شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ’’تمغہء امتیاز! اصل حق دار کون؟‘‘

’’تمغہء امتیاز! اصل حق دار کون؟‘‘

تمغہء امتیاز (Tamgha۔i۔Imtiaz)، پاکستان میں سِول اور عسکری شخصیات کو عطا کیا جانے والا چوتھا بڑا اعزاز ہے۔ اِس کا ترجمہ تمغائے فضیلت بھی کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو حکومتِ پاکستان عسکری اور سِول شخصیات کو عطا کرتی ہے۔ سِول شخصیات کو یہ اعزاز اْن کی اَدب، فنونِ لطیفہ، کھیل، طب یا سائنس کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اِس اعزاز کا اعلان سال میں ایک دفعہ یومِ آزادی کے موقع پر کیا جاتا ہے اور یوم پاکستان کے موقع پر صدر پاکستان اس اعزاز سے منتخب شخصیات کو نوازتے ہیں۔اس بار بھی حکومت پاکستان نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے 18 غیر ملکیوں سمیت 127 افراد کو ملکی اعلیٰ ترین سول ایوارڈز مختلف شعبہء ز ند گی میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو نوازے گئے اور موجودہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یہ ایوارڈ دئیے ۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس بار کچھ زیادہ ہی ناانصافی سے کام لیا گیا ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں اس بار تمغہء امتیاز کا مذاق اڑایا گیا اور صرف دوستی ، تعلقات کی بنا پر بالخصوص شوبز میں ایسے لوگوں کو یہ تمغہ ملا جو یقیناً اس کے ہر گز حقدار نہیں تھے جس کی مثال ٹی وی اور فلم کی اداکارہ مہوش حیات کو ایوارڈ ملنا ہے ۔جبکہ پاکستان فلم انڈسٹری کے دیگر فنکاروں اور ستاروں نے حکومت کے اس فیصلے پر حیرانگی اور تعجب کا اظہار کیا ہے۔ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کا کہنا ہے کہ چند آئٹم سانگ اور ڈراموں کے علاوہ کچھ کمرشلز کرنے والی اداکارہ کا تمغہ امتیاز کے لئے انتخاب نے تمام فنکاروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کئے گئے اس اعلان کے خلاف سوشل میڈیا صارفین بھی سراپا احتجاج ہیں اور ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ کو میرٹ سے ہٹ کر دینے کے فیصلے پر حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان سے معاملے کا جائزہ لینے کی اپیل کی جارہی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایسے فنکار جو کئی دہائیوں سے شوبز انڈسٹری میں کام کر رہے ہیں انہیں آج تک کوئی سول ایوراڈ نہیں ملا اس لئے حکومت کے ایک جونیئر اداکارہ کو ایوارڈ کیلئے نامزد کرنے کے فیصلہ پر سوالات اٹھائے جانا قدرتی امر ہے۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر چند ڈراموں میں اداکاری کرنے والی اداکارہ نے ایسا ملک و قوم کے لئے کیا کیا کہ انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ تھما دیا گیا ۔ آپ نے کونسی انسانی خدمات سرانجام دی ہیں؟ کونسا ایسا معرکہ سر کیا ہے؟ ہاں اتنا ضرور کیا ہے کہ پاکستانی فلموں میں آئٹم سونگ انہی اداکارہ کی ایجاد ہے اور وہ فلموں میں ہونے والی والگریٹی کی زمہ دار ہے۔چند یہی ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے انہیں فخر پاکستان قرار دیاہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں نے تبصرے کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ‘تمغہ امتیاز’ کا مقام بہت بڑا ہے جس کے لیے لازوال خدمات انجام دینی پڑتی ہیں، اداکارہ نے کا مختصر فلمی کیرئیر ہے، اس لیے تمغہ امتیاز کے اصل حقدار اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی تھے۔تحریک جوانان پاکستان کے چئیرمین محمد عبداللہ گل نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر اس ناانصافی پر مبنی حکومتی فیصلے کے خلاف مہم چلائی کہ کیا دشمن کا طیارہ تباہ کرنے والے ہمارے قومی ہیرو اسکورڈان لیڈر حسن صدیقی ہی حقدار بنتے تھے۔بلاشبہ ان کے میڈیا کوآرڈی نیٹر نسیم الحق زاہدی سمیت ان کی پوری تحریک نے قوم کو شعور دیا کہ وہ اس اہم ترین قومی ایوارڈ میں ہونے والی کرپشن پر آواز اٹھائی۔اس بارے میں وزیراعظم عمران خان سے بھی ہم لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا کرپشن کی صرف یہی ہے کہ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کے گرد شکنجہ کس دیا جائے اور خود اپنے دور اقتدار میں وزیر اعظم صاحب آپ اپنی ناک تلے ہونے والی کرپشن کونظر انداز کر دے۔کیا ہمارے ملک میں قوم کے لئے لازوال خدمات انجام دینے والے قومی ہیروز کا قحط پر گیا ہے کہ اب سب سے بڑا قومی ایوارڈ میں سے میرٹ ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
جب رواں سال چودہ اگست کو ان ناموں کی نامزدگی کی گئی تھی تو وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے بڑے طمطراق سے کہا تھا کہ انہوں نے سول ایوارڈ کی تقسیم میں پائے جانے والے سقم دور کرنے اور ایوارڈ کی تقسیم کو بہتر بنانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر ایک جائزہ کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ ماضی میں ایوارڈز کی تقسیم میں معیار پرسمجھوتہ کیا جاتا رہا، چاہتے ہیں کہ سول ایوارڈ کا تقدس بحال ہو۔خط کے مطابق وفاقی فواد چوہدری نے تجویز دی کہ ایوارڈز کی تقسیم کے لیے قائم کمیٹیوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے تاکہ ایوارڈز کی تقسیم میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔خط میں یہ بھی کہا کہ گزشتہ 3 سالوں میں ایوارڈز کی تعداد 440 تک پہنچ گئی ہے تجویز دی تھی کہ ایوارڈزکی تعداد کو کم کرکے ایوارڈ کی رقم میں اضافہ کیا جائے سول ایوار ڈ کی تقسیم کا آغازاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے گیارہ سال بعد ہو گیا تھا۔اس سلسلے میں’پاکستان سول ایوارڈ ‘‘ چھ اقسام کے ایوارڈ دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ان میں پہلا ’’اعزازبرائے پاکستان‘‘، دوسرا ’’اعزاز برائے شجاعت‘‘ ، تیسرا ’’اعزازبرائے امتیاز‘‘،چوتھا ’’اعزاز برائے قائد اعظم‘‘،پانچواں ’’اعزاز برائے خدمت‘‘ اورچھٹا’’صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی‘‘ شامل تھے۔، نشان پاکستان،ہلال پاکستان، ستارہ پاکستان، تمغہ پاکستان۔ اگر کسی کو بہادری کا اعزاز دینا ہو تو ’’شجاعت‘‘ کا ایوارڈ دیا جاتا ہے اور یہ ایوارڈ صرف پاکستانی شہریت رکھنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ، نشان شجاعت، ہلال شجاعت، ستارہ شجاعت، تمغہ شجاعت۔ اگر کسی کو بہترین کارکردگی کی بنیاد پر انعام سے نوازنا ہوتا تو ’’امتیاز‘‘کا ایوارڈ دیا جاتا ہے اور اس ایوارڈ کو حاصل کرنے کے لیے بھی پاکستانی ہونا شرط ہے۔، نشان امتیاز، ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز۔اس کے علاوہ کسی غیر ملکی شخصیت کو پاکستان کے لیے کام کرنے پر نوازنا ہوتو اْس کے لیے ’’نشانِ قائداعظم‘‘ دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین اور غیر ملکیوں کو بھی ایوارڈ دیے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے حوالے سے کوئی اہم خدمات سرانجام دی ہوتی ہیں۔ 1959 ء میں پہلا تمغہ برائے حسن کارکردگی مغربی پاکستان میں حفیظ جالندھری اور مشرقی پاکستان میں ڈاکٹر شاہین الدولہ اور کوی جسیم الدین کو دیا گیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں  انسداد خسرہ مہم ، صحت مند نئی نسل کے لیے پرعزم پاکستان