تازہ ترینکالم

تندیء باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

faisal shamiجب سے میدان سیاست میں قدم رکھا ہے تب سے ہی بہت سے دوست احباب ہمارے مخالف ہو گئے ، جی ہاں بدنام تو ہم پہلے بھی ہیں لیکن سیاست میں قدم رکھنے سے مفت بدنامیوں میں مزید اضافہ بھی ہوا اوربدنامیاں تو ایک طرف لیکن اور بھی بہت سے تلخ تجربات سے بھی زندگی کو روشنائی ہوئی، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ہم مسلم لیگ ن کے کارکن ہیں اور مسلم لیگ ن سے شناسائی یقیناًکوئی پل دو پل کی بات نہیں ، مجھے تو اس بات پہ ہنسی آتی ہے کہ ہمارے ہی حلقے کے دوستوں نے اس بات کو بنیاد بنا کر ایک مخصوص قسم کا پرو پیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ فیصل شامی سیاسی نہیں اوریقیناًہنسی آتی ہے ہمیں اپنے دوست نمامخالفین کی ان گھسی پٹی باتوں پر ،،
جی ہاں ہم بتلا رہے تھے کہ بہت سے دوستوں کو شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ ہماری عمر کیا ہے شاید چالیس کے قریب اوریہ بھی بتلاتے چلیں کہ زندگی کے چالیس سالوں میں سوائے سیاسی ماحول کے اور کچھ نہ دیکھا، جی ہاں جب سے ہوش سنبھالا تو یقیناًرنگ سیاست سے بھی سیاسی محافل سے بھی آہستہ آہستہ روشنائی ہوتی رہی ،تاہم اگر کہا جائے کہ بچپن میں جب آنکھ کھولی تو ارباب اقتدار کو اپنے والد محترم جناب شامی صاحب کے ارد گرد ہی دیکھا تو بھی غلط نہ ہو گا جی ہاں اور جب جناب ضیاء الحق شہید ہوئے تو اس وقت بھی جناب اعجاز الحق ، مشا، ہد حسین ، ہمایوں اختر خان جناب احسان اللہ وقاص جناب لیاقت بلوچ فرید پراچہ، احسن اقبال ، سمیت بہت سے سیاست دانوں کو سیاست دان بنتے دیکھا اور نہ صرف یہ بلکہ ہمارے نانا محترم میاں محمد شوکت صاحب مرحوم تو امیر جماعت اسلامی حیدرآباد بھی رہے اور جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی بھی رہے اور تو اور جناب جاوید ہاشمی جو کہ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں انکو بھی بہت قریب سے دیکھا،
یہ بھی بتلاتے چلیں کہ جب آئی جے آئی اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی میں انتخابی اتحاد ہوا ، انتخابی نشان سائیکل ہوا تو ہم ابھی بچے ہی تھے تاہم ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ جناب لیاقت بلوچ کے لئے بھر پور کمپین کی تھی ۔ اگر کہا جائے کہ جب سے ہوش سنبھالا تو صرف میاں فیملی کا ہی نام سنا ، جی ہاں ہمارے ہوش میں ہم نے دو بڑی جماعتوں بارے ہی سنا تھا ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تاہم جماعت اسلامی کا بھی شروع سے ہی اثر و رسوخ دیکھتے آرہے تھے ، جی ہاں ہم تو بچپن سے ہی اور لڑکپن سے سیاست کی بساط پر سیاسی کھیل کو دیکھتے بھی آ رہے ہیں اور پرکھتے بھی آرہے ہیں، جی ہاں ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ جناب میاں نواز شریف محترم کے لئے ہماری دادی محترمہ بھی دن رات دعائیں کرتی تھیں ،تاہم شریف فیملی سے ہمیں ذاتی وابستگی اور دلی پیار ہے ، جی ہاں ہم نے بچپن میں پہلی بار جناب میاں شریف صاحب کا نام سنا پھر اسکے بعد ہمیں میاں نواز شریف بارے بھی معلوم پڑا ، ہوا کچھ اسطرح سے تھا کہ بچپن میں مجھے ایک حادثہ پیش آگیا جس کے باعث میری ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور مجھے آپریشن کروانا پڑا ، مجھے علاج کے لئے اتفاق ہسپتال لے جایا گیا ، جہاں ڈاکٹر لون نے میرا آپریشن کیا ، جن دنوں میں ہسپتال تھا تو شامی صاحب یعنی والد محترم ایک روز صبح صبح ہسپتال آئے تو اچانک انکی ملاقات میاں شریف صاحب بڑے میاں صاحب سے ہو گئی،جب میاں شریف صاحب کو معلوم ہوا تو تو پھر میں جب تک ہسپتال مین زیر علاج رہا میاں شریف صاحب روز میرے لئے پھل دودھ ، بھجواتے رہے اور یہاں تک کہ میرا علاج بھی جناب میاں شریف صاحب نے خود کروایا ،
