تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

ترحدہ کالج بھوت بنگلہ

malik sajid awanاس ملک میں ہمیشہ سے جاگیردارانہ نظام رہاہے ہمیشہ عوام کو ذلیل کیاگیاہے جیسا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ترحدہ کا افتتاح نومبر2007ء میں جناب چوہدری پرویز الہی نے کیا اس وقت چکوال کے ناظم سردار غلام عباس خان اور فرزند تلہ گنگ حافظ عمار یاسر بھی ساتھ تھے یہ کالج جن لوگوں کی زمینوں پر بنایاگیا انہوں نے زمین اس لئے کالج کے لئے وقف کی تاکہ علاقے کی بچیاں جوکہ تعلیم سے بہت دور ہیں علم حاصل کرسکیں لیکن بدقسمتی سے چار سال گزرنے کے باوجود کلاسوں کا اجراء نہ ہوسکا۔عوام پریشان تھی کہ آخر مسئلہ کیاہے پھر ایک بات سامنے آئی کہ خواتین کے لئے بنایاجانے والا کالج چار سال بعد لڑکوں کے لئے مخصوص کردیاگیا ہے ہمارے موجودہ ایم پی اے سے بات کی گئی تو پتہ چلا کہ سی ایم صاحب نے اس کی منظوری دے دی ہے اور پرنسپل ملک روف صاحب ہوں گے کئی بار اخبار میں خبر لگوانے یا موجودہ یا سابقہ لیڈران سے بات کی گئی مگر ان کو اتنا ٹائم نہیں کہ جس عوام کے ووٹوں سے جیت کر وہ آتے ہیں عوام کے مسائل حل کرسکیں 2011ء کے آخر پر ملک رؤف صاحب نے کالج کی دیواروں پر وال چاکنگ کردی کہ میٹرک کے نتیجہ کے بعد داخلہ شروع ہورہاہے اورباقاعدہ چھٹیوں کے بعد کلاسیں شروع ہوجائیں گی حالانکہ یہ کالج خواتین کے لئے بنایاگیاتھا جس کا کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا کیونکہ ہمارے موجودہ MNAاورMPAصاحب یہ نہیں چاہتے کہ علاقے کے لوگوں میں شعور آجائے جس دن ہماری عوام میں شعور آگیا ان کو ایک ووٹ بھی نہیں ملے گا بعد میں کچھ لوگوں کی مداخلت پر کالج میں ٹرکوں کا داخلہ روکنے کیلئے Stayکردیاگیا جس کی بناء پر کالج کی بلڈنگ جن بھوت بنگلہ کا سماں پیش کررہی ہے اور کالج میں چوکیدار کا بھی بندوبست کیاگیا لیکن جس علاقہ (بلوال) کی زمین ہے اور جن لوگوں نے یہ زمین کالج کے لئے مفت دی ہے انکے کسی بھی بیروزگار کو روزگار نہیں دیا گیا تمام کے تمام چوکیدار مالی وغیرہ سفارش پر رکھے گئے ہماری انتظامیہ کی نااہلی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ اس ملک میں ہمیشہ سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج رہاہے حال ہی میں ڈھرنال میں لڑکیوں کے لئے کالج کی منظوری اور گرانٹ بھی دے دی گئی اگر ترحدہ کالج میں خواتین کے آنے جانے میں کوئی مسئلہ تھا تو کیا ڈھرنال میں بھی خواتین کے ارد گرد کے علاقوں سے آناجاناہوگا لیکن بدقسمتی ہماری عوام کی ہے کیونکہ عوام ہمیشہ سوئی رہتی ہے اور عوام کے ساتھ آئے روز زیادتیاں ہوتی رہی ہیں اورہوتی رہیں گی ۔میں شہباز شریف خادم اعلی پنجاب جن کا پڑھا لکھا پنجاب ہے وہ کبھی اپنے لاہور سے باہر آکر یا اپنے چُنے ہوئے لیڈروں کی کارستانی بھی دیکھیں کیونکہ تحصیل تلہ گنگ ہو یا کوئی اور علاقہ ہر آدمی نے تعلیم کے لئے لاہور نہیں جانا ویسے بھی ہمارا علاقہ بہت ہی پیچھے ہے اورہمارے علاقے کے لوگ یا تو فوج میں ہیں یا پھر ملوں میں ملازمت کرتے ہیں اس علاقے کے عوام کا تعلیم بنیادی حق ہے چوربازاری اور رشوت کا بازار اتنا گرم ہے جس کی سزا اس غریب اور سادہ عوام کو مل رہی ہے لہذا ہمارے خادم سے درخواست ہے کہ اس ترحدہ کالج برائے خواتین تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال کی طرف بھی توجہ دیں ۔اور اسکے ساتھ جناب سردار غلام عباس اور فرندندہ تلہ گنگ حافظ عمار یاسر صاحب بھی ذرا اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھیں کہ جو کالج انکے ہاتھوں سے افتتاح کیا گیا آج اسکا کیا حال ہے پھر یہ لوگ ووٹ کے حقدار ہیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button