طارق جاوید علی

حصول معرفت الہی کا اصل راستہ

﴿من تالیف سید محبوب علی شاہ قادری﴾
تعارف مختصر پیر و مرشد سید محبوب علی شاہ قادر ی مد ظلہ العالی
آپ کا نام سیدمحبوب علی شاہ بخاری ہے ا ور آپ کی عرفیت کی نور اللہ شاہ ہے۔پیرومرشد نے آپ کو محبوب الہی کا لقب دیا ہے آپ کے والد گرامی کا نام سید عثمان علی شاہ بخاری ہے آپ سادات بخاری سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ6جون1903کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلم ایف۔اے اور فاضل عربی و فارسی تک حاصل کی۔آپ کو عربی،فارسی،ہندی، گورمکھی، سنسکرت،گجراتی،اردو،اور پنجابی زبانوں پر کامل عبور ہے۔ فن طب میں دہلی کامل الطب والجرات،لاہور سے شمس الاطبائ اور گجرات سے سراج اطبائ کی اسناد حاصل کیں۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں اپنے دور کی سب سے بڑی ڈگری ایم۔بی۔بی۔ایس ہومیو پیتھک کلکتہ سے حاصل کی۔
عملی تربیت کے لیے آپ لقمان الہند حکیم عبدالوہاب انصاری عرف نابینا صاحب دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں آٹھ سال شب و روزحاضر رہ کر فن طب میں کمال حا صل کیا۔
آپ کوعلوم روحانیہ اور علم معرفت کا ذوق وراثت میں ملا اور برس ہا برس آپ نے اپنے مرشد کامل سید محمود علی شاہ عرف قل ہو اللہ شاہ قادری بانوا رحمتہ اللہ علیہ ﴿ المدفون بھڑونچ گجرات بھارت﴾ کی خدمت میں رہ کر اشغال ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔
حضرت پیر و مر شد نے آپ کو یکم محرم الحرم 1350ھ کو بمقام بھڑونچ سلسلہ قادریہ غوثیہ بانوا میں خلافت کبریٰ سے نواز تے ہوئے جملہ سلاسل و اذکارو اشغال کی کامل اجازت عنایت فرمائی۔ آ پ نے فقرا ئ و الیائ کی سنت کے مطابق چہار دنگ عالم میں1939ئ1956 سیروسیاحت بھی فرمائی ہے اور تمام ریاست ہائے برصغیر و ایران و عراق و شام و ترک وفلسطین وغیرہ کی سیرو سیاحت کرتے ہوئے بے شمار افراد کو فیضیاب کیا اور مصر میں تقریبا سات سال قیام کرکے علوم قدیمہ کا خصوصی مطالعہ کیا۔
آپ نے بار ہا سعادت حج حاصل کی اور طویل مدت تک روضئہ رسول ö کے نورانی سائے میں فیضان نبوی ö سے فیضیاب ہوتے رہے۔
قیام پاکستان کے بعد آپ کو آب و دانہ کی کشش1956 ئ میںاس پاک سرزمین پر کھنچ لائی۔ اول آپ نے کراچی میں قیام کیا پھر مریدین کے خصوصی اصرار پر ساہوال میں موضع کوڑے شاہ زیریں میں رہائش پذیر ہو گئے۔ یہاں پر قیام کے دوارن سلسلہ ازواج میں منسلک ہونے کے بعد اللہ تعالی نے آپ کو 1962ئ سید محمد شاہ صائم اور1965 ئ میں سید عابدعلی شاہ موج دریا کی صورت میں دو فرزند دلبند سے نوازا۔
1969ئ میں دریائے راوی میںطغیانی کے باعث آپ ہجرت کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دیپالپور ﴿ضلع اوکاڑہ﴾ میں رہائش پذیر ہوئے۔ اور شب و روز علوم روحانیہ و علم طب و حکمت کے ذریعے فیض رسانی خلق کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔1977ئ اللہ تعالی نے آپ کو ایک اور فرزند سے نوازا جس کا نامسید ابو صالح شاہ چمن رکھا بعد از 1980ئ سید ابو سعید شاہ گلشن کی صورت میں آخری اولا عنایت فرمائی۔ الحمداللہ اب آپ کی عمر مبارک 109سال کے قریب ہے۔
اس طویل عرصہ حیات میں آپ نے بے شمار لوگون کو ظاہری وباطنی برکات سے نوازا اورآپ نے ہمیشہ فن طب ومعرفت کی شمع روشن رکھی ہے۔جو کہ اب ایک آفتاب عالم تاب کی صورت میں ہر سو روشنی کی کرنیں بکھیر رہا ہے۔اس سلسلے میں آپ نے تصنیف وتالیف کے ذریعے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی کتب تالیف فرمائی ہیں اور بہت سے ادراے آپ کی زیر سرپرستی قائم ہیں اور مختلف علوم و فنون کی تعلیم و تربیت میں کوشاں ہیں۔ اللہ تعالی آپ کو عمر خضر عطا فرمائے اور آپ کا فیض تا قیامت جاری رہے۔
یہ دعا ہے میری تو سلامت رہے
دور تجھ سے دکھوں کی قیامت رہے
زیر سرپرستی اداے۔
آستانہ عالیہ محبوبیہ قادریہ غوثیہ بانوا دیپالپور
دواخانہ معدن شفائ سادات دیپالپور
انجمن فیضان غوثیہ﴿رجسٹرڈ﴾ دیپالپور
غوثیہ طبیہ کالج دیپالپور
غوثیہ ہومیو پیتھک میڈیکل کالج دیپالپور
باہو ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کمالیہ
غوثیہ لائ کالج دیپالپور
صائم اکیڈمی پبلک ہائی سکول دیپالپور
ماہنامہ محبوب طب دیپالپور
ماہنامہ صمدانی ڈایئجسٹ دیپالپور
دعوت صمدانی ﴿رجسٹرڈ﴾ پاکستان
معدن شفائ سادات ﴿پرا ئیویٹ﴾ لیمٹیڈد دیپالپور
تالیفات
دعوت حق،وصل حق،ضیائ القلوب،سلوک معرفت،راہ طریقت،فیضان غوثیہ، تلاوت الوجود، آئینہ سرربانی، رسالہ وحدت الوجود۔
وظائف
دعائ سیفی،دعاحزب البحر،دعا رحمانی،درود مستاث،ختم خواجگان،بردہ شریف،زینہ ولایت کبرٰی،تصرقات اسم اعظم، دورد مستغاث شریف،مفتاح الولایت۔
عملیات
معدن شفائ سادات،تجلیات شمع محبوب،دعوت موکلات،تسخیر و حاضری روحانیات وجنات۔جواہر الجفر۔
طب
معدن شفائ سادات،رسالہ ضعف باہ،طبی فارما کوپیا اسلامیہ،طبی صندوقچہ،مطلب غوثیہ طبیہ کالج،خلاصتہ الطب، رسالہ موتیابند۔

