تازہ ترینکالم

تنقید ہی تنقید

waqar butتنقیدی سلسلے کافی صدیوں سے چلے آ رہے ہیں ۔ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ زیادہ ہی تنقید کی جاتی ہے۔ معتبر سیاستدانوں کی اُن کالم نگاروں ، اینکروں پر تنقید جو سچ کی فتح چاہتے ہیں اور بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ جھوٹ کا قلع قمع کیا جائے اور جو صحافی جھوٹ کو سر بلند کرنا چاہیں۔ وہ ہمارے کچھ نیک نیت سیاستدانوں پر بھی بے جا تنقید کرتے ہیں ۔ اپنے حق کی تکمیل نو کے لئے ہر کسی کا حق ہے کہ وہ دوسروں پر تنقید کرے ۔ مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ دوسروں کی ذاتیات یعنی پرسنل لائف کو بیچ میں لایا جائے ۔یہ اخلاقیات کے بے حد خلاف ہے۔ مخالفت ایک مختلف چیز ٹھہری ۔ مگر تنقید تب کی جانی چاہیے جب آپ حق پر ہوں مگر جناب آج کل تو لوگ تنقید کرتے وقت گالم گلوچ شروع کر دیتے ہیں ۔ جس کی بیشتر مثالیں ٹاک شوز میں نظر آتی ہیں ۔ ہم جیسے لکھنے لکھانے والے تو تنقید کرنے میں اول آتے ہیں ۔ لیکن ہمارے امانت دار سیاستدان بھی کم نہیں وہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں ۔ صحافی اپنے مطلب کے ماتحت ہوتے ہیں۔ کچھ حکمرانوں سے اچھے تعلقات قائم کرتے ہیں جب کہ کچھ کے نہایت خلاف ہو جاتے ہیں ۔ جب کہ پوری قائم متحرک ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس کی پروا کیے بغیر کہ کون کس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ اس بات کا ثبوت11مئی 2013کو دیا۔ جب انہوں نے پسندیدہ قیادت کو منتخب کروایا ۔ پیپلز پارٹی کا تین صوبوں اور وفاق سے خاطر خواہ صفایا ہو گیا اور وہ صرف اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے تک محدود ہو گئے مگر پھر بھی سندھ میں نہ جانے اُن کی کیا دہشت تھی کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیا ب ہوئے ۔ پیپلز پارٹی یہ الزام عائد کرتی ہے کہ الیکشنز میں دھاندلی ہوئی تو اُن کی سندھ میں فتح بھی دھاندلی کا ہی ایک حصہ ہے۔ PTIنے بھی 17سال کی کوششوں کے بعد خیبر پختونخواہ میں حکومت بنا لی اور قومی اسمبلی میں 29سیٹس حاصل کر لی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ گئے ۔موجودہ حکومت نے ڈراؤن حملے رکوانے کیلئے اقوام متحدہ میں سخت الفاظ میں التجاکردی ہے کہ یہ ملک کی خود مختاری اور وقار کے بے حد خلاف ہے۔ خیبر پختونخوان میں PTIکے دو رکن صوبائی اسمبلی متعدد دہشت گرد کاروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں مگر پارٹی کی قیادت کی جانب سے کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا ۔تحریک طالبان پاکستان جن کا کچھ عرصہ یہ کہنا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور ان پر حملہ کرنے بھی سوچ نہیں سکتے ۔ آج نہ جانے کیوں اچانک PTIکے لیڈروں اور کارکنوں پر حملے کر رہے ہیں جبکہ PTIبھی یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ڈراؤن حملے رکوا کر رہیں گے ہمیں پسند ہر وہ شخص جو ملک کو بہتری کی راہ پر گامزن کرے ۔ تنقید صرف اُن افرا د پر ہو گی جو ملکی معیشیت کو تباہی کے دہانے پر لاکرکھڑا کرنا چاہتے ہیں ۔مگر ہمارے کچھ بے ضمیر اینکر اور صحافی جو با آسانی خریدے جا سکتے ہیں۔اُنہیں پیسے کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آتی وہ بغیر کسی مان مرادہ کا احساس کیے اچھے لیڈروں پر بھی پرتکلف انداز میں تنقید کرتے ہیں اور وہ چیز کو اپنا عملی فریضہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر ذلیل وخوار کریں اور تمام بیوورکریٹس کا لیڈران کا احتساب کرنے ڈھونگ تو بار بار رچایا جاتا ہے مگر کبھی اُن بھیڑوں کا کوئی سراغ لگائے گا جو چھپ کر ملک کو تباہ و برباد کر رہے ہیں مگر ہمارے کچھ محترم لیڈر بھی ایسے ہیں جو با فضول اچھے صحافیوں کو دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ تنقید وہ ہے جوپولیٹکل پارٹیز ایک دوسرے پر کرتی ہیں ۔ خیر یہی تو جمہوریت کا حسن ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت جس میں گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کا خزانہ کرپشن اور اپنی عیاشیوں میں اُڑا دیا اور قلیل خزانہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کو دیا۔ جس کو بہت طریقے کے ساتھ تجربہ کار معاشی ماہر و موجودہ وزیر خانہ اسحاق ڈار جو ماضی میں بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں ۔ اُنہوں نے عوام دوست بجٹ دیا جس کو بے ضابطہ تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔ تمام پولیٹکل پارٹیز نے مستر د کیا ۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ جو کہ قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف بھی ہیں ۔ انہوں نے بھی کافی باتیں کہیں کہ اس قسم کا بجٹ پیش کرنا عوام کے ساتھ ایک مذا ق ہے تو وہ بتائیں کہ کیا اُن کی حکومت نے بے پناہ مہنگائی والا بجٹ دے کر عوام کو کس قسم کی سبسڈی دی ۔ جس بجٹ میں صرف امیر لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ ان کا ٹیکس کئی گناہ بڑھا دیا گیا ہے اور اُن لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے جنہوں نے کافی سالوں سے ٹیکس ادا نہیں کیا۔اس پر جب میری ایک ماہرمعیشت سے بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ پاکستان پیپلزپارٹی کے بجٹ سے بہت بہتر ہے رہی GSTکی بات وہ صرف زیادہ تنخواہ لینے پر لاگو ہو گا۔ لوگوں کا کام بھی تنقید کرنا اور لوگوں کو اُن کے مقصد سے گمراہ کرنا ۔ پر مسلم لیگ نواز نے اس دفعہ ملک کو اندھیروں سے نکالنے کی ٹھانی ہے جو وہ کرکے ہی رہیں گے ۔مستی کھیل سیاستدان جو بلا وجہ غیر ضروری تنقید اور مخالفت کرتے ہیں ۔ اُن کی چاہت ہے کہ مسلم لیگ نواز اپنا دور اقتدار پورا نہ کر سکے تاکہ اُنہیں لوٹ مار کرنے کا موقع فراہم ہو۔ مسلم لیگ نواز کو در پیش مشکلات بہت خطرناک ہیں اور یہ سفر کا فی کٹھن ہے۔ جس کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو رات دن محنت کرنا ہوگی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر ملک کو توانائی کے بہران سے نکالنے کی ٹھان لی ہے۔ سب سے پہلے پولیس کلچر ختم کرنا ہو گا۔ کیونکہ جو واقع فیصل آباد میں پیش آیا۔جب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو حلف اٹھائے کو ایک دن ہی ہوا تھا ۔ لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے گھر کا محاصر ہ کر لیا گیا اور اُن کے گھر زبردستی داخل ہو کر اُنہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ اُن کی ماؤں بہنوں کی آبرو کا خیال بھی نہ کیا گیا۔ جس کا وزیر اعلیٰ پنجاب نے فوری نوٹس لیا۔ بظاہر تو ایسے لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا حکم تھا مگر نہیں یہ بربریت بھری پولیس گردی تھی۔ جس نے ماضی میں نہ جانے کتنے لوگوں کے گھر اجاڑے ہیں اس نظام کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر پیشے کے اندر میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں ۔ پولیس گردی کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شاید کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا عوام پر اچھا تاثر پڑے اگر ہمارے حکمران متحد ہو جائیں اور لالچ اُن کو ایک آنکھ نہ بھائے تو کسی کی جرأت نہیں کہ وہ ہمارے ملک عظیم کی تضحیک کر سکے ۔note

یہ بھی پڑھیں  اثاثے کہاں کہاں ہیں، وزیراعظم قوم کو سچ بتائیں: عمران خان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker