شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ٹاک شوز پر وقت پاس کی پالیسی ختم ہونی چاہیے !

ٹاک شوز پر وقت پاس کی پالیسی ختم ہونی چاہیے !

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب ہندوستان میں ہندو ، مسلم اور دیگر مذاہب کے لوگ اکٹھے رہتے تھے ۔ ہندو اکثریت میں ہونے کے سبب مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری سمجھتے تھے کیونکہ اس وقت کا معاشرہ ذات پات اور رنگ و نسل میں بٹا ہوا تھا ۔ہندو اور مسلمان ایک جگہ ایک دسترخوان پر کھانا پینا بھی نامناسب اور گناہ سمجھتے تھے ۔جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ہندو خود کو بہتر اور برتر قرار دیتے تھے اور نفرت ان کے رویوں سے عیاں ہوتی تھی ۔ تو ایسے میں کہ جب دو اقوام اکٹھے کھا پی بھی نہ سکتی تھیں تو وہ یقیناًایک قوم کیونکر کہلا سکتی تھیں ۔اسی حقیقت کوالبیرونی جیسے محقق نے اپنی کتاب ’’کتاب الہند ‘‘ میں بیان کیا کہ ’’ہندو ، مسلمان کو ملیچھ سمجھتے ہیں کہ نہ اکٹھے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں نہ پی سکتے ہیں ،اگر اکٹھے بیٹھ کر کھا یا پی لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پلید یا ناپاک ہو جائیں گے ۔جب وہ اکٹھے بیٹھ کر کھا پی نہ سکیں تو وہ ایک قوم کیونکر بن سکتی ہے ۔‘‘گویا کہ نظریہ پاکستان برسوں کے خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ حقیقت توہر کس و ناقص پر دیر یا بدیرآشکار ہو تی چلی گئی کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ اقوام ہیں جو کہ مختلف نظریات کے حامل ہونے کی وجہ سے کبھی اکٹھی نہیں رہ سکتیں ۔اسی بنیادی فکر ، سوچ اور نظریے نے ایک مضبوط اور قومی جدوجہد والی تحریک کو جنم دیا ۔جسے بانئی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں ایک الگ اور آزاد مسلم ریاست وجود میں آئی ۔قرار داد مقاصد اس کی بنیاد بنی اور مسلمانوں کو اپنے جداگانہ تشخص ، اسلامی شعار اور روایات کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع نصیب ہوا ۔
اسی دن کی مناسبت سے ملک میں تقریبات پورے جوش و خروش سے عروج پر ہیں ۔اس موقع پر مسلح افواج کی پرفارمنس ، مظاہرے ، ہتھیاروں کی نمائش اور جوانوں کی مہارت کے جوہر دیکھ کر دنیا دھنگ رہ گئی ہے ۔بلاشبہ پاکستان کا دفاع مضبوط ،محفوظ اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہے کہ آج دشمن بھی مانتا ہے کہ پاکستان کا دفاع دنیاوی طور پر نا قابل تسخیر ہے اور یہی بات اسلام دشمنوں کو بھی کھٹکتی ہے ۔لیکن جو بات ورطۂ حیرت میں ڈالتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے ایسے اہم موقع پر اپنی قوم کو ان تقریبات کے مقاصد اور’’ دو قومی نظریے‘‘ کی اہمیت بارے خصوصی طور پر بریفنگ ’’کیوں ‘‘نہیں دی جبکہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ اور انتہا پسندانہ رویہ جاری و ساری ہے ۔اور ہندوستان کے زیر تسلط علاقوں میں مسلمان زیر عتاب ہیں ،مسلم کمیونیٹی پر آئے روز ظلم و ستم کے بے پناہ پہاڑ توڑے جا تے ہیں ۔جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ انھیں دیدہ و دانستہ اذیت ناکیوں اور بر بریت سے گزارہ جاتا ہے کہ دل دہل جاتے ہیں ،وجود کانپ اٹھتے ہیں مگر انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔
ایسے میں ارباب اختیار کا فرض ہے کہ وہ کم ازکم نوجوان نسل تک ان وجوہات اور زریں مقاصد کو پہنچائیں جو کہ قرارداد مقاصد کی وجہ بنے تاکہ ہندوانہ منافقت ’’بغل میں چھری منہ پر رام رام ‘‘ کی حقیقت واضح رہے، دو قومی نظریے کا تصور معصوم اذہان تک پہنچتارہے اور انسانی روحوں کو مذید تباہی سے بچایا جا سکے لیکن ۔۔ہم نے ایسا نہیں کیونکہ ہمارا میڈیا مغربی اور بھارتی کلچر دکھا دکھاکر اسے فروغ دے رہا ہے اور انھی غیر اسلامی رسومات اور روایات کا پرچار جاری ہے جوکہ وجود پاکستان کی بنیاد کے مخالف ہیں۔ہمارے کرتا دھرتا کی قدر افزائی اور حوصلہ افزائی کی سمتوں کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دن بیشتر’’ سول ایوارڈز ‘‘ کی ایسی بندر بانٹ کی گئی ہے کہ جس نے تمغے کی اہمیت کو مجروح کر کے سنجیدہ افراد کو فکر میں مبتلا کر دیا ہے ۔جس سے قومی سطح پر میرٹ کی بھی دھجیاں اڑ گئیں ہیں ۔
ریاست مدینہ کے دعوے داروں کے قول و فعل میں مسلسل تضاد ان کی پہچان بن رہاہے اور تبدیلی کا خواب ایک گھسا پٹا نعرہ بن کر رہ گیا ہے ۔اسی دو عملی کو دیکھتے ہوئے ماضی کے حکمرانوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں کہ جن کی نوازشوں نے رنگیلے شاہوں کا ریکارڈ توڑ دیا تھا وہ بھی اعلانیہ کہہ اٹھے ہیں کہ ’’گزر گیا وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے ، بنے گا سارا جہاں مہ خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا ‘‘۔ روز اول سے ہی برسر اقتدار حکومت کا ہر فیصلہ ہی میرٹ اور سنیارٹی کی دھجیاں اڑارہا ہے یہی وجہ ہے کہ کابینہ نظر ثانی کی زد میں اور وزیراعلیٰ پنجاب کی تعیناتی تو ہمہ وقت ہر سطح پر زیر بحث رہتی ہے کہ آج بھی طلال چوہدری نے کہا کہ’’ جسے دوکان بھی چلانی نہیں آتی ،آپ نے اس کے حوالے پنجاب کر دیا ہے ‘‘۔ ویسے تو جنھیں نعرے بازی اور دشنام طرازی کے سوا کچھ بھی نہیں آتا تھا میاں صاحب نے انھیں بھی وفاقی وزیر لگا رکھا تھا اورقریب المرگ محسن کو گورنر لگا دیا تھا ۔۔انھی نا انصافیوں کے خلاف دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لیکر جناب عمران خان نکلے تھے مگر نوازشیں بھی ویسی رہیں اور کرپشن کیسسز کے نتائج بھی نا قابل یقین سامنے آ رہے ہیں ۔۔ایک انگلش ناول کا پیرا گراف یاد آگیا کہ
ایک بیوی نے اپنے اپنے شوہر سے کہا کہ ’’تمھارا قریبی دوست الیگزینڈر مجھ پر بری نظر رکھتا ہے ‘‘۔شوہر غصے میں بولا ’’ بکواس بند کرو ،میرا دوست ایسا نہیں ہے ۔‘‘بیوی نے ملتجائی لہجے میں کہا ’’یقین کرو ،میں جھوٹ نہیں بول رہی ،وہ مجھے کئی بار رقم بھی آفر کر چکا ہے مگر میں نے ٹھکرا دی ‘‘۔ شوہر نے پوچھا :’’ کتنی رقم آفر کی ہے ‘‘؟ بیوی نے جواب دیا :’’ 5000 ڈالر ‘‘۔ شوہر :’’ اگر وہ 10000 ڈالر آفر کرے تو ‘‘؟ بیوی :’’ہر گز نہیں ‘‘۔ شوہر :’’ اگر 20000 ڈالر ہوں تو ‘‘؟ بیوی :’’کبھی بھی نہیں ‘‘۔ شوہر :’’ اگر 50000 ڈالر ہوں تو ‘‘؟ بیوی شرماتے ہوئے بولی کہ پھر سوچا جا سکتا ہے ‘‘۔ شوہر مسکرایا اور کہا کہ پھر فرق تو صرف قیمت کا ہوا نا ۔۔‘‘تو جناب یہاں سب بکتا ہے اور سب چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ کرپشن بیانیہ بھی پٹ چکا ہے کہ بیان بازی سے ملک و قوم کو اذیت کے سوا کچھ نہیں ملا اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی نوید متوقع ہے لیکن پھر بھی روایتی سیاسی شعبدہ بازیاں ،بیانیے اور ڈرامے عروج پر ہیں ۔
جیسا کہ بلاول زرداری اور آصف زرداری کی بھی نیب طلبی ہوگئی ہے مگر یوں محسوس ہورہا ہے کہ یہ پیشی نیا بھٹو پیدا کر دے گی ۔بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی تربیت جو بھی کر رہا ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ میدان صاف ہے ، برسر اقتدار حکومت بیشتر نظریاتی کارکنان ناراض کر بیٹھی ہے اور پرانے سیاسی شعبدہ باز بھی مفادات کی تسکین نہ ہونے کیوجہ سے مرچیں چباتے رہتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے بیانات داغتے ہیں جنھیں میڈیا اچھال کر مزید کسر پوری کردیتا ہے ایسے میں بلاول سکون اور کامیابی سے کھیل سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بلاول ایکشن میں ہے کہ مسلسل سرخیوں میں ہے ۔ جاندار تقریروں ،مباحثوں اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے بھٹو ازم کے مردہ تن میں جان ڈالنے کی تگ و دو میں ہے جس کا عملی نمونہ نیب آفس کے باہر جیالوں کے جوشیلے نعروں اور جارحانہ رویوں سے ملتا ہے جن کے لہو کو مذکورہ پیشی سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’’ٹوئیٹر‘‘ پر حبیب جالب کے اشعار ٹوئیٹ کر کے گرما یا گیا تھا ۔
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے ،میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ،ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا ۔۔میں نہیں مانتا۔میں نہیں مانتا ۔۔میں نہیں جانتا
حبیب جالب کی روح بھی سوچتی ہوگی کہ میں نے اشعار کیوں کہے تھے ۔۔؟ ایوانوں میں تو گونجتے ہیں مگر سمجھتا کوئی نہیں تبھی تو جب کبھی یہ اشعار پڑھے جاتے ہیں تو ہر دل کہہ اٹھتا ہے کہ
جانتا ہوں تم کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے میں اک یہ ماہری بھی ہے
پھر بھی حرف چنتے ہو صرف لفظ سنتے ہو ان کے درمیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤگے !
افسوس ہمارے سبھی لیڈران گفتار کے غازی ہیں اور ہر وقت سر بکف مجاہد ہیں مگر ٹارگٹ’’کرپشن بچاؤ مہم ‘‘ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے ۔اندازہ کریں کہ جعلی بینک اکاؤنٹس نکلے ہیں اورجب آصف زرداری سے سوال کیا گیا تو انھوں نے مسکرا کر ٹال دیا ۔اب بلاول نیب پیشی کے بعد اعلانیہ فرما رہا تھا کہ ’’یہ ہماری کمزوری تھی کہ ہم نے نیب کے کالے قانون کو ختم نہیں کیا اس لیے میں آج یہاں کھڑا ہوں ‘‘ ۔یہ بیان نیب کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ پانامہ لیکس میں بھی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق کوئی پیسہ واپس نہیں آیا اور نہ ہی قابل ذکر ریکوری ہوئی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ اب کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر طلبی ہوئی ہوگی کیونکہ ابھی تک نیب کی گرفت میں آنے والے کسی مگرمچھ کا قابل ذکرانجام نظر نہیں آیا ۔مگر کیا کیا جائے کہ اشرافیہ کا ہر قسم کا کہا ، سنا ،کیا اور دیا معاف ہے جبکہ عام آدمی سوشل میڈیا پر گڈ گورننس کے فقدان پر سوال بھی اٹھا دے تو زیر عتاب ہے۔
اب یہی دیکھ لیں کہ ایسے نازک وقت میں کہ بھارتی جارحیت عروج پر ہے بلاول بھٹو زرداری نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیکر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ ’’کالعدم جماعتوں کے سربراہوں کو اس لیے بند کیا گیا کہ بھارتی جہاز انھیں اڑا نہ دیں ‘‘ اس سے پہلے میاں صاحب گویا ہوئے تو فرمایا ’’ممبئی حملوں میں پاکستان ملوث ہے ‘‘ ۔ایسی مشکوک حب الوطنی کاخمیازبھارتی اور کشمیری مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے کہ ہر دن قیامت ٹوٹتی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں مگر چرب زبانی کا مظاہرہ کرنے والے اگلے روز ہی ’’یوٹرن ‘‘ لیکر اپنی بات سے مکر جاتے ہیں اور صاف بچ جاتے ہیں مگر دشمن نہیں بھولتا اور ویسے بھی اسلام دشمن بیانیے کو ایسے ہوس زدہ حکمرانوں کے بیانات سے تقویت ملتی ہے اورملی بھی ہے تاہم نریندر مودی نے بھی ’’یوٹرن ‘‘ کی حکمت عملی اپناتے ہوئے یوم پاکستان پر نیک خواہشات کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ ہم تو تب سے سوچ رہے ہیں کہ اگر نریندر مودی اتنا سب کرنے اور کہنے کے بعد نیک خواہشات کا اظہار کر سکتا ہے تو موجودہ حکومت تبدیلی خواب بھی پورا کر سکتی ہے حالانکہ دو سو دنوں میں موجودہ حکومت نے تعمیراتی منصوبوں کو ختم کرنے اور پرانے پراجیکٹس پر اپنے نام کی تختی لگانے کے سوا پورے ملک میں کوئی قابل تعریف کام نہیں کیا بلکہ مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کلچہ 10کی بجائے 20 کاہو گیا ہے اور اسی سے باقی قیمتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ ۔بہر کیف عوام کو ریلیف چاہیے لہذااب منفی سیاستوں اور دو بدو ٹاک شوز پر وقت پاس کی پالیسی ختم ہونی چاہیے ۔اب صرف اپوزیشنوں کو رگڑنے یا مباحثوں میں مطمئن کرنے کی بجائے عملی کام کرنے چاہیے ۔اللّے تلّلے کی سیاست ایک روایتی اور بد نام حکومتی حکمت عملی قرار پا چکی ہے جو کہ موجودہ حکومت بھی تقریباً اسی ڈگر پر گامزن نظر آرہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ ہیک کر لی گئی