تازہ ترینکالم

تعلیمی نظام کی بد حالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا سوچیے!

ali razaتعلیم کسی بھی معا شرے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے ،کاروانِ زندگی کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے ہر مو ڑ پر تعلیم کا کردار عیاں ہے اور یہ بات کسی بھی دیکھنے والے سے پو شیدہ نہیں کہ اگر تعلیمی میدان میں ترقی نہ کی جا ئے تو کو ئی بھی معاشرہ ترقی کی راہوں پر گا مزن نہیں ہو سکتا،بجائے ترقی کرنے کے وہ پستی کی جانب چلا جا تا ہے۔۔۔۔اور اسی تعلیمی سوچ کی بنا پر ہمارے ممبرانِ پا رلیمنٹ اسمبلی میں معاشرے میں درپیش مسائل پر گفتگو کر تے ہیں (اﷲ کرے ایسا ہو )اور پھر ان مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
یہ اوپر لکھی گئی لائن فرضی ہیں۔۔ایسا ہو تا نہیں ہے ایسا تو تب ہو جب پڑھے لکھے لو گ اسمبلی میں جا ئیں ۔۔نہ تو پڑھے لکھے لو گ اسمبلی میں جا تے ہیں اور نہ ہی عوام الناس کو درپیش مسا ئل پر گفتگو ہو تی ہے اور نہ ہی حل تلاش کرنے کی کو شش کی جا تی ہے ۔۔۔۔ہاں لیکن! اتنا ضرور ہو تا ہے دورانِ الیکشن جب یہ لو گ اپنے اپنے حلقوں میں تشر یف آور ہو تے ہیں تو صرف گلیوں میں ہی نہیں ایسی ایسی جگہوں پر جانے سے گریز نہیں کرتے جنہیں ہم عرفِ عام میں چھپڑ کہتے ہیں مگر وہ صرف ایک بار ہی وہاں جاتے ہیں ۔پھر اگلے الیکشن تک عالی شان اسمبلیوں میں انجوائے کرتے ہیں اور غریبوں کے جذ بات سے کھیلتے ہیں نہ وہ پلٹ کر ان علاقوں کی طرف دیکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں درپیش مسائل کا ادراک ہو تا ہے ۔۔۔اور ہمارے تعلیمی مسائل کا ادراک ان اد پڑھے لو گوں کو کیسے ہو سکتا ہے نہ تو یہ اس غربت کی انتہائی سٹیج پر زندگی گزارنے والوں کے سکولوں میں پڑھے ہیں اور نہ ہی انہوں نے بو سیدہ ٹاٹوں پر بیٹھ کر ا،ب ،ت سے کچھ سیکھا ہے بلکہ کچھ تو ان میں سے مغرب کے اطوار پر چلنے والے اداروں سے فیض یا فتہ ہیں اور کچھ تعلیم کی ”ت”سے بھی واقف نہیں ۔۔۔۔۔۔
موجودہ وزیرِ اعلی ٰ پنجاب صاحب کے تعلیم کے لئے اقدامات قابلِ ستائش ہیں ان کے جدید تعلیم کے لئے پروگرامز نہایت اہمیت کے حامل ہیں جن میں پہلے تو موصوف ”لیپ ٹاپ” کی وجہ سے زینتِ اخبارات بنے رہے پھر سولر پینلز کی بدولت اخبارات کی بڑی بڑی سر خیاں بنے رہے یہ سب اپنی جگہ مگر ”محترم خادمِ اعلیٰ”صاحب بہت معذرت کے ساتھ کہ!!!
”تم نے چاہا ہی نہیں چا ہنے والوں کی طرح”
کیونکہ ننھے بچے شدید سردی کے موسم میں تعلیم حاصل کرنے کا فریضہ ادا کرنے پر مجبور ہیں ،سکولوں میں نہ تو کو ئی بلڈنگ نہ کوئی سراؤنڈنگ ہے اور عوام صرف لاہور میں ہی نہیں لاہور کے باہر بھی دنیا آباد ہے دیہات و قصبات میں کسمپری کی زندگی گزارنے والے بھی اپنے دلوں میں بہت سے ارمان بسائے ہو ئے ہیں کہ ان کے بچے بھی ”بابو”بنیں اور اپنے آبا وء اجداد کا نام روشن کریں ۔۔۔مگر افسوس صد افسوس ملک میں جاگیر داروں کا رائج کردہ طبقاتی نظامِ تعلیم ان سب ارمانوں کی دھجیاں اڑا نے میں زورو شور سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور غریبوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے اور دوسری طرف دییات و قصبات میں اساتذہ موجود ہیں تو سکولز موجود نہیں ہاں! البتہ سکول کا سائن بورڈ ضرور موجود ہے شاید وہ بھی کو ئی حکمت رکھتا ہو کہ یہاں قریب سے گزرتا ہو ا کو ئی مسیحا مل جا ئے اور اس کی سنی جا ئے اس نا م کے سکول کو ”عمارت”میسر آجائے اس کی مثا ل فاروق آباد اور اس طرح کے بیشتر شہروں میں موجود پرائمری سکولوں کی ہے جہاں سکولوں کے نام تو موجود ہیں مگر عمارت نہیں،اور انتہائی غور طلب بات یہ ہے کبھی بارش آجائے تو سکول کی بجائے مسجد سے آواز آتی ہے ”حضرات آج اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں پانی کھڑا ہو نے کی وجہ سے سکول جوہڑکی شکل اختیار کر چکا ہے لہذا آج چھوٹی ہے ”
یکساں نظامِ تعلیم کے دشمنوں نے غریبوں کے سکولوں کو ایک عجائب گاہ بنا کر رکھ دیا ہے جو کہ آثارِ قدیمہ کے ایک بہترین نمونے کی شکل تو پیش کرتے ہیں جن کو فقط دور سے دیکھ کر محظوظ ہوا جا سکتا ہے اور غریبوں کے جذبات سے کھیلا جا سکتا ہے کیونکہ تاریخ کا کو ئی سٹوڈنٹ ان سکولوں کا مشاہدہ کرے تو وہ ان کو آثارِ قدیمہ کے نمونے تصور کرنے سے گریزاں نہیں ہو گا۔۔۔۔مگر کو ئی یہ ہر گز تصور نہیں کر سکتا کہ یہ کوئی تعلیمی درسگا ہے !
کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم کی حثییت ایک ستون کی ہے جسے اگر گرا دیا جا ئے تو سا ری بلڈنگ یعنی ملک کی تعمیر و ترقی کا پروسس رَ ک جا تا ہے اور وہ ملک بلندی سے پستی کی جا نب رواں ہو جا تا ہے ۔۔تعلیمی نظام میں تباہی درحقیقت ملک و قوم کی تباہی ہے مگر افسوس تعلیم کو پریویل کرنے کے لئے بنا ئے گئے سکولوں کی بلڈنگ از سرِ نو سے ہی مو جو د نہیں ۔۔ملک کیسے ترقی کرے گاکیسے ترقی کی راہوں پر گا مزن ہو گا۔ کیونکہ بلڈنگ کسی بھی ادارے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حثییت رکھتی ہے ،مگر انتظامیہ کی انتہائی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ملک کے بہت سے تعلیمی ادارے اس ریڑھ کی ہڈی سے محروم ہیں ننھے پھول کھلے آسمان تلے شدید تر جاڑے کے موسم میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔۔۔اور روایتی لحاظ سے ہمارے سکولز 1960ء کی دہائی سے آگے نہیں نکل سکے ،ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کا فقدان ملک کو خا نہ جنگی کی طرف دکھیل رہاہے ، اور یہی ملک دشمن عناصر کی خواہش ہے ہمیں ہمارے تعلیمی نظریات سے دور کر کے پستی کی جانب لے جا یا جا رہا ہے ۔۔۔۔
سیاسی خلفشار سے نکل کر سو چنا ہو گا!کیونکہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم شرطِ اول ہے تعلیم کے بغیر ملک ایک اندھیرے کنویں کی ما نند ہے جس میں رہنے والوں کی پہچان وہ اندھا اور اندھیرا کنواں بن کر ابھرتا ہے جیساکہ اس وقت ملک کو سیاسی بندر با نٹ کی بھینٹ چڑ ھا کر اندھیرا کنواں بنانے میں کو ئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ۔۔۔
صوبائی ،ضلعی و وفاقی حکومت سے گزارش ہے کہ تمام تر ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سنجیدگی سے سو چا جائے کیونکہ تعلیم ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جو پورے ملک و قوم کو یکجا اور روشن رکھتا ہے اس چرغ کو اگر دیانتداری سے روشن رکھا جائے تو ملک دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے ۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!