پاکستانتازہ ترین

سیاستدانوں کا جنگ بندی پر زور، امن مذاکرات کا آغاز مثبت پیش رفت قرار

اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل) سیاستدانوں نے امن مذاکرات کیلئے رابط کمیٹیوں کی ملاقات کو مثبت پیش رفت قرار دیا، ان کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے جنگ بندی ہونی چاہئے تاکہ معاملات آگے بڑھ سکیں۔  پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کی ملاقات پہلا مثبت قدم ہے، آج کی میٹنگ میں جو باتیں ہوئیں ان میں آئین کے تحت مذاکرات، ماحول کو سازگار بنانے کیلئے فائر بندی ہمارا بھی مؤقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شورش زدہ علاقوں کی بات کرکے مذاکرات کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی، شورش زدہ علاقوں کی وضاحت ہونی چاہئے، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے بھی کچھ علاقوں میں مسائل موجود ہے، ہم پورے ملک میں امن چاہتے ہیں، پورا ملک شورش زدہ نہیں تاہم کہیں کہیں مسائل ہیں، خیبرپختونخوا اور فاٹا شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، وہاں کے حالات مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما کہتے ہیں کہ فاٹا کے ساتھ افغانستان کی سرحد موجود ہے اور دونوں اطراف سے سرحدی آمد و رفت رہتی ہے، ہم نے ہمیشہ افغانستان سے کہا کہ دونوں اطراف آنے جانے والوں کو چیک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں حالات اچھے تھے اور نہ ہیں، ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ کراچی پولیس میں سیاسی بھرتیاں ہوتی رہی ہیں، کراچی میں اسلحہ کی بھرمار تشویشناک ہے، جن علاقوں میں شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر موجود ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ طالبان کے مؤقف کیلئے ان سے ملاقات کرنا ضروری ہے، ایسا لگتا ہے کہ طالبان کی رابطہ کار کمیٹی کو حکومتی ٹیم کے اختیارات سے متعلق اب بھی تحفظات ہیں، بات چیت آگے بڑھنے کیلئے جنگ بندی اور سیز فائر بنیادی چیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امن مذاکرات کیلئے ہمارا رویہ مثبت ہوگا، امن کیلئے بہتر راستہ مذاکرات اور بات چیت ہی ہے، جو لوگ آپریشن کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دیتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ جنگ میں عام لوگوں کا بھی نقصان ہوتا ہے جس سے شدت پسندی اور فوج کیخلاف رائے عامہ ہموار ہوتی ہے، پشاور میں بھی امن مذاکرات کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!