اور اس دن کے بعد سے آج تک مجھے میاں فیملی نہیں بھولتی ، تاہم ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ جب ہم نے نواز شریف کا نام پہلی بار سنا تو وہ کونسلر منتخب ہوا تھا ، پھر اللہ نے عزت دی جناب نواز شریف وزیر خزانہ پنجاب بنے اور پھر وزیر اعلیٰ پنجاب بھی بنے اور اور اسکے بعد اللہ تعالی نے مزید عزت بخشی کہ جناب نواز شریف تیسری دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے ،،
دوستوں شریف فیملی میرے لئے انجانی نہیں ، بہر حال بہت سے دوستوں کو غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ ہم غیر سیاسی ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں ،، صرف اتنا کہ صرف بچے ہی غیر سیاسی ہوتے ہیں لیکن آج کے دور میں تو بچوں کو بھی کھیل سیاست میں خوب دلچسپی ہے۔
یہ بھی یاد ہے کہ جناب میاں نواز شریف سے پہلی ملاقات جب وہ پہلی بار وزیر اعظم بنے تب وہ ہمارے گھر آئے تھے اس وقت ہوئی ، جی ہاں جب ہمارے نانا کا انتقال ہوا تو جناب نواز شریف کو پہلی دفعہ میں نے اپنے گھر دیکھا وہ افسوس کی غرض سے گھر آئے تھے ، پھر اسکے بعد دوسری ملاقات ہمارے گھر ہوئی جب وہ ہماری پیاری وسیم پھوپھو کے انتقال پر افسوس کے لئے آئے اور تیسری ملاقات سی پی این ای کے فنکشن میں ہوئی جہاں جناب وزیر اعظم نے اخباری مالکان کو پانچ کروڑ سے بھی نوازا ،
بہر حال کہنے کا مطلب یہ کہ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا سیاسی ماحول اور اس میں پروان چڑھتے سیاست دان ہی دیکھے ،، تاہم کسی زمانے میں ہم بھی بزم پیغام جماعت اسلامی شعبہء اطفال کے صدر رہے ، کالج لائف میں بھی سٹوڈنٹ یونین میں رہے اور سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے پڑھائی پر توجہ نہ دے پاتے تھے، تاہم سیاست تو ہم نے ساری زندگی کی بھی اور دیکھی بھی لیکن اس قسم کی سیاست کبھی نہیں دیکھی جو موجودہ دور سیاست میں ہے ، بہر حال اب اور کیا کہیں اس بارے کہ ہمارے بہت سے دوست اس بات سے خائف ہیں کہ سیاست میں کیوں قدم رکھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے بے بنیاد پر و پیگنڈا بھی میرے خلاف جاری ہے ، تاہم میں نے تو اپنے پاک پرور دگار پر ہی چھوڑ دیا ہے ، تاہم ارداہ تو ہمارا بھی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا ہے ، لیکن بہت سے دوست ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ ایم پی اے ،ایم این اے کا الیکشن لڑیں یہ آپ کا لیول نہیں ،،
بات تو ٹھیک ہے کہ ہمارا لیول نہیں لیکن گند صاف کر نے کی ابتدا ء اپنے گھر سے ہی ہونی چاہئیے، اس لئے سوچتے ہیں کہ چئیر مین کا الیکشن لڑیں اور اگر کامیاب ہو گئے تو اپنے علاقے سے تو کم از کم گند صاف کر سکیں گے ،بہر حال ارادہ تو پختہ ہے لیکن اب یہ بات بھی آگے وقت ہی بتا سکتا ہے کہ ہم واقعی بلدیاتی انتخابی عمل میں شامل ہوں یا نہیں ، بہر حال الیکشن لڑیں نہ لڑیں رسوائیاں تو حصے میں آہی چکی ہیں اور اسی لئے کئی بار دل میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ لعنت بھیجو سیاست پر اور سکون سے اپنا کاروبا ر کرو لیکن پھر خیال آتا ہے کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے اور ہمیں بھی یقین ہے کہ بہت سے دوست ہم سے بے حد پیار کرتے ہیں اور یقیناًاگر ہم ؛انتخابی عمل میں شامل ہو ں تو ضرور مجھ پر اعتماد کرینگے اور کامیابی سے ہمکنار بھی کروائیں گے بہر حال دوستوں اجازت چاہتے ہیں لیکن اس شعر کے ساتھ
تندئی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے ،،،

یہ بھی پڑھیں  وفاقی وزیر ریلوے کی خدمت میں ۔۔۔!

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker