے ہمیشہ معاشرے کو امن و آشتی ، اخوت و بھائی چارے کا درس دیا ہے اور پورے معاشرے کو ایک نقطے پر جمع کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اگر پھر بھی مدارس کے فعال کردار پر کسی کو اعتراض ہے تو یہ کم فہمی اسکی ذات تک محدود ہوگی جو اتنی بڑی نظام پر انگلی اٹھاتے ہیں ۔ اگر ہمارے ارباب اقتدار تھوڑا سوچھے کہ یہ مدارس تو ملی و قومی و حدت کے لیے کام کر رہے ہیں اور معاشرے کی دینی پیاس بجھانے کے لیے سر گرم عمل ہیں ،اگر مدارس کا وجود ختم کردیا گیا تو پھر معاشرہ بہت سی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جائے گا۔
حاصل یہ کہ جب انگریزوں نے مسٹر اور ملا کی تفریق پیدا کردی،سرعام علماء کو پھانسیاں دی گئی ،زندہ جلا دیئے گئے ،عظیم عظیم کتب خانوں کو جلا کر سمندروں میں بہا دیئے گئے ،انہی کے اشاروں پر چل کر ان کے سبق کو پڑھ کر ہمارے حکمرانوں نے بھی مدرسی اور سکول کو الگ کر دیا،خود تو کیا مدرسہ کے عظیم سائنسی ورثہ کو ضائع کر دیا۔اب ایک طرف یہ شور مچانا کہ ملا کی سیاست وسیادت اور قیادت سے کیا کام؟اپنے منبرومحراب کو سنبھالیں تو دوسری طرف یہ واویلا کہ یہ قدامت اور انتہاء پسند ہیں،ایک طرف مسٹر اور ملا کی تفریق کی کارستانیاں تو دوسری طرف قومی ادارے میں نہ آنے کی شکایتیں۔۔۔
آخر میں پوری صحافی برادری سے مؤدبانہ درخواست کروں گا کہ مغرب کے اعدادوشمار ،فرضی سروے رپورٹس اور نیٹ کے مضامین کو نقل کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو دیکھیں،میدان جنگ میں لڑتے مرتے سپاہیوں کے شانہ بشانہ آگے چلتے رپورٹ کرنے والے صحافی بھائیوں کی یادیں تازہ کریں اور مدارس تو نوگوایریاز بھی نہیں،مدارس میں جائیں ان کا نظام دیکھیں ،نصاب دیکھیں،تحقیقاتی کام دیکھیں ،ملک وملت سے محبت دیکھیں اور حقیقت بیان کریں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!