تازہ ترینکالم

تیری یاد آگئی تیرے جانے کے بعد

mirza-afzal-baig-advمرحوم مرزا محمد افضل بیگ ایڈووکیٹ

میں مر کے بھی بزم جہا ں میں زندہ ہوں…..       تلا ش کر میری محفل مرا مزار نہ پوچھ

دانشوروں کے بے تاج باد شاہ اور لکھنے والوں کے استاد حضرت واصف علی واصف فرما تے ہیں ہر فرد کے دل میں قوم کی خدمت کا جذبہ ہونا چا ہیے ‘ جذبہ نیت سے ہے ‘ نیت ایک علم ہے ‘ اور علم کے لیے ایک عمل ہے ۔ عمل کے لیے میدان عمل ہے ، اور میدان عمل میں شریک عمل نیک نیت لو گ ہوں تو انجام عمل صیح ہوگا۔ ہم سفر ہم خیال نہ ہوں تو کامیابی نہ ہوگی۔ کسی جگہ سے عدم موجودگی بہت زیادہ دوری اور لا تعلقی کا بھی با عث بن سکتی ہے گذشتہ روز ایک قریبی جاننے والے اور ملک کے مایہ ناز کرکٹر ملک عمران صاحب سے ملا قا ت کا شرف حاصل ہوا تو انہو ں نے سیاسی ، ذاتی اور سماجی باتو ں ہی باتو ں میں ایک انتہائی افسوس ناک اور دل کو لرزہ دینے والی خبر سنائی کے ان کے والد محترم اور بندہ ناچیز کے والد گرامی القدر کے دیرینہ سا تھی تحریک جد و جہد آزادی کے عظیم قائد اور نہا یت ہی عملی و عملی شخصیت مرزا محمد افضل بیگ ایڈووکیٹ دنیا فانی سے اجتنا ب کرچکے ہیں میرے لیے یہ خبر موجودہ حالات کے تناظر میں تو نہیں البتہ ذاتی طو ر پر انوکھی اور نایا ب ضرور تھی کہ
جس روز ہم یہا ں اپنے عظیم قومی شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے دن کی نسبت سے اور برطانوی شہدائ کے دن کی نسبت سے منا رہے تھے تو سرزمین گوجرانوالہ میں وہ چراغ بجھ گیا جس کی روشنی نہ صرف بہت سے غریب گھرانو ں کو بھی منور کررہی تھی بلکہ اس روشنی سے نکلنے والی چمک کئی لٹیروں ، ڈاکوئوں اور راہزنوں کے عیبوں سے بھی پردہ ہٹا نے میں مشغول تھی مرزا محمد افضل بیگ ایڈووکیٹ درحقیقت ایک ہمہ جہد اوصاف کی مالک ، خوبصورت دلنواز ، با اخلا ق اور انسان دوست شخصیت تھے جنہو ں نے ہر جہد میں نمایا ں اور موئثر کردار ادا کر رکھا تھا ایک اچھے استاد کے ساتھ ساتھ ایک اچھے قانون دان کی حیثیت سے بھی وہ عوام الناس میں مقبول تھے ان کی تحریرں ایک لکھا ری اور کالم نگا ر کی حیثیت سے کتاب و قرطا س پر مہکتی اور چمکتی ہو ئی دکھائی دیتی تھیں وہ ایک اچھے مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے محقق اور تاریخ دان بھی تھے ان کی ذات میں سب سے نمایا ں اور افضل خوبی جو انکی تمام تر خو بیو ں پر سبقت لے جاتی تھی وہ تھی انتہائی درجہ کا عشق رسول جو انہیں میلا د کی محافل اور سیرت النبی کانفرنسز میں کھینچ کر لے آتا تھا اور رسول اللہ سے نسبت اور محبت کا ذکر بڑے عجز و انکساری سے کرتے تھے اللہ پاک نے انہیں جن عہدوں سے نوازا تھا ان میں سے بحیثیت استاد وہ کئی اعلیٰ تعلیم یا فتہ لوگو ں اور دانشوروں سے با زی لے گئے تھے موجود ہ وزیر تجا رت اسلامی جمہوریہ پاکستان انجنئیر خرم دستگیرد خان بھی ان کے ادنیٰ شا گردوں میں شامل ہیں اس کے علا وہ نہ جا نے کتنے ہی سینو ں کونور علم سے منور و روشن کرنے کی سعادت حاصل کی تحریک اآزادی کشمیر ہو یا تحریک ختم نبوت ہر نہج میں مرزا صاحب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور گو جرانوالہ شہر میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے اندر ایک ممتاز کشمیری قانون دان کی حیثیت سے اپنا جداگانہ اور الگ مقام بنایا وہ اکیلے ہی اپنی ذات میں ایک انجمن رکھتے تھے ان کی شخصیت لا تعداد افراد کی کمی کو بڑی آسانی سے پورا کردیتی انہو ں نے ہر پلیٹ فارم پر کشمیری ہو نے کی حیثیت سے اپنی قوم اور کمیونٹی کی ترجما نی کی اور مقبوضہ کشمیر میں بھا رتی مظالم اور ظلم و جبر کے واقعات پر ہمیشہ الیکٹرانک اور پر نٹ میڈیا پر اپنا پیغام ضرور شامل کرتے تھے ہر اپنا پرایا ان کو قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا شہریان گوجرانوالہ کے اندر بسنے والے بہت بڑے بڑے نامور لوگو ں کے کالے کرتوتوں کو بے نکا ب کرنے میں انہو ں نے نمایا ں کردار ادا کیا اور بلا خوف و خطر ہمیشہ حق با ت کا ساتھ دیا کیونکہ انہیں امر با لمعروف اور نہی عن المنکر پر پورا پورا یقین تھا ۔ ایک سماجی اور سیاسی اور قانونی شخصیت ہو نے کے نا طے انہو ں نے ہر پلیٹ فا رم پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا آپ جا نے سے پہلے دو تعلیمی اداروں کو مضبوط بنیاد فراہم کر گئے جہا ں ہزاروں کی تعداد میں مستقبل کے معمار اپنی علمی پیاس بجھا نے کے ساتھ ساتھ عمل و کردار کی صفا ئی اور نکھا ر میں مصروف عمل ہیں وہ تنظیم مغلا ں آزادکشمیر کے صدر کی حیثیت سے بھی اپنی برادری میں قدر کی نگا ہ سے دیکھے جا تے تھے کئی سماجی تنظیموں ، اداروں اور این جی اوز کے ساتھ وابستہ تھے ان کی چا ہت تھی کہ جو کوئی بھی اچھا کام شروع کرنا چا ہتا یا اس کی تمنا رکھتا اس کی پو ری پو ری رہنمائی کرتے اور شانہ بشانہ چلنے کی بھی سعی کرتے نہ جا نے مرزا صاحب کی زندگی میں کون سا وہ ادھورا خواب تھا جس کی تکمیل کی خا طر ان کے اندر ایک تجسس اور بیتا بی سی دکھائی دیتی تھی نہ جانے وہ کیا چیز تھی جو انہیں ہر وقت تفکر اور تدبر کی طرف مائل رکھتی تھی نہ جا نے وہ بھی ان لو گو ں میں شامل تھے جو پاکستان کو پھلتا پھولتا اور ترقی یا فتہ دیکھنا چا ہتے تھے ان کی خواہش بھی تھی کے یہا ں پر امن و سکون اور سچائی اور ایما نداری کی فصل پکتی ہوئی دکھائی دے اور ان کے دل میں بھی کشمیر جنت نظیر کی آزادی کی حسرت ان کی تمام تر امیدوں اور خواہشات کے ساتھ ساتھ دفن ہو گئ انہیں اپنو ں سے بھی ہمیشہ گلا سا رہتا تھا جو شاید ان کے دل کے ارمانو ں کے ساتھ ہی خاموش ہو گیا ان کا حسین سفر آج یا دو ں کی صورت اختیا ر کر چکا ہے کا ش جس طرح سے وہ ہر روز اپنے ایک اخبا ری بیا ن کے ساتھ مردہ دلو ں کو جگا نے اور شعور اجاگر کرنے کے لیے دستک دیتے اور تروتازہ رہتے تھے ایسے ہی ان کی یا د کو چند روز تک تو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اندر تر و تا زہ اور قائم و دائم رکھا جا ئے جو ان کے چا ہنے والو ں کو ان کی کمی محسوس نہ کروائے جو انکے اپنو ں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوں کو خشک کرنے میں معاون ثا بت ہو جو ان کی زندگی کی خدما ت کو سراہنے کا موقع میر کرے جو ان کے مشن کو حیا ت جا وداں بخش دے مجھے افسوس ہے اپنے ان نام نہاد زرد صحا فت کے علمبردار پیشہ وروں پر جو محض پیسے اور ڈیمانڈ کے مطابق ہی کسی خبر کو پر موٹ کرتے ہیں اور جن کی نظر میں جذبا ت، احساسات اور خیالا ت کی کوئی قدر و قیمت نہیں جن کی نظر میں مخلص اور اپنے ساتھ محبت و عقیدت اور وابستگی رکھنے والو ں کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے میرے ایک ہم عصر اور دوست جو اٹلی میں غم معاش مٹا نے کی خاطر نشیب و فراز سے نبردآزما ہیں محسن بیگ جن کی مرزا صاحب سے ایک گہری رفاقت ہے کہنے لگے کہ بعض اخبارات میں مرزا فضل بیگ ایڈووکیٹ کی خبر کو توڑ موڑ کر لیڈ اور سپر لیڈ میں تبدیل کردیا جا تا تھا اور ان کی بھیجی ہوئی میڈیا کو خبر سے ایک ایشو مل جاتا تھا جس پر وہ آگے قیمت وصولی کے چکر میں نکل پڑتے تھے کم از کم انکی اس بتا ئی ہوئی چھپی ہو ئی خبر کی قیمت وصول کرنے کے عوض ہی کوئی ان کی یا د میں ایک آدھ صفحہ کالا کر دیں گے محض ایک دن کے لیے تو کوئی بہت بڑا نقصان نہ ہو گا نہ جا نے کتنے ہی صحافتی شعبہ سے منسلک ہما رے اپنے اس دنیا سے کوچ کرچکے ہیں لیکن انہیں اس شعبہ سے بے وفا ئی کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ہے مرزا صاحب کی زندگی میں ہما رے ایک عزیز دوست موصوف چو ہدری کاشف اسماعیل گجر جنہیں بذات خود تو لکھنا پڑھنا کم ہی آتا تھا لیکن گوجرانوالہ کالمسٹ فورم کے سرکردہ احباب کی ملی بھگت سے میرا اور مرزا افضل بیگ کا نام محض سیاسی اختلافات کی بدولت کاٹ دیا لیکن انہیں کیا احساس کے جس کو اللہ پاک نام والا بنا دے تو اس کا دنیا وی طور پر نام کا ٹنے یا ختم کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے جس انسان کی قسمت میں جو کچھ ہوتا ہے اسے مل کر ہی رہتا ہے چا ہے مخالفین لاکھ منفی حربے استعمال کییو ں نہ کرلیں آج مرزا صاحب اپنے ساتھ ہو نے والی نا انصافیو ں اور نظر اندازیوں کو لیکر منوں مٹی تلے سو گئے ہیں خدارا ان کی قلم دوستی اور ہمدردی کے باعث ہی ان کی ذات پر کچھ لکھنے کی سعادت ضرور حاصل کریں اور ان کے لیے دعائے خیر کریں تا کہ کوئی آپ کے جا نے کے بعد بھی آپ کو اچھے الفاظ میں یا د کرنے والا کوئی ایک میسر ہو جا ئے میری با العموم اپنے صحا فی بھا ئیوں اور با الخصوص گو جرا نوالہ کے کالم نگا رو ں سے مودبانہ اپیل ہے ۔

عشق تیری انتہا ‘ عشق میری انتہا !                      …..تو بھی ابھی ناتمام ، میں بھی ابھی ناتمام

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button