ایکسکیوزمیتازہ ترینکالم

تماشہ

kafaitتمام عوام الناس کو مطلع کیا جاتاہے کہ ایک بار پھر سے پاکستان کی تما م سیاسی جماعتوں نے پور ی قوم کو ماموں بنانے کی ٹھان لی ہے جس کے لیے تمام پارٹیز اپنا اپنا سیاسی تماشہ پیش کرنے کے لیے میدان میں اتر چکی ہیں ان کے آپس کے لڑائی جھگڑے نااتفاقی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں زبان درازی اور ان کی انتقامی کاروائیوں کا نشانہ ہم عوام بننے والے ہیں کیونکہ ہم عوام ہی تو ہیں جو ان تمام سیاسی پارٹیز کے جلسے جلوس ریلیاں دھرنے سونامی یا لانگ مارچ کو کامیاب بنا تے ہیں اور سیاستدانوں کے من چاہے وہ مقاصد پورے کروا دیتے ہیں جو و ہ چاہتے ہیں لیکن اب ہم عوام کو چاہیے کہ ہم ذمہ داری اور محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سمجھداری سے کام لیں اور ان سیاسی اداکاروں کے تما شوں کا حصہ نہ بنیں اور محض کسی بھی سیاسی جماعت کے ذاتی مفاد کی خاطر کسی بھی سیاسی جلسے جلوس ریلیوں دھرنوں یا لانگ مارچ میں شرکت نہ کریں۔پاکستان کا ہر ایک بچہ بھی اب شاید یہ جانتا ہے کہ اس وقت پاکستان کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟ جیسے کہ آج پوری قوم بجلی کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے اور کوئی بھی ضروریات زندگی آسانی سے میسر نہیں ہے او ر پورے ملک میں قحط جیسی صورتحال پیداہو چکی ہے اور یہ ہم اُنہیں لوگوں کے گناہوں کی سز ا ہم بھگت ر ہے ہیں جو اپنے جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں ہمیں ٹشو پیپر زکی طرح استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں اور یہی ہیں وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ سے ہم عوام کو اپنے مفادات کی خاطر استعمال کرتے آئے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں ۔میں آج پوری قوم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا ہمارے حکمران اور تمام سیاسی جماعتوں قائدین اندھے گونگے اور بہرے ہو چکے ہیں؟ کیا ان کو پوری قوم اس وقت ماہی بے آب کی طرح تڑپتی ہوئی نظر نہیںآرہی ہے؟ یا پھر ہم عوام اندھے ہوچکے ہیں جو ان بہروپیوں کے اصلی چہروں کو پہچاننے سے قاصر ہیں جو ہر بار ہمیں روپ بدل بدل کر چِکما دے جاتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس قت ضرورت تو اس بات کی تھی کہ ہمارے موجودہ حکمران اور تمام سیاسی قیادت آپس میں مل کر اور اپنے تما م تر ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر اور تمام رنجشیں بھلا کر ایک ہو جاتے اور مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے پاکستان کے معصوم اور غیور عوام کو باہر نکا لنے میں اُنکی مد د کرتے لیکن افسوس صدافسوس کہ اس مشکل ترین گھڑی میں بھی ہماری سیاسی پارٹیز کے قائدین نے عوامی مسائل ایک کونے میں لگا کر ایک دوسرے کے اپر کیچڑ اُچھالنے میں لگے ہوئے ہیں جو حقیقت میں اپنا اور عوام کا وقت ضایع کررہے ہیں اور ہر ایک سیاسی پارٹی الیکشن سے پہلے عوام کو بے وقوف بنانے والا وہی پرانا تماشہ دکھارہی ہے۔ اس وقت کون سا سیاسی اداکار کس تھیٹر میں کو ن سا تماشہ پیش کررہا ہے اب یہ عوام اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھیں اور پھر خو د یہ فیصلہ کریں کہ کس سیاسی اداکارکا تماشہ انہیں کتنا متاثر کرتا ہے۔
سب سے پہلے تو داد دینا ہوگی میاں نواز شریف صاحب آپ کی ذہانت اور مفاد پرست سیاست کی کہ کس موقع پر کونسے سیاسی مفادات حا صل کیئے جاسکتے ہیںیہ سیاست کی دنیا میں آ پ سے بہتر شائد کوئی نہیں جانتا آپ جس عوام کا اپنے آپ کو سب سے زیادہ مخلص ہمدرد اور احسا س رکھنے والا لیڈر سمجھتے ہیںآج وہی عوام بھوکی پیاسی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جب کہ آپ اپنی سیاست چمکانے اور اپنی اگلی باری کھیلنے کے لیے راستے ہموار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جس پارٹی کا صدر اور وزیراعظم آپ ہی کہ باہمی اشتراک سے بنا ہواور جن کے ساتھ ملکر تقریباً پورے پانچ سال تک آپ نے اقتدار کے مزے بھی بٹورے اور اب جب الیکشن قریب آنے کو ہیں تو آج وہی صدر اور وزیر اعظم آپ کو پاکستان کے دشمن نظر آنے لگے ہیں حالانکہ ان لوگوں اس مقام تک پہنچانے میں آپ کا بھرپور ساتھ رہاہے۔اور یہ سب کچھ میا ں صاحب اب صر ف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے عوام اُن سے خوش ہوگی اور آنے والے الیکشن میں اُنکی پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہو گی لیکن میاں صاحب شاید آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان کے غریب عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وزیر اعظم کون ہے یا صدر کون ہے اس قت اگر عوام کی کوئی غرض ہے تو وہ ہے دو وقت کی روٹی کا حصول اوراپنے بچوں کاپیٹ پالنا جو ایک عام آدمی کے لیے اس وقت نہائت ہی مشکل ہو چکا ہے اس لیے غربت کی چکی میں پسی ہوئی اس غریب عوام پر رحم کریں اور بے مقصد کے جلسے جلوسوں اور ریلیوں سے انہیں دور ہی رہنے دیں تا کہ وہ روزی روٹی کے لیئے محنت مزدوری کرسکیں۔تما م سیاستدانوں کو اب یہ جان لینا چاہیے کہ ا ب وہ قت نہیں رہا کہ اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنے سے اُن کو بُرا بھلا کہنے سے آپ عوام کے پسندیدہ لیڈر بن جائیں گے۔ اس لیے کسی کو بُرا بھلاکہنے سے پہلے ایک بار آپ بھی اپنے گریباں جھانک کر ضرور دیکھ لیں کہ آپ کونسے امیر المومنین ہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آجکل بڑے میاں صاحب سے زیادہ چھوٹے میاں صاحب یعنی خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب زیادہ حرکت میں نظر آرہے ہیں اور انہوں نے کسی حد تک صوبہ پنجاب کو ایک مثالی صوبہ بنانے کی بھرپورکوشش بھی کی ہے ویسے تو خادم اعلیٰ صاحب نے پنجاب کی عوام کو اپنے اقتدار حکومت میں بے شمار تحفے دیئے ہیں لیکن ابھی حال ہی میں انہوں نے جو میڑو بس سروس کا آغاز کیا ہے وہ اپنی مثا ل آپ ہے اورمیاں صاحب کا عوام کے لیے یہ اقدام قابل تعریف ہے لیکن میری اﷲتعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ مستقبل میں میٹرو بس سروس کامیاب بھی رہے اورنہ اس پر کسی قسم کی کرپشن کے الزام لگیں جیساکہ پہلے بھی خادم اعلیٰ کی طرف سے دیئے گئے تحفوں یعنی سستی روٹی سکیم ،آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ،ییلوکیب ،لیپ ٹاپ اور دانش اسکولز اسکیمز بُری طرح فلاپ بھی ہو چکی ہیں اور ان پر کرپشن کے بے پناہ الزامات ثابت ہو چکے ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔
پنجاب حکومت نے پچھلے پانچ سالوں میں اربوں روپے کی پانچ میگا سکیمیں شروع کیں ، سستی روٹی ،دانش سکول، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ، ییلوکیب ، لیپ ٹاپ اور اب میٹرو بس سروس ان اربوں بلکہ کھربوں روپیوں کی سکیموں سے غریب عوام کو تو کوئی فائدہ ہوا نہیں لیکن یہ سکیمیں بنانے والے اور ان پر کام کرنے والے مالامال ضرور بن گئے ہیں مشال کے طور پر دانش سکول کو ہی دیکھ لی جیئے کروڑوں رپے کی مالیت سے تیار کردہ دانش سکول کا ڈھانچہ جو بظاہر دیکھنے میں تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن اس کے اند ر اتنا ناقص میٹر یل استعمال ہوا ہے کہ تھوڑے عرصے ہی میں یہ سکول کسی 100سالہ پرانے کھنڈرات کا نقشہ بیان کرہے ہیں اور دانش سکولز کی زیادہ تر بلڈ نگز بھی سکول کے طور پر نہیں بلکہ متعلقہ علاقوں کے سیاسی رہنماؤں اور آفیسرز کے زیر استعمال ہیں اور اب ایک نظر لیپ ٹاپ اسکیم کو ہی دیکھ لی جیئے اس کی صر ف اور صر ف خریدار ی پر تقریباً ایک ملن اور چھے کروڑ روپے کا گھپلا کیا گیاہے کیونکہ پنجاب حکومت نے جو لیپ ٹاپ تقسیم کیئے ہیں وہ DEL کمپنی کے ہیں جس کی قیمت مارکیٹ میں تقریباً37000ہزار روپے ہے جو بالکل اصلی کمپنی کا ہے لیکن پنجاب حکومت کا تیار کردہ لیپ ٹاپ چائنہ میڈ ہے اور اس کے اند ر جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ بھی پندرہ سال پرانی ہے اور یہاں تک کہ اس کے اند ر جو ونڈو استعمال کی گئی ہے وہ بھی اصلی نہیں ہے اگر مائیکرو سافٹ کمپنی کو اس بات کا پتہ چل گیا تو پنجاب حکومت کے لیے بہت بڑا مسلہ پیدا ہو سکتاہے اورپاکستان کا نام بھی بدنام ہوگاکمپنی DEL کا اوریجنل کا لیپ ٹاپ حکومت پنجاب کے تیار کردہ لیپ ٹاپ سے چار سو گنا بہتر ہے لیکن حکومت پنجاب نے یہی لیپ ٹاپ 37700روپے میں خریدا ہے یعنی ارویجنل سے بھی مہنگاہے لیکن ہول سیل میں اس کی کاسٹ24000 روپے بنتی ہے تو اس طرح ایک لاکھ دس ہزارلیپ ٹاپ کی خریدنے پر حکومت پنجاب کا ایک ملن چھے کروڑ روپے کا گھپلا صاف صا ف ثابت ہو رہا ہے خیر اب یہ بات عوام پر اچھی طرح وا ضع ہوچکی ہے کہ اگر وفاقی حکومت کرپشن میں ملوث ہے تو دودھ کے دھلے آپ بھی نہیں ہیں اور حقیقت میں یہ سارے کے سارے ہی سیاستدان ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔
پاکستان کے تمام سیاسی قائدین اور خصوصاً صدر زرادی صاحب ،وزیراعظم پرویز اشرف صاحب ، میاں نواز شریف صاحب ،عمران خان صاحب ،الطاف بھائی ،مولانا فضل الرحمٰن ا اور مولانا منور حسین صاحب آپ سب سے گزارش ہے کہ خدا را پاکستان پر رحم کریں اور انا ء پرستی ،خود غرضی ، ذاتی مفادات کی سیاست سے باہر نکل آئیں کچھ دیر کے لیے تو مخلص ہو جائیں پاکستان کے معصوم عوام کے لیے بھی جو صدیوں سے ایک مخلص اور بے باک قیادت کے منتظر ہیں۔موجودہ حکومت کے اب چند دن ہی باقی بچے ہیں انہیں اپنا شوق پور ا کر لینے دیں اور آنے والے الیکش میں اگر آپ چاہتے ہیں کہ عوام آپ ہی کو منتخب کر یں تو یہ سنہری موقع ہے آپ کے پاس عوام کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا کہ اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود بھی آپ غریب عوام کے کتنے بڑے خیر خواہ ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میںآپ پاکستان کے عوام کے ساتھ ہیں اور یقین دلائیں کہ آپ اقتدار میں آکر پاکستان سے گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ ،بھوک ،غربت ، مہنگائی ،ذخیرہ اندوزی ، رشوت ، بدامنی اور کرپشن جیسی برائیوں کا خاتمہ کریں گے اور اب وقت ہے کچھ کرکے دکھانے کا یہ نہیں کہ اقتدار حاصل کرنے کے چکر میں آپ ایک دوسرے کے اپر کیچڑ اچھالیں اور گالیاں گلوچ دیں کیونکہ یہ عوام آپ لوگوں کے اس قسم کے گھٹیا تماشوں سے اب عاجز آچکے ہیں ۔کون اچھا ہے اور کون برا یہ فیصلہ اب عوام خود کریں گے آنے والے الیکشن میں اس لیے ابھی بھی وقت ہے سدھر جاؤورنہ یہ عوام آپ سب کا ایسا تماشہ بنائیں گے کہ پھر آپ کسی کو اپنا تماشہ دکھانے کے قابل ہی نہیں رہوگے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button