حصول معرفت الہی کا اصل راستہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رخ تیرا رہے قبلہ وفا کی جانب
تن پردہ ہے کیوں ذہن رسا کی جانب
بہتر ہے کہ دل کو نہ بہت روگ لگیں
اک دل ہے، لگا اس کو خدا کی جانب
ہر درد کا کیون دل حرا پیمانہ ہو
بیکار ہے جو ہر کسی سے یارانہ ہو
دل سب سے لگانے کا نتیجہ ہے خلل
دل اللہ کو دیگر سب سے بیگانہ ہو
سب سے پہلے اپنے قول و فعل ظاہر میں نبی اکرمö کی متابعت اختیار کرکے ہر وقت با طہارت پاک صاف رہے ۔کھاناپینا مال حرام سے اور ناپاک بے وضو کے ہاتھ سے پکی ہوئی چیز نہ کھائے۔ ہر مشتبہ چیز کا استعمال چھوڑ دے اور جو چیز نفس امارہ کو مرغوب ہے وہ بالکل ترک کردیں کیونکہ نفس ہی عبادت میں خلل ڈالتا ہے عبادت کے مقابلہ میںنفس کو زیر کرنا ضروری ہے
عقل سے کام لو اور نفس کو پال ساف بناتے رہو کیونکہ حواس و خیال دل کیلئے حجاب بنے ہوئے ہیں جب تک دل سے یہ حجاب رفع نہ ہو سلوک معرفت کا راستہ حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ یاد رکھو تصوف صرف خیال کے صحیح کرنے کا نام ہے اپنے خیال کو توحید حالی میں ڈھال دو تاکہ فہم و علم نصیب ہو کر علوم باطنی اور حقائق معرفت تم پر جلوہ گری کریں
دل صاف ہوتو جلوہ گاہ یاد کیوں نہ ہو
آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو
دور کر دل کی کدوت محوہو دیدار کا
آئینہ کو بس صفائی نے دکھایا روئے دوست
اور صحبت بد سے بچتے رہو کیونکہ انسان کا لباس اور سوسائٹی اس کے اخلاق اور چال چلن کا پہلا سرٹیفیکیٹ ہے اور نماز پابندی سے اور وقت پر پڑھا کرے۔ریاضت ذکروفکر اوراسرار تاثیر تجلی روح کی حضوری پر یقین کامل رکھ کر خلوت میں مصرفت الہی کا مراقبہ وحدت الوجود میں کلمہ طیبہ کے حروف کی بجائے معنی کو ملحوظ رکھ کر اناقیت کی نفی کے یعنی فکر کرے کہ میںنہیں ہو فقط اللہ ہی اللہ ہے۔ظاہروباطن سوائے اللہ کے کسی کو نہ دیکھے اور بجائے زبان کے روح کاے خیال میں تصور کرے کہ دل سے آواز اللہ اللہ کی آرہی ہے اور دل میں اللہ اللہ ک رہا ہے۔﴿ جاری ہے﴾

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker