اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

طارق مسعود (مرحوم) کی زبانی تاریخی واقعات

میں21مارچ1938کو جموں شہرمیںپیدا ہوا۔ڈوگرہ حکومت میں بکرمی سال چلتا تھا۔9چیٹھ دو ہزار کچھ تھا،اس کو عیسوی سال میں تبدیل کرنے کا ایک فارمولہ موجود ہے،جب ہم وہاں سے پاکستان گجرات آئے تو وہاں میں سکول داخل ہونے گیا تو یہاں کسی کو بکرمی سال کا پتہ نہیں تھا،ہمارے ایک رشتہ دار نے اس کا حساب لگا کر میری تاریخ پیدائش 21مارچ کر دی جبکہ میرے مطابق یہ تاریخ 22مارچ تھی۔میرے والد ڈاکٹر رحمت اللہ ، جموں و کشمیر کی ڈوگرہ حکومت میںمیڈیکل آفیسر تھے۔جب میں پیدا ہوا تو ان کی جموں میں ہی پوسٹنگ تھی۔میرے ہوش میں جو پوسٹنگ رہی ہیں ان کی اس میں وہ پہلگام رہے،راجوری رہے،کشتواڑ رہے،آخر کار اودھم پور ڈسٹرکٹ میںرہے۔
ڈوگرہ دور میں ٹریولنگ ڈسپنسری ہوتی تھی۔مہاراجہ نے عوام کے لئے یہ اچھی سہولت فراہم کی تھی۔اتنے ڈاکٹر تھے نہیں کہ ہر جگہ ڈاکٹر مہیا ہو سکیں ۔ ٹریولنگ ڈسپنسری کا ایک پورا سیٹ اپ تھا ایک جموں صوبے میں اور ایک کشمیر صوبے میں ۔وہ پہلے اپنا پروگرام دیتے تھے اور پھر اس کے مطابق سفر کرتے ۔تحصیلدار،سرکاری اہلکاران کو ان کے آنے کی پوری معلومات ہوتی تھی کہ ڈاکٹر نے کس سٹیشن میں دس دن رہنا ہے،آگے کس مقام پر پندرہ دن رہنا ہے۔نمبر دار ،چوکیدار کے ذریعے لوگوں کو اطلاع ہوتی تھی کہ وہ کب اور کہاں ڈاکٹر کے پاس جا سکتے ہیں۔یہاں آزاد کشمیر میں ،بھیڑی ،تائو بٹ کی طرح کے دور افتادہ علاقوں میں اب بھی لوگوں کے باقاعدہ علاج کے لئے یہ طریقہ کار رائج ہو سکتا ہے۔اگر باقی جگہوں پر ڈاکٹر ہیں لیکن سپیشلسٹ،لیڈر ڈاکٹرز   مہیا نہیں ہیں،لیڈر ڈاکٹر ،سپیشلسٹ ایسے علاقوں میں دو دو دن کے لئے دورہ کر یں۔علاقے کی خواتین،لوگوں کو ان کے آنے کی اطلاع ہو۔
میرے والد صاحب کی آخری پوسٹنگ اودھم پور ڈسٹرکٹ میں ٹریولنگ ڈسپنسری میں تھی،یہ جون ،جولائی1947کی بات ہے،اس وقت میرے والد کو ہائیر ڈگری،ڈپلومہ ان پبلک ہیلتھ(ڈی پی ایچ) کے لئے حکومت کی طرف سے کلکتہ بھیجا گیا۔اس وقت ہمیں چھٹیاں تھیں ،ہم اس وقت پہلگام میں تھے،ہم پہلگام رہ رہے تھے اور والد صاحب کلکتہ چلے گئے۔ان کا کورس مکمل نہیں ہوا ،کلکتہ میں سب سے پہلے فسادات شروع ہوئے،ہندومسلم فسادات ہوئے، کلکتہ خالی ہو گیا،جو باہر کے افرادکلکتہ تھے ،وہ واپس اپنے علاقوں میں چلے گئے۔والد صاحب واپس آئے تو ان کو پوسٹنگ نہیں ملی۔انہیں کہا گیا کہ جگہ خالی ہونے کی وجہ سے ابھی پوسٹنگ نہیں مل سکتی،تم تین مہینے کے لئے چھٹی لے لو۔والد صاحب نے پہلگام میں ایک جگہ لی اور پھر ہم وہاں رہے۔14اگست1947کو ہم پہلگام میں تھے۔ہم سے مراد میں اور میرا بڑا بھائی پروفیسر خالد محمود( نیشن اخبار کے ایڈیٹر ہیں،مسلم اخبار میں بھی انہوں نے کام کیا ہے)،ہم دونوں وہاں والد صاحب کے ساتھ تھے۔
14اگت1947ء کو ہم نے، اس وقت میری عمر نو،ساڑھے نو سال تھی،میرا بھائی ڈھائی سال مجھ سے بڑا تھا۔ہم نے کپڑا اکٹھا کر کے،کانے وغیرہ لیکر جھنڈے تیار کئے تھے،کہ 14اگست کو پاکستان کا جھنڈا لہرائیں گے،جو ہم نے لہرایا۔پہلگام ٹورسٹ علاقہ تھا،وہاں مستقل رہنے والے دور دور رہتے تھے،پہلگام میں ایک بازار ہی تھا،ہمارا واحد ایک گھر تھا جس گھر پہ پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔شام کر ہم باہر نکلے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ پہلگام کے پوسٹ آفس پہ پاکستان کا جھنڈا لگا ہوا ہے۔ہم بہت حیران ہوئے کہ یہ پوسٹ آفس پہ کیسے لگ گیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ کسی سرکاری اہلکار نے پوسٹ آفس پر پاکستان کے جھنڈا لگانے سے متعلق استفسار کیا تو پوسٹ ماسٹر نے جواب دیا کہ مہاراجہ کشمیر کا حکومت پاکستان اور انڈین حکومت سے جو سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ ہوا ہے،اس میں پوسٹل سروس  کی ذمہ داری پاکستان کی ہے۔پوسٹ ماسٹر نے کہا کہ یہ میں نے نہیں بلکہ یہ فیصلہ اعلی سطح پر ہوا ہے،لہذا یہ ان کی نگرانی میں ہے تو میں نے جھنڈا لگا دیا۔دراصل وہ پوسٹ ماسٹر پاکستانی دماغ کا تھا ،اس نے بہانہ یہ کیا،کشمیری بہانہ بنانے میں بہت زبردست ہے،اس کی دلیل کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کے مطابق یہ پاکستان کی ذمہ داری تھی ۔
اب ہم واپس جموں آتے ہیں۔1947میں، اس وقت کے سینسس(مردم شماری) کے مطابق جموں شہر کی کل آبادی پچاس ہزار کے لگ بھگ تھی،جموں شہر کی اس پچاس ہزار آبادی میں مسلمانوں کی تعدادبیس فیصد سے زیادہ نہیں تھی( یعنی دس ہزار)،اسی فیصد ہندو،سکھ تھے،ارد گرد کو علاقہ ،جسے” ڈگر” کہتے ہیں،تین ڈسٹرکٹ ہندو اکثریت کے تھے،اودھمپور،کٹھوعہ اور جموں۔جموں کے مسلمان بہت سہمے ہوئے تھے،ساتھ ادھر یہ بھی تھا کہ راولپنڈی ،گجرات سے پارٹیشن کے نتیجے کے طور پر بہت سارے ریفیوجی گئے ہوئے تھے،اور ان ریفیوجیز کے ساتھ یہاں بھی تو کوئی نیک سلوک تو نہیں ہوا تھا،چناچہ انہوں نے وہاں جا کر اپنی داستانیں سنا کرجذبات کو مزید ابھارا، صورتحال نہایت کشیدہ تھی۔
ہماری فیملی نے سوچا کہ کیا کرنا ہے،گجرات جانے کافیصلہ ہوا ،گجرات پہلے سے ہمارے کچھ رشتہ دار رہتے تھے۔میرے والد اور والدہ فرسٹ کزن تھے،چچا زاد اور تایا زاد،اور جموں کے ہی رہنے والے تھے۔میرے دادا جموں میں دفن نہیں تھے،وہ پرہیز گار قسم کے آدمی تھے،ان کو مہاراجہ کی حکومت کی کئی چیزیں پسند نہیں تھیں،مثلا وہاں رواج تھا کہ مہاراجہ کی حکومت کا کوئی بندہ مر گیا ہے تو اس کے نزدیکی افراد کے سر کے بال مونڈھ دیئے جاتے تھے۔یہ رواج تھا اس وقت اور مسلمانوں پر بھی لاگو تھا،مسجد کے سامنے ڈھول ،باجے بجانے پر کوئی پابندی نہ تھی،تو ان باتوں سے وہ نالاں تھے،وہ کہتے تھے کہ یہ جگہ رہنے کے قابل نہیں، ان کی بیوی گجرات کی رہنے والی تھی،وہ چالیس سال کی عمر میں گجرات چلے گئے اور وہیں قیام پذیر ہوئے،انہوں نے زیادہ کوئی کام نہیں کیا زیادہ نماز ،مسجد میں وقت مشغول رہے،وہیں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔ان کا چھاٹا بھائی ،میرے نانا جموں میں تھے،میرے دادا کا والد بھی جموں میں تھا۔جب دادا گجرات گئے تو ان کے والد اس وقت زندہ تھے۔
اپنی ذات کے بارے میں سوال پر طارق مسعود نے کہا کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو کوئی کاسٹ نہیں ،یہ فضول بات ہے،لیکن کیونکہ اکثر یہ بات پوچھی جاتی ہے ،میرے نانا کہا کرتے تھے کہ ہم” سندر راجپوت” ہیں،ہیں نہیں ہیں ،میں اس بات کو قطعی کوئی اہمیت نہیں دیتا،اس لئے کیونکہ کاسٹ سسٹم کی اہمیت دیہی علاقوں میں ہے،جہاں پرزمینوں کے معاملات ہوتے ہیںکہ اس گائوں میں اعوان کتنے ہیں،گوجر کتنے ہیں،شہروں میں کوئی نہیں پوچھتا،ہم شہری لوگوں میں اس کی کبھی کوئی اہمیت رہی نہیں۔میرے چچا چودھری فضل الحق کسٹم سروس میں تھے،پولیس،ریوینیو اور کسٹم تینوں اعلی سروسز سمجھی جاتی تھیں،بڑی دبنگ سروسز،وہ ریاست اور پنجاب کے باڈر علاقے کا دورہ کرتے تھے،ایک مرتبہ انہوں نے نارووال ڈسٹرکٹ اور ادھر سے کٹھوعہ ڈسٹرکٹ، انہوں نے بتایا کہ دورے کے موقع پر ایک رات پڑائو تھا،ہم سوئے ہوئے تھے،علاقے کے معززین موجود تھے،حقہ چل رہا تھا،ذاتوں کی بات چھڑ گئی،انہوں نے کہا کہ میری ذات سندر راجپوت ہے،تو وہاں کے مقامی کھڑبینچ جو تھے،انہوں نے کہا کہ ڈپٹی صاحب یہ سندر راجپوت نہیں ہوتے،سندر تو برہمن ہوتے ہیں۔انہوں نے گھر آ کر یہ بات بتائی،میرے تایا ،جو فیملی کے ہیڈ تھے ،نے کہا کہ برہمن وغیرہ کچھ نہیں ،ہمیں اپنے بزرگوں نے یہی بتایا تھا کہ ہم سندر راجپوت ہیں۔
باقی اس کی کبھی ضرور ت نہیں پڑی ،ایک مرتبہ ضرورت پڑی تھی ،جب نوکری میں آئے تو وہاں ایک کالم تھا ،وہ کالم فل کرنا تھا تو لکھ دیا،میرا  نہیں خیال کہ آج کل کوئی کالم ہے یا نہیں ہے،ہے یا نہیں ہے یہ ایک بیوقوفی کی چیز ہے اور ہر ایک کو اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہئے۔جو کشمیری ہیں ان میں کوئی کاسٹ سسٹم نہیں ہے،اس سینس میں نہیں ہے جو یہاں ہے،وہاں اور طرح کا ہے،کشمیر صوبہ جو ہے وہ        society  more elegeterianہے،برابری ہے،چھوٹے بڑے میں برابری ہے،اکٹھے بیٹھتے ہیں ،اکٹھے کھاتے ہیں،ہمارے ہاں میر پور اور بھمبر میں جاٹ اور راجپوت کے درمیان بہت فرق،فاصلہ ہے،راجے جٹوں کو بندہ ہی نہیں سمجھتے تھے،پھر اس طرح ہوا کہ جٹ چلے گئے انگلینڈ،تو بن گئے کروڑ ُپتی،راجوں کے پاس پیسے نہیں تھے ،انہوں نے اپنی زمینیں بیچیں،جاٹوں نے خریدیں ،اپنی کوٹھیاں بنائیں،اس وقت راجوں کو ہوش آئی کہ ہماری زمینیں بھی گئیں اور مکان بھی گئے،آہستہ آہستہ یہ بات ختم ہو رہی ہے۔
جموں میں ہماری فیملی نے جرگہ کیا ،بڑے تایا نے فیصلہ کیا کہ سب گجرات چلو،گجرات میںہمارے دو تائے پہلے سے رہتے تھے،پھر یہ تھا کہ آج رک جائو کل فلاں کا وہ کام ہے،بڑے کنبے نے چلنا ہو تو کوئی نہ کوئی بہانہ ہو جاتا ہے،فلانے کا بچہ ہونے والا ہے ،فلاں کا یہ ہو گیا وغیرہ۔اتنے میں وہاں پرمٹ سسٹم شروع ہو گیا کہ آپ جموں سے سیالکوٹ بغیر پرمٹ کے نہیں جا سکتے تھے،میرے والد پرمٹ بھی لے آئے ،وہ ہمارے پاس اب بھی کہیں پڑا ہوا ہے،چلنے کی تیاری کرنے لگے،سٹی انسپکٹر تھاراجہ صحبت علی،بھمبر راجہ امداد علی،راجہ مقصود جو کمشنر تھے،کے تایا جموں شہر کے پولیس انسپکٹر تھے،انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میں نے سنا ہے کہ آپ صبح جا رہے ہیں،آپ نے صبح نہیں جانا،آّج ایک ٹانگا انہوں نے راستے میں روکا اور سواریوں کو مار دیا،کل میں ایک تفتیش پہ جا رہا ہوں،میں واپس آ جائوں تو میں خود آپ کو چھوڑ کر آئوں گا۔ہم رک گئے۔
یہ یکم یا دو نومبر 1947کی بات ہے،راجہ صحبت علی تفتیش کرنے گئے اور واپس ہی نہیں آئے،وہ جس گائوں میں تفتیش کے لئے گئے وہاں سنگھ پارٹی نے انہیں شہید کر دیا۔ان کے ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں جو انگلیوں سے اتری نہیں تو وہ انگلیاں ہی کاٹ کر ساتھ لے گئے،اسی صورتحال میں ہم نے اپنا مکان چھوڑا،ہمارا مکان جموں میں ہندوئوں کے علاقے میں تھا،اس کے تینوں اطراف ہندو آبادی تھی،چوتھی طرف آخری مکان ہمارا تھا،تین منزلہ مکان تھا،سب کی نظر اس مکان پر تھی،کیونکہ اس گھر میں رہنے والے سب آسودہ حال تھے،سرکاری ملازم تھے،والد میرے ڈاکٹر تھے،چچا کسٹم میں تھے،تیسرے پی ڈبلیو ڈی میں تھے،یہ مکان چھوڑ کر ہم تالاب کٹھیکاں گئے اور وہاں ایک مکان میں رہنے لگے،ابھی ہم وہاں پہ ہی تھے کہ مسلمانوں کی اس آبادی کا گھیرائو کر لیا گیا،تالاب کھٹیکاں میں تقریبا ہزار ،بارہ سو خاندان جمع تھے،ارد گرد ذرا دور ہندو تھے،روز فائرنگ ہوتی تھی روز دو چا ر مسلمان ان کی فائرنگ سے ہلاک ہو جاتے تھے.
میرے والد اور ڈاکٹر کریم ملک ،جو سیالکوٹ میں فوت ہو گئے ہوئے ہیں،ان دونوں نے ایک کیمسٹ کی دکان کا تالہ توڑا اور وہاں سے دوائیاں وغیرہ نکال کر بیمار افراد اور زخمی ہونے والوں کی دیکھ بھال شروع کی۔جلد ہی طبی سہولیات کا سامان ختم ہو گیا۔میرے والد سینئر ڈاکٹر تھے،اس وقت تک علاقے میں خاکروب آتے جاتے تھے،انہوں نے ایک خاکروب کے ذیعے  مین ہسپتال کے میڈیکل سپریٹینڈنٹ کو سلام بھیجا ،خاکروپ کو کہا کہ انہیں کہنا کہ رحمت اللہ نے سلام بھیجا ہے،وہ سکھ تھا ،ڈاکٹر پرتاپ سنگھ کھوسلہ، سفید داڑھی،سفید کھدر کی پگڑی،سفید کھدر کی قمیض، کھدر کا پاجامہ،اگلے دن اس کے ساتھ تین افراد ہمارے پاس ٹوکرے، اٹھائے ہوئے آئے،جس میں مرہم پٹی کا سامان،جتنی چیزیں ہو سکتی تھیں،وہ سکھ ہمیں کبھی بھولے گا نہیں،اس زمانے میں اپنی جان پر کھیل کر کسی کی امداد کرنا، ہم ہمیشہ اس کی مثال دیتے ہیں،ساری دنیا ہی خراب نہیں ہوتی،دس میں سے نو افراد خراب ہوتے ہیں تو ایک بہت اعلی ہوتا ہے۔
محاصرے میں پھنسے مسلمانوں کے پاس اپنے دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا،ہاکی سٹک،چاقو،ان سب میں سے ایک کے پاس ریوالر تھا،بزرگوںنے نوجوانوں سے کہا کہ دیوار میںسوراخ کر کے ایڈ جونٹ جنرل سمندر خان،ایئر مارشل اصغر خان کے تایا ،کے گھر جائو،ایئر مارشل اصغر خان کے والد کا نام تھا برگیڈیئر رحمت اللہ خان، ان کا بڑا بھائی تھا  میجر جنرل سمندر خان ( ڈوگرہ مہارجہ کی فوج میں)۔بزرگوں نے کہا کہ شاید کوئی اسلحہ وہاں سے مل جائے،۔نوجوان کسی طریقے سے وہاں پہنچے،ان گھر مقفل تھے،انہوں نے تالے توڑے ،جنرل سمندر خان، بزرگوں کی بات درست ثابت ہوئی،جنرل سمندر خان کے گھر سے  دو رائفلیں جدید قسم کی اور بہت سا ایمونیشن ملا،  رات کو انہوں نے آ کر بتایا تو سب بہت خوش ہوئے،یہ رائفلیں استعمال ہوئیں تو جن لوگوں نے ہمیں گھیرائو میں لیا ہوا تھا،وہ تھوڑے سے ڈر گئے کہ ان کے پاس تو خاصہ اسلحہ معلوم ہوتا ہے۔
ایک کیپٹن نصیر الدین تھے،1947-48میں آزاد کشمیر حکومت کے شروع میں وہ حکومت میں بھی رہے ہیں،وہ برٹش آرمی کے کپتان تھے،انہوں نے ہمارے نوجوانوں کو سکھایا کہ جس وقت کچھ نہیں ہوتا ،اس وقت بھی آدمی لڑ سکتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو سکھایا کہ کس طرح پہرہ دینا ہے،باقیوں کو کس طرح اطلاع دینی ہے۔محاصرے میں موجود سب لوگ صبح قرآن شریف پڑھتے،بچے قرآن شریف یاد کرتے،تیسواں سپارہ سب بچوںنے یاد کر لیا۔اسی دوران ایک دن فائرنگ رک گئی۔یہ دو یا تین نومبر 1947کی بات ہے،ڈوگرہ حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو پاکستان جانے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا،جو لوگ پاکستان جانا چاہتے ہیں وہ ایک بستر اور ایک صندوق لیکر پانچ نومبر کی صبح ،بد ھ کا دن،پولیس لائین میں پہنچ جائیں۔سب اپنا سامان اٹھائے پولیس لائین کی طرف چل پڑے۔فالتو سامان راستے میں مہاراجہ اور پٹیالہ کی فوج نے چھین لیا،پولیس لائین میں بے شمار لوگ تھے،گاڑیاں بھی موجود تھیں،ہر کسی کی کوشش تھی کہ وہ گاڑی پہ سوار ہو جائے،وہاں سفارش بھی چل رہی تھی،ہم اس میں کسی حد تک کامیاب رہے اور ہمیں گاڑیوں میں جگہ مل گئی،پینتالیس،پچاس لاریاں تھیں،اس لاری میں سترہ سیٹیں ہوتی تھیں،ہمارے لوگ تقریبا پندرہ سو،دو ہزار تھے،لاریوں میں لوگ ٹھونسے گئے ،جتنے لاریوں میں آئے،باقی وہیں بیٹھے رہے ۔
آگے چل کر لاریوں کا قافلہ بجائے سیالکوٹ جانے کے پکی سڑک چھوڑ کر کٹھوعہ کی طرف موڑا تولوگوں کو سمجھ آ گئی کہ ان کی نیت ہمیں مارنے کی ہے،عورتیں اونچی آواز میں رونے لگیں۔پاکستان کے باڈر سے تین چار میل کے فاصلے پہ ایک جگہ ‘ ماوا’ کے مقام پر انہوں نے لاریاں کھڑی کر دیں،مسافروں کوباہر نکالا اور انتظار کرنے لگے۔ہم وہاں شام کو پانچ ،ساڑھے پانچ بجے پہنچے تھے،وہ وہاں سنگ پارٹی کا انتظار
کر رہے تھے ، وہ نہ پہنچے تو انہوں نے تقریبا ساتھ بجے کے قریبسامان چھیننا   اور عورتیں کو ایک طرف ہٹانا شروع کر دیا،جب یہ شروع ہوا تو ہڑ بڑ مچ گئی اور لوگ اٹھ کر بھاگنا شروع ہو گئے،انہوں نے فارئرنگ شروع کرنے سے پہلے دوسرے ہتھیاروں سے لوگوں کو مارنا شروع کر دیا،لوگوں کو معلوم تھا کہ مغرب کی سمت پاکستان ہے،وہ اس طرف بھاگنے لگے،وہاں اینٹوں کے بھٹے تھے،کچھ اس میں گر گئے،پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔
پانچ نومبر ،بدھ کا دن،ساری رات ہم بھاگتے رہے،میں نو ،ساڑھے نو سال کا تھا،میرا ایک جوتا بھی کہیں رہ گیا تھا،دوسرا جوتا بھی پھینک دیا ،چناچہ میں ننگے پائوں پاکستان پہنچا،بھاگنے والے ہم تقریبا پندرہ سو افراد تھے جو بھاگتے ہوئے دو حصوں میں تقسیم ہوگئے،دو کے چار،چار کے آٹھ حصے ہو گئے،ہم تقریبا ڈیڑھ سو افراد تھے،،کبھی کتوں کی آواز آتی تو ہم چھپنے کی کوشش کرتے،میرا چھوٹا بھائی عارف کمال ایک سال کا تھا،اس کو ایک ملازم نے اٹھایا ہوا تھا،وہ رونے لگتا تو لوگ کہتے کہ اس کا گلا گھونٹو،اس کی وجہ سے ہم پکڑے جائیں گے۔ ساری رات بھاگتے بھاگتے ہم صبح کاذب کے وقت ہم ایک چھوٹی سے ندی کے پاس ایک آدمی دیکھاجس کا لباس تھوڑا سا مختلف تھا،اس کا لباس ڈوگروں کی طرح کا نہیں تھا،وہ پنجابی معلوم ہو رہا تھا،لوگوں نے اسے پکڑ لیا کہ ہم کہاں ہیں؟ تم کون ہو؟اس نے کہا کہ میر انام ملک دین ہے ،تم پاکستان میں ہو،تم دو میل پاکستان کے اندر آ چکے ہو۔یہ سن کر لوگ وہیں سجدے میں گر گئے۔اس نے کہا کہ قریب ہی گائوں ہے وہاں چلو،یہاں وہ حملہ کرتے ہیں۔چھ نومبر کی صبح ہم ” چنگ ” نامی گائوں پہنچے( تین سال پہلے میں بچوں کے ہمراہ سیالکوٹ کے قریب اس گائوں کو دیکھنے گیا تھا)۔
ہم سب بے سرو سامانی کے عالم میں تھے،تقریبا ڈیڑھ سو افراد ایسے تھے جو وہاں رکے نہیں،ان کے ساتھ بچے یا خواتین نہ تھیں،وہ سیالکوٹ،شکر گڑھ کی طرف چل دیئے۔میرے چچا نے کہا کہ مجھے سارے علاقے کا پتہ ہے،ہمارے ساتھ ہماری بڑی تائی اکیلی تھی،ان کو میں ساتھ لے جائوں گا،آپ اپنا ایک ایک بیٹا دیں جنہیں میں اپنے ساتھ لے جائوں گا،تا کہ یہ بچ سکیں۔ابا نے کہا کہ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں، لیکن میری امی نہ مانیں،اور کہا کہ سب اکٹھے جائیں گے،چناچہ پھر ہم اکٹھے ہی گئے۔میرے چچا اجازت لے کر  میری تائی ،چودھری خدا بخش ،ڈسٹرکٹ انسپکٹر سکولز تھے ،کے ساتھ چلے گئے۔
ایک پیپل کے درخت کے نیچے ہم سب بیٹھے ہوئے تھے جہاں پتھروں کا چبوترہ بنا ہوا تھا،عورتوں کو انہوں نے اندر جگہ دے دی،مرد اور بچے درخت کے نیچے بیٹھ گئے،وہاں کچھ بھی کھانے کو نہ تھا،تاہم کچھ باسی روٹیاں مل گئیں جنہیںپانی میں بھگو بھگو کر کھائیں،ان کے پاس بھی کچھ نہ تھا،دراصل وہ لوگ بھی مہاجر تھے،کچھ عرصہ پہلے جموں و کشمیر سے ہی گئے ہوئے تھے۔وہ ہندو گائوں تھے جہاں سے ہندو چلے گئے ہوئے تھے۔صبح پیغام آیا کہ اس گائوں میں گنجائش نہیں ہے،آپ لوگوں نے ساتھ والے گائوں جانا ہے،وہاں جگہ ہے، اس گائوں کا نام تھا” چتر”،ہم سب چلتے ہوئے چتر پہنچ گئے۔چتر میں عورتوں کو جگہ مل گئی۔ہم بھی تقریبا دو دو گھنٹے سوئے۔چتر بڑا گائوں تھا، رات کو انہوں نے ہمارے لئے ضیافت کا انتظام کیا تھا،اسی علاقے میں قومی رضاکاروں کی ایک کمپنی بھی تھی،مہاجر بھائی بھی تھے،وہاں ہم تقریبا پچاس،ساٹھ افراد باقی رہ گئے تھے،باقی آگے کی طر ف چلے گئے تھے۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ ہم دونوں بھائیوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار بیف کھایا،کشمیر کے لوگوں کا بیف کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا،یہ ایک بڑا جرم تھا،گائے ،بیل کو ذبح کرنے،پکانے کی دو یا ایک سال کی بامشقت سزا تھی، میر پور،بھمبر کا باڈر علاقہ ،سدھنوتی کا باڈر علاقہ،وہاں وہ پرواہ نہیں کرتے تھے، باقی کشمیر میں ہر جگہ اس کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا تھا،ہم کئی گھنٹوں کے بھوکے تھے، بڑے گوشت کے ساتھ ہم نے روٹیاں کھائیں۔اتنے میں ایک آدمی آیا جو جموں میں ہمارا پرانا محلے دار تھا،اس کا نام تھا چودھری سلطان،اس کا بارود کا اچھا کاروبار تھا،سب مل کر روئے ،پیٹے کے فلاں کا پتہ نہیں چل رہا ،فلاں کہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ آگے میرا سسرال قریب ہے،ایک رات تو ڈاکٹر صاحب آپ نے وہاں رہنا ہے،دوسری رات ہم اس کے سسرال کے گائوں’ رو پوچک ‘میں رہے،وہاں ہمیں صاف بسترے ملے،نہانے دھونے کوصابن ملا،اچھا پکا ہوا سالن ملا،پھر وہ رو پو چک سے ظفر وال تک ہمارے ساتھ گئے۔ظفر وال قصبے سے گزرتے ہوئے،وہاں کے لوگوں نے پوچھا کہ آپ ڈاکٹر ہیں،آپ یہاں رہ جائیں،ہم نے سارا قصبہ صاف کر دیا ہے،صرف ہندو ڈاکٹر کی دکان اور اس کا گھر ہم نے محفوظ رکھا ہوا ہے،کیونکہ وہاں ہم ہندوئوں کی جگہ مسلمانوں کو آباد کریں گے،ابا جان کا ایک ہی جواب تھا کہ نہیں،ہم گجرات جا رہے ہیں وہاں ہمارے رشتہ دار ہیں۔
ظفر وال سے ہم ٹانگے پر چونڈہ آئے،وہاں سے میرے لئے جوتے خریدے گئے،وہاں سے پنجاب گورنمنٹ کی بسیں چلتی تھیں جو مہاجرین کو بغیر پیسوں کے سیالکوٹ تک لیجاتی تھیں۔ان بسوں پر ہم سیالکوٹ آگئے۔سیالکوٹ میں پوچھ پوچھ کر ہم نے ایک رشتہ دار تلاش کیا اور اس کے پاس وہاں رات گزاری،اور اگلی صبح ہم گجرات کے لئے روانہ ہو گئے،گجرات میں ، میرے تایا ،جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے،جو چار بھائی جموں رہ گئے تھے وہ سب پڑھے لکھے ،سرکاری ملازم تھے،جو دو گجرات تھے وہ کوئی زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے،وہ کاروباری تھے،انہوں نے چھوٹے سے کاروبار سے شروع کیا اور کاروبار میں خوب ترقی کی۔انہوں نے دو منزلہ حویلی بنائی تھی۔تیس پینتیس افراد مہاجر ہو کر ان کے پاس پہنچے۔انہوں نے سب خاندانوں کو الگ الگ کمرے دیئے،صاف بسترے دیئے اور بہت کھلے دل سے خیر مقدم کیا۔ہمارے تعلقات کوئی بہت اچھے نہیں تھے۔تعلقات اس لئے اچھے نہیں تھے کہ جموں والے چار بھائی کٹر مسلم لیگی تھے۔جو دو بھائی گجرات میں تھے،وہ احرار اسلام کے تھے۔میرے ایک تایا کا بیٹاانجمن  احرار اسلام کا سپہ سالار اعظم تھا اور عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کا بہت قریبی آدمی تھا۔انہوں نے اپنے گھر کے اوپر احرار کا سرخ جھنڈا لگایا ہوا تھا۔ہم کہتے تھے کہ یہ کیا اب تو پاکستان بن گیا ہے۔انہوں نے جھنڈا ذرا اندر،نیچے کر لیا تھا۔تعلقات اچھے نہ ہونے کے باوجود انہوںنے ہمیں خوش آمدید کہا۔ہمارے لئے جو ہو سکتا تھا وہ انہوں نے کیا۔مہینہ ،ڈیڑھ مہینہ تو انہوں نے ہمیں رکھا۔
میرے والد لاہور گئے اور اپنے پرانے ساتھیوں سے ملے۔وہ وہاں سے اسسٹنٹ ہیلتھ افسر گجرات کی تقرری کااپائمنٹ لیٹر لے کر آگئے۔ان کو اپنی چوائس کا سٹیشن مل گیا۔انہوں نے چارج لیا،ایک مکان کرائے پہ لیا جہاں ہم منتقل ہو گئے۔دوسرے چچا فضل الحق ،اکیلے تھے، ان کی بیوی سرینگر تھی۔انہوں نے کسٹم میںکام شروع کر دیا اور بعد میں کلکٹر کسٹم ہو گئے۔تیسرا چچا پی ڈبلیو ڈی میں تھا،ابھی حکومت کے پاس فنڈز نہ تھے لہذا ان پی ڈبلیو ڈی کا کوئی کام ہی نہ تھا۔
میں زمیندارہ ہائی سکول گجرات داخل ہوا۔ ہم  نے ایک سال وہاں گزارا۔سال بعد میرے والد آزاد کشمیر میں  ہیلتھ افسر لگ گئے۔ہم راولپنڈی آ کر رہنے لگے اور والد صاحب کی پوسٹنگ پلندری ہو گئی۔میں نے ڈینیز ہائی سکول سے میٹرک کیا اور پھر پانچ سال گورڈن کالج پڑھا۔سردار سکندر حیات بھی میرے کالج فیلو تھے،وہ مجھ سے ایک سال سنیئر تھے۔بہت سے نامور افراد میرے کلاس فیلو رہے۔جسٹس قاضی فرخ ،فرنٹیئر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس،سپریم کورٹ اور پھر چیف الیکشن کمشنر،کئی جرنیل ۔گورڈن کالج اس علاقے کا بہت مشہور کالج تھا۔جنرل عارف بنگش اور دوسرے بہت سے۔ میرے والد بطور ہیلتھ افسر پلندری چلے گئے۔ہم راولپنڈی میں ایک خالہ کے پاس چٹیاں ہٹیاں کے علاقے میں رہے ،انہوں نے ہمیں رہنے کو جگہ دی۔خالہ کو جو گھر ملا تھا اس میں بہت سا سامان بستر وغیرہ پڑے ہوئے تھے۔جو بھی آتا خالہ اسے اس سامان میں سے کچھ نا کچھ دے دیتیں۔خالہ کو لوگوں کو سامان دے کر بہت خوشی اور اطمینان ملتا تھا۔اس گھر سے خالہ کو جو کچھ ملا،انہوں نے وہ لوگوں میں بانٹ دیا۔بعد میں اللہ نے انہیں بہت دیا۔راولپنڈی اورکالج میں بہت اچھا وقت گزرا۔کالج کی غیر نصابی سرگرمیوںمیں بھی حصہ لیتا رہا۔گورڈن کالج کے بعد میں لاء کالج لاہور گیا۔دو سال وہاں پڑھا۔دریں اثناء میرے والد کی پوسٹنگ پلندری  سے مظفر آباداور پھر میر پور ہوگئی۔میں لاء کی ڈگری لے کر آیا اور میر پور میں پریکٹس شروع کی۔جسٹس یوسف صراف اس وقت مشہور وکیل تھے۔ان کے ساتھ میں نے جونیئر کے طور پر کام شروع کیا۔
اسی دوران آزاد کشمیر سول سروس کے امتحان کا اعلان ہو ا تو میں نے امتحان دیا اور اس میں پاس ہو گیا۔پہلے تین افراد میں کامیاب ہو گیا۔یہ1960کی بات ہے ۔یہ پہلا باقاعدہ تحریری امتحان تھا۔ایم زیڈ کیانی چیف ایڈوائیزر تھے،چیف جسٹس تھا جسٹس فیاض حسین شاہ۔چیف سکرٹری اس وقت ایس ایچ قریشی تھے۔اس وقت سفارش کا بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ سفارش بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی” آئوٹ آف دی وے” بات،امتحان آیا ،پرچے دیئے اور رزلٹ آ گیا۔ ہم تین  ،  میں، خلیل قریشی اور حافظ محمد اسلم، حافظ محمد اسلم امرتسر کا مہاجر تھا کشمیری۔ہم تین سلیکٹ ہوئے۔ہمارے بعد جو ہمارے بہت قریب رہ گئے ان میں خالد نظامی تھا، رشید کیانی تھے۔
بہر حال ہم سلیکٹ ہو گئے اور سول سروس اکیڈمی لاہور چلے گئے۔نو مہینے سول سروس اکیڈمی لاہور،پھر نو مہینے ڈسٹرکٹ ٹریننگ۔ ڈسٹرکٹ ٹریننگ کے لئے میں جہلم گیا۔پھر اس کے بعد نو ماہ پریکٹیکل لینڈ سیٹلمنٹ،بندوبست آراضی کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک رہا۔درمیان میں آرمی کے ساتھ اٹیچمنٹ،وہ میں نے دھارووال میں آرمی پلٹن کے ساتھ کی،اور پشاور اکیڈمی۔ ڈھائی سال کی ٹریننگ کے بعد جنوری1964کو میں ایس ڈی ایم کوٹلی لگ گیا۔وہاں جا کر سردار سکندر حیات سے زیادہ دوستی ہوئی۔وہ وکالت کرتے تھے،میں ایس ڈی ایم تھا۔صبح وہ میری عدالت میں پیش ہوتے تھے اور شام کو ہم کلب میں گپ لگاتے تھے،تاش کھیلتے تھے۔میںکوٹلی میں تین سال رہا۔
میں کوٹلی میں تھا کہ جب1965کی جنگ ہوئی۔اور وہ میرے کیرئیر میں ایک بہت بڑا معاملہ تھا۔جنگ سے پہلے سے ہی میں نے آرمی کے ساتھ بہت قریبی طور پر کام کیا۔میرا کام تھا کہ آرمی کی مدد کرنا۔ مشلا آرمی کی خچریںگر گئیں، ان کو بچانا،سڑک بنانی،دسیوں کام تھے جو سول ایڈ منسٹریشن کے بغیر نہیں ہوتے تھے۔ہم نے یہ کام صبح شام مل کر کئے۔ایوب خان کے زمانے میں مجھے اس کاوش پر ایوارڈ بھی دیا گیا۔میں آزاد کشمیر کا پہلا افسر ہوں جسے حکومت پاکستان نے  ایوارڈ دیا گیا۔
میں ایس ڈی ایم کوٹلی کی حیثیت سے لوکل آرمی کے بہت قریب تھا۔یہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ مجھے بھی انہوں نے استعمال کرنا تھا،ایک سٹیج ایسی آنی تھی کہ شاید اندر مقبوضہ کشمیر میں ایک گورنمنٹ قائم ہونی تھی،راجوری میں یا مینڈھر میں،تو اس میں میں بھی حصہ تھا،مجھے شاید راجوری جانا تھا۔وہاں جو مشہور ہوئی وہ ہے ایک جبرالٹر فورس اور ایک نصرت فورس۔ایک تیسری فورس بھی تھی لیکن آپ اسے چھوڑ دیں۔جبرالٹر فورس جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ طارق بن زیاد کشتیاں جلا کر گیا تھا،جبرالٹر فورس میں شامل افراد سیز فائر لائین سے کئی میل اندر چلے گئے تھے،ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا،وہ اپنے خود ذمہ دار تھے۔نصرت فورس باڈر کے قریب تھے اور انہیں امداد بھی مل سکتی تھی۔جبرالٹر فورس کے واقعات آپ کو کئی جگہ کتابوں میں ملیں گے۔میں ایک آدمی کا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں،بریگیڈئر ،اس وقت کیپٹن شیر احمد خان،ڈبل ستارہ جرات۔مجھے بڑا افسوس ہو اکہ اتنے سال بعد اس سے بات کی تو اسے پہچاننے میں بڑی دیر لگی،وہ مجھے پہچانے ہی نہ۔شیر احمد کی راجوری میں ذمہ داری لگی تھی۔راجوری کے قریب اس نے اپنا ہیڈ کواٹر بنایا اور وہاں اس کا نام ہی مشہور ہو گیا کہ’ شیر آیا شیر آیا’۔اس کا بڑا موثر کردار تھا ،اس کے ساتھی آج بھی ہوں گے ،ان میں ایک شاہین تھے۔اس کے نام سے انڈین فوجی اور دوسرے بھی کانپتے تھے۔منشا خان جبرالٹر میں تھے  جو سرینگر چلے گئے تھے،بریگیڈیئر شفیع،اس وقت کیپٹن شفیع گجر ۔چالیس پچاس میل اندر جا کر بیٹھنا اور یہ پتہ بھی نہ ہو کہ پیچھے سے کوئی امداد ملے گی یا نہیں ملے گی،یہ وہ لوگ ہیں جن کے کام بڑے قابل قدر ہیں،میں نے ان میں سے تین چار کے نام لئے ہیں۔ گورنمنٹ آزاد کشمیر کی اس میں کوئی انوالمنٹ نہیں تھی۔
1965کے آپریشن کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس کا سول گورنمنٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔لوگوں کو بغیر کسی واقفیت کے،بغیر کسی اطلاع کے ، ایک دم ان کے سر پہ پہنچ گئے۔یہ شفیع بر گیڈیئر سرینگر چلا گیا،یہ اس بیج میں تھے جو آپریشن میں تھے،وہ گوجر تھے،وہ مولانا مسعودی کے پاس پہنچ گئے،بر گیڈیئر شفیع گوجر لباس میں کمبل اوڑھ کر مولانا مسعودی کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا کہ میں  کیپٹن شفیع ہوں ،پاکستان آرمی کا ہوں،مولانا مسعودی ان کی یہ بات سن کر حیران و پریشان رہ گئے کیونکہ انہیں اس آپریشن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔اس وقت کسی پولیٹکل لیڈر یا گروپ کواس آپریشن کے بارے میں نہیں بتایا گیا،ان کا جو موقف تھاوہ بھی اپنی جگہ درست تھا کہ آپ اس آپریشن میں کس کس کو انوالو کر سکتے ہیں،آپ ایک کو انوالو کریں گے تو ایک سے دس،دس سے سو کو معلوم ہو جاتا اور آپریشن کو  کانفیڈینشل نہیں رکھا جا سکتا تھا۔
میں کوٹلی میں اس معاملے میں بہت کلوز تھا،عبدالعلی مرحوم کا بڑا بھائی جنرل اختر ملک،مشہور جنرل تھے،جو ترکی میں ایکسیڈنٹ میںمر گئے تھے،ٹین ڈیو کے کمانڈر تھے۔1965کا آپریشن جس کی ”سپر ویژن” میں سب ہوا، وہ کوٹلی آئے  ،  برج کھیلنے کے بڑے شوقین تھے،کھیلتے ہوئے رات کے دو ،تین بج گئے اور وہ بدستور برج کھیلنے میں مصروف تھے،  پانچ بجے صبح ہی وہ شیو کرکے،نہا کر ،وردی پہنے تیار تھے،  وہ ہفتے میں ایک دو دفعہ آتے تھے،اعلی افسران کے ساتھ میٹنگز ہوتی تھیں جن میں میں بھی شریک ہوتا تھا،  ان میٹنگز میں میں نے کبھی کوئی سوال نہیں کیا، اتنا تو میں سمجھ گیا تھا کہ کچھ ہو رہاہے،  وہ کوئی بھی بات کہتے تو بھی میں کوئی سوال نہیں کرتا تھا کہ اس معاملے میںکوئی سوال نہیں کرنا چاہئے،  اور نہ ہی انہوں نے ایک خاص حد سے زیادہ مجھے بتایا، ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ طارق مین اور تم تو گھوڑے پہ ہوں گے ناں۔
میں آزاد کشمیر سے نکلنا چاہتا تھا۔امان اللہ خان سیکرٹری تھے،کشمیر امور کے  ،  ان تک بات پہنچائی کہ مجھے یہاں سے نکالیں، انہوں نے میری پوسٹنگ کر دی اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ گلگت  ۔میں خوش تھا بڑا ۔گلگت میں پارٹیاں چل رہی تھیں۔  اسی دوران چیف سیکرٹری گلگت آیا تو بریگیڈ کمانڈر  انہیں  ایک طر ف لے گیا اور انہیں کچھ کہا۔  پتہ چلا کہ میری پوسٹنگ کینسل ہو گئی ہے۔ بریگیڈ کمانڈر نے کہا کہ اس کی پوسٹنگ منسوخ کریں۔  میری پوسٹنگ کینسل ہو گئی۔   یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کانفیڈینشل باتوں کا یہ معیار ہے، جو اس طرح کے آپریشن میں کرنا پڑتا ہے۔
اب میں ایسے افراد کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن کا کوٹلی میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ شام کو بیٹھتے ہیں،شراب پیتے ہیں،جوا کھیلتے ہیں  ،  جب ضرورت پڑی تو وہ ہماری مدد کو آئے۔ ایک جگہ خچریں مر گئیں،  بائو یوسف کالا کو میں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہے ،انہوں نے کہا کہ کچھ وقت دیں   ،  وہ راٹھور ٹرانسپورٹ میں تھا، ڈرائیور ،کنڈیکٹر سب اس کے ساتھ تھے ،  صبح نو بجے اس نے مجھے اٹھا یا کہ باہر آئیں ،  باہر آ کر میں نے دیکھا تو وہاں چالیس گاڑیاں کھڑی تھیں،بندے بھرے ہوئے، اپنی اپنی کھدالیں وغیرہ ساتھ لئے،  سڑک بنانے روانہ ہوئے،  بائو یوسف کالا،  یہ وہ لوگ تھے جوایسے موقعوں  پر کام آئے اور بڑے محبتی۔جب سیالکوٹ پر حملہ ہو گیا، لاہو ر پر حملہ ہو گیا،  مجھے اتنا پتہ ہے کہ  وہاں یونائیٹڈ نیشن کے آبزرور گروپ بھی اسی بریگیڈ میں ہوتا تھا۔   اس منصوبے کے بارے میں  آبزرور گروپ  کی رائے تھی کہ  پلان بھی کمال کا تھا اور اچھے طریقے سے اس عمل کیا گیا۔ہمارے جو لوگ اندر گئے تھے ، ان کے ساتھ جو مقبوضہ کشمیر کے سویلین تھے، ان کے ساتھ انہوں نے(انڈین فوج نے) جو کیا ، ان کی پٹائی کی گئی،ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔اس آپریشن سے پہلے یہ تھا کہ سیز فائر لائین سے باراتیں بھی آ رپار جاتی تھیں،کوئی پابندی ہی نہیں تھی، ایک لحاظ سے۔
انڈیا نے وہاں کے مقامیوں کے ساتھ بہت ظلم کیا،ان کی عورتوں کو بھی مارا۔  تین چار لاکھ ریفیوجی آگئے، اور زیادہ ریفیوجی کوٹلی میں آئے تھے۔ میں ایس ڈی ایم تھا۔  نکیال،کھوئی رٹہ کے راستے مہاجر آ رہے تھے۔  اس حوالے سے حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی ہدایت نہیں تھی کہ ریفیوجی آ رہے ہیں تو ہمیں کیا کرنا ہے؟  کسی سے پوچھیں تو کہتا کہ ” پش دیم بیک  ”  یہ ادھر کیا کر رہے ہیں؟  کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ۔ ہم نے ، کوٹلی کے سرکردہ لوگ  جو وکیل بھی تھے،  منظور  ،  ملک یوسف،  قیوم خلیق ، سردار سکندر حیات  ،  ہم نے کہا کہ یہ معاملہ ہمیں اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گا،ہمیں خود ہی کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔ ہم نے بیٹھ کر بات کی اور اس حوالے سے  ” رولز ” بنائے  ، پیسے کہاں سے آئیں گے، پیسے ہم نے لوگوں سے اکٹھے کئے ،رولز بنائے کہ طریقہ کار کیا ہو گا،  کپڑے ،بستر،  آباد کاری، اس سب بارے  تمام تفصیلات سے متعلق رولز بنائے گئے،  ہم نے کام شروع کر دیا اور رولز کی کاپیاں بھیجیں،حکومت ،چیف سیکرٹری کو   ، کہ آپ نے ہمیں کوئی ہدایات نہیں دیں، ڈیڑھ لاکھ مہاجر یہاں آگیا ہے،ہم ان کو لوگوں کے تعاون سے کھانا وغیرہ مہیا کر رہے ہیں،  ان سے متعلق کرنے کے کاموں کے بارے میں آپ کو یہ رولز بنا کر بھیج رہے ہیں،اگر آپ درست سمجھتے ہیں تو ہمیں” یس ” کریں، کوئی غلطی،اضافہ وغیرہ ہو تو اسے تبدیل،اضافہ کریں، لیکن اس کا کوئی جواب نہ آیا۔اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سنبھالنا مشکل کام تھا،  ہم نے مہاجرین کو اچھے طریقے سے سیٹ کیا،  اس بات پہ مجھے پاکستان حکومت کی طرف سے ایوارڈ ملا،  اس وقت آزاد کشمیر کے صدر  خان عبدالحمید خان   تھے  ،  سویلین میں پہلا بندہ تھا  کرنل رحمت اللہ خان سدھن،میں تھا، لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے حوالے سے  ، جب کوئی نیشنل ایمرجنسی آتی ہے تو چوری،ڈاکے کم ہو جاتے ہیں،  مہاجرین کی دیکھ بھال کے لئے ہماری ٹیم میں بڑے اچھے افسر تھے،کوٹلی میں جو افسر تھے ،مختلف محکموں کے۔
پاکستان کے ذمے جو انٹرنیشنل ذمہ داری ہے،  یو این ریزولیشن کی امپلی ٹیشن ، وہ کیا ہے،  اس بارے پوری تیاری ہونی چاہئے کہ جب اس بارے کسی سے بات کی جائے تو ،  دونوں آپشنز کے علاوہ بھی بات ہونی چاہئے  ،ورنہ اس کا اثر نہیں رہ جاتا،  ان سوالوں کے جواب ہونے چاہئیں،کیا کشمیری کی رائے پاکستان یا بھارت میں محدود ہے؟ وہ اس سے آگے نہیں جا سکتا؟  ورنہ آپ کی بات میں اثر کوئی نہیں رہتا۔ان سوالوں کے جواب ہونے چاہئیں آپ کے پاس۔آپ نے آئین کا حصہ بنا دیا کہ پاکستان کے الحاق پر بات کرنے والا مجرم۔ ایک طرف آپ کے ذمے ہیں کہ یو این کی ریزولیشنز ،عوام کی آزادانہ رائے ہے اور دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ ،،   ان امور پر بیٹھ کر بات ہونی چاہئے کہ ان سوالات کے کیا جواب ہیں۔آج کا نوجواب بہت ہوشیار ہے،وہ دلیل کی بات سنتا ہے،یہ نہیںہے کہ آپ ڈنڈے سے اپنی بات کر یں گے،
مہاجرین کی آباد کاری کا پراسیس شروع ہو گیا،مہاجرین کا گزارہ الائونس شروع ہو گیا،مہاجرین کو کپڑے،بستر بانٹنے کا طریقہ کا ر بن گیا، اس میں فوج نے ہماری بہت امداد کی،ہمارے پاس وسائل اتنے نہیں ہوتے تھے،میں اس بریگیڈ کمانڈر کانام لینا چاہتا ہوں، بریگیڈیئر قاضی عبدالواحد نے کہا کہ تم جو اتنا کام کرتے ہو،رات کو سوتے نہیں،تو اس کی ایپریسیشن بھی لینی چاہئے،سوتے بچے کو پیار کیا تو کس نے دیکھا،  امدادی سامان کے ساتھ تقریب کا نعقاد وغیرہ،یہ سب باتیں ضروری ہیں،  یہ نہ ہو گا تو کوئی تسلیم نہیں کرے گا کہ تم نے یہ سب کام کئے ہیں،  کمبل،رضائیاں، امدادی سامان ترتیب سے رکھا ہوا ہو،چونے کی لائینیں لگی ہوئی ہیں،سٹیج لگا ہے،سٹیج پہ سائیبان نصب ہے،سٹیج پہ مہمان بیٹھے ہیں،مائیکروفون لگا ہوا ہے،سویلین لباس میں دوں گا، فوجی جوان بھی جو چیزوں کو ترتیب سے رکھیں گے،یہ سب باتیں ضروری ہیں،  یہ نہ ہو گا تو کوئی اعتراف نہ کرے گا کہ تم نے کچھ کیا ہے۔اس طرح کی باتیں کسی حد تک ضروری ہوتی ہیں ورنہ کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔
اوپر کی سطح پرفیصلہ ہوا کہ مہاجرین کی مستقل آباد کاری کے لئے ان کے اپنے مکان ہونے چاہئیں،ان کے لئے زمینوں،مکانات کا بندوبست کیا جائے،  دوسرے مرحلے میں مہاجرین کے لئے مکانات کاکام شروع کیا گیا،میں اس وقت پلندری میں تھا، بہت  سے میرے ذمے آئے،کچھ خلیل قریشی صاحب جو کوٹلی میں تھے،ان کے ذمے آئے،  ان کے لئے زمینیں ایکوائر کی گئیں،مشینیں لگا کر زمین تیار کی گئی، مہاجرین کو الاٹمنٹ کی گئیں،  رشتہ دار مہاجرین کو ایک ساتھ آباد کرنے کا خیال رکھا گیا،  پھر مکان بنانے کے لئے پیسے دیئے جانے کا سسٹم،  مکان کی تعمیر کے لئے مرحلہ وار پیسے دیئے جانے کا طریقہ کار شروع کیا گیا۔65ء  ،  71 ء کے مہاجرین کو حکومت پاکستان نے زمینیں دیں،جھنگ میں زمینیں دیں،چھمب میں زمینیں دیں،  چھمب اور جھنگ میں زمینیں ایوارڈ کرنے کے لئے بھی مجھے متعین کیا گیا،پنجاب حکومت سے زمینیںلینی اور مہاجرین کو دینے کا کام کیا ۔ہمارے ریاست کے کئی لوگ جھنگ کی زمینوں پہ رہ رہے ہیں، آزاد کشمیراسمبلی کے ووٹر بھی ہیں۔
کوٹلی کے بعد میں نیپا  کورس پر تین مہینے کے کورس پر کراچی چلا گیا ،ٹریننگ کے لئے۔وہاں سے واپس آیا اور پھر میری پوسٹنگ پلندری ہوئی،آٹھ نو مہینے ایس ڈی ایم کی حیثیت سے پلندری رہا،اس کے بعد پروموٹ ہو کر ڈی سی پونچھ لگ گیا،پہلی بار پونے تین سال ڈی سی پونچھ رہا،پھر وہاں سے کسی اور جگہ گیا،پھر پونچھ میں قحط پڑنے کی وجہ سے مجھے دوبارہ وہاں تعینات کر دیا گیا۔مجھے راولاکوٹ لگایا گیا۔قحط میںہوتا یہ ہے کہ اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ مال پڑا ہوا ہے گھر کے اندراور آج نہیں تو کل مل جائے گاتو تسلی رہتی ہے،اگر آپ کے ذہن میں ہو کہ یہ ملے گا ہی نہیں،مال ہے ہی نہیں،پیچھے سے ہی نہیں آیا،تو نفسا نفسی،مار کٹائی،لاقانونیت شروع ہو جاتی ہے۔مجھ سے پہلے والے ڈی سی نے لوگوں کو خوراک دینے کے لئے کوٹہ مقرر کر دیاتھاکہ دو سیر سے زیادہ نہیں ملے گا،تین سیر سے زیادہ نہیں ملے گا،تو لوگ دو تین سیر لیکر پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ خوراک ہے ہی نہیں،صرف دو تین سیر ہی مل رہا ہے،ختم ہو گیا تو پھر لینے چلے گئے،گورنمنٹ کے پاس دانے ہی نہیں ہیں۔میں نے آنے کے بعد دس پندرہ دن انتظار کرانے کے بعد لوگوں سے کہا کہ جتنا اٹھا سکتے ہو لے جائو۔
سپلائی سائٹ یوں رکھی ہوئی تھی کہ جو ٹرک والے تھے،ان کو پورے پیسے نہیں ملتے تھے،میں نے حکومت سے ایک آرڈر لیا کہ مجھے اختیار دیں کہ میں انہیں چونی فی من دوں گا  اور بل ان کے راولپنڈی نہیں جائیں گے ،بل ان کے ڈی سی آفس جائیں گے۔ خوراک کے ڈائریکٹریٹ میں بل دیتے ان کے ہوش ٹھکانے آ جاتے تھے،ہر کوئی پیسے لیتا تھا۔ سپلائی کے ٹھیکیدار سردار یوسف،خواجہ غنی جو،ہم نے حیثیت والے ٹھیکیدار پکڑے،جو پرانے ٹھیکیدار تھے،وہ پیسے والے ٹھیکیدار تھے۔ہم نے یہ بھی کیا کہ خوراک دائیں بائیں نہ جائے،راستے میںچیک ہوتا تھا۔دنوں میں گودام بھرنے شروع ہو گئے،اور لوگوں سے ہم نے کہا کہ کوئی کوٹہ نہیں،جو جتنا لیجا سکتا ہے وہ لے جائے۔اس وقت سڑکیں نہ تھیں،بوری کندھے پر رکھ کر لیجانی پڑتی تھی،یوں ہر شخص اتنا ہی لیتا تھا جتنا وہ اٹھا سکتا تھا۔اس سے بھوک ختم ہو گئی۔
میں اگست1968میںپونچھ کا ڈی سی لگا،یہ ضلع وہ نہیں تھا جو آج ہیں۔باغ،حویلی،کہوٹہ،پلندری،راولاکوٹ یہ ایک ضلع پونچھ تھا۔کوٹلی ،میر پور،بھمبر ایک ضلع تھا۔اس وقت تین ضلع تھے،پونچھ،مظفر آباد ،میر پور۔1971کے شروع میں،میں وہاں سے ٹرانسفر ہو کرمظفر آباد میں ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ متعین ہوا،جو کہ کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔چھ ہی مہینے گزرے تھے کہ قحط شروع ہو گیا۔سلیم صاحب ڈی سی نے میرے متعلق کہا کہ یہ مجھے چاہئیے،تو مجھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لگا دیا گیا۔میں پونے تین سال پونچھ میں رہا،پھر چھ مہینے مظفر آباد میں لینڈ ریکارڈ،پھر دوبارہ آٹھ نو مہینے قحط کے وقت  پونچھ، پھر وہاں سے ڈی سی مظفر آباد لگا۔1973میں ڈی سی مظفر آباد رہا۔پھر پورا ایک سال ڈی سی میر پور۔پھر میر پور سے میں سیکرٹری ٹو پریذیڈنٹ لگا۔یہ میرا تمام کیرئیر ہے۔ جب میں ڈی سی مظفر آباد تھا،میں جب سروس میں آیا تو خورشید صاحب صدر تھے،لیکن جب میں ٹریننگ لے کر واپس آیا تو وہ جا چکے تھے اور خان عبدالحمید صدر تھے۔ خان عبدالحمید کئی سال صدر رہے۔
اس کے بعد 1970کے الیکشن ہوئے۔اس میں سردار ابرہیم،سردار قیوم، کے ایچ خورشید اور شریف طارق چار امیدوار تھے، اور مجھے ابھی تک یاد ہے کہ سردار قیوم کے ووٹ تقریبا ایک لاکھ تہتر ہزار تھے،خورشید صاحب کے تقریبا ایک لاکھ چھیالیس ہزار تھے،سردار ابراہیم صاحب تیسرے نمبر پر تھے۔ اسی لیکشن کے زمانے میں ایک اہم بات یہ تھی کہ ،  سردار قیوم پر صدر کی حیثیت میں حملے بہت ہوئے،ان پر تین چار حملے ہوئے انہیں حکومت سے نکالنے کے لئے۔ ایک حملہ یہ ہوا کہ ا جلال حسین چیف سیکرٹری تھے،ان کویہاں بھیجا گیا کہ سردار قیوم کو نکالنا ہے،انہوں نے اسمبلی ممبران کو توڑنا تھا،آج کل یہ بات عام ہے،اس زمانے میں یہ بہت مشکل کام تھا۔حاجی عثمان،چودھری شمس دین (مظفر آباد ) گئے،چودھری غلام بنی انکم ٹیکس کلکٹر تھے،چیف سیکرٹری کے ذریعے خوف ،لالچ سے کئی ممبران خرید لئے گئے،منظر مسعود صاحب نے گھر کے بھیدی کے طور پر اس میں اہم کردار ادا کیا جو اس وقت سپیکر تھے،آخر کار انہیں اس میں کامیابی ملی اور سردار قیوم صاحب فارغ ہو گئے۔
جب1974میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی لاہور میں،میں سردار قیوم کی باتیں اس لئے زیادہ کر رہا ہوں کہ تھے ہی سردار قیوم،پھر میں نے بیرسٹر سلطان محمود چودھری کے ساتھ زیادہ وقت لگایا،سردار سکندر حیات خان کے ساتھ بھی رہا۔اسلامی سمٹ میں پالیسی یہ تھی کہ کشمیر کیس کے اس موقع پر جتنا زیادہ اٹھایا جس سکتا ہے،اٹھایا جائے،کسی طرح ان تک بات پہنچ جائے کہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے۔مسئلہ یہ تھا کہ کیسے کیا جائے۔میں ڈی سی میر پور تھا۔سردار قیوم صاحب کا حکم آیا کہ ڈی سی میر پور میرے ساتھ لاہو ر جائے گا۔ لاہور میں نہایت سخت سیکورٹی تھی۔کانفرنس میں مسلم ممالک کے سربراہان شریک تھے جن میں سعودی عرب کے شاہ فیصل،لیبیا کے کرنل قذافی،یاسر عرفات اوردوسری نامور شخصیات بھی شامل تھیں۔اسلامی ملکوں کے سربراہان کی رہائش کے لئے لاہور کے امیر ترین خاندانوں کے گھر حاصل کئے گئے،  ملکہ ترنم نور جہاں،اداکار محمد علی کے گھر خالی کرائے گئے تھے۔اس وقت اسلامی ملکوں کے سربراہان کی رہائش کے لئے خود لوگ اپنے گھر دیتے تھے،انہیںمعلوم تھا کہ یہاں عرب ملکوں کے سربراہان ٹہریں گے تو کچھ نہ کچھ چھوڑ کر ہی جائیں گے،ان کی طرف سے بڑی خواہش ظاہر کی جاتی ،سفارشیں کرائی جاتیں کہ ان کے گھر عرب ملکوں کے سربراہان کو دیئے جائیں۔
ان رہائش گاہوں پر سخت ترین سیکورٹی تھے اور ان کے ساتھ رابطے کے لئے فارن سروس کے افسران تعینات تھے،جو ان رہائش گاہوں کے اندر جا سکتے تھے۔سردار قیوم صاحب لاہور پہنچ گئے لیکن کوئی ہوٹل انہیں ٹہرنے کے لئے جگہ ہی نہیں دے رہا تھا کہ جگہ نہیں ہے۔مشہور رسالے مخزن کے ایڈیٹر ،ایک مسلم لیگی میاں منظر  بشیرنے سردار صاحب سے کہا کہ وہ ان کے کوٹھی میں قیام کریں۔سردار صاحب کی طرف سے ہمیں،منظر بشیر صاحب اور دیگر لوگوں سے کہا گیا کہ مسلم ممالک کے سربراہان سے رابطے کے لئے کوشش کی جائے۔مجھے ایڈوانٹج یہ تھا کہ فارن سروس کے جو لوگ وہاں متعین تھے،ان میں سے چند افسران کے ساتھ میری دوستی تھی،میں ان تک پہنچا اور ان سے کہا کہ دیکھو بات یہ ہے کہ ہم نے الیکشن نہیں لڑنا،یہ کشمیر کاز ہے،یہ میمورنڈم ہے کشمیر کاز کے بارے میںکہ وہاں ظلم ہو رہا ہے،لوگ مر رہے ہیں،یہ کسی طرح اندر قذافی،یاسر عرفات تک پہنچا دو۔ان میں سے کچھ نے مثبت جواب دیا ،کچھ نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ اگر موقع مل گیا تو۔اس موقع پر کشمیر کاز سے متعلق کتابیں،  لٹریچر،پمفلٹ لوگوں میں بھی تقسیم کئے گئے۔
غیر ملکی سربراہان کے ساتھ تین،چار سو فارن پریس کے لوگ آ ئے ہوئے تھے۔سردار قیوم صاحب نے کہا میں ان صحافیوں کو مدعو کرتے ہوئے ان سے بات کروں گا ،انہیں مسئلہ کشمیر کے بارے میں بریف کروں گا۔اس مقصد کے لئے پرل کانٹینٹل ہوٹل میں ریزرویشن کرائی گئی۔لوگوں کے اس کے دعوت نامے جاری کر دیئے گئے۔ شام کو معلوم ہوا کہ ریزر ویشن کینسل کر دی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے کہا کہ ریزر ویشن کینسل کر دی گئی ہے۔مجھے معاملہ دیکھنے کو ہوٹل بھیجا گیا، متعلقہ افراد نے معذرت کی اور کہا کہ پنجاب حکومت ہمارے سر پہ کھڑی ہے،انہوں نے ہی یہ حکم دیا ہے۔اتنے میں   صاحبزادہ روئوف علی جو پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس تھے،وہ ہوٹل میں ہی موجود تھے،میں انہیں جانتا تھا کیونکہ وہ آزاد کشمیر میں بھی انسپکٹر جنرل پولیس متعین رہ چکے تھے اور ان سے میری تھوڑی بہت دوستی بھی تھی۔وہ اونچی آواز میں ہوٹل والوں کو حکم دے رہے تھے کہ بند کریں یہ سب،ورنہ سخت ایکشن لیا جائے گا۔میں نے ان کے پاس جا کر کہا ، صاحبزادہ صاحب، اسلام علیکم،میں آپ کو جانتا ہوں اور آپ مجھے جانتے ہیں،تو یہ کس کو ڈرا رہے ہیں؟ سردار قیوم کو ڈرا رہے ہیں؟  ،  انہوں نے کہا تھا کہ گرفتار کر لیں گے ،  میں نے کہا کہ یہ پہلا اور آخری موقع نہیں ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی نمائندگی کر رہے ہیں،تو یہ کیا ڈرامہ ہے کہ کہتے ہیں کہ سردار قیوم کو جیل میں ڈال دیں گے؟کوئی اور بات کریں،مجھے سردار قیوم صاحب کی طرف سے ہدایت ہے کہ یہ جلسہ ہو گا اور اسی جگہ پہ ہو گا،اگر ہمیں ایسا نہ کرنے دیا گیا تو جلسہ ہوٹل کے ہال کی جگہ ہوٹل کے باہر سبزہ زار کے میدان میں ہو گا۔
اسی دوران دو گھنٹے میںمسلم کانفرنسی کے جیالے،دہلی مسلم ہوٹل والے،کشمیری وہاںمجمع کی شکل میں اکٹھے ہو گئے۔انہوں نے دیکھا کہ یہ تو مسئلہ بن جائے گا،تو انہوں نے دو قدم پیچھے لئے اور کہا کہ جلسہ کر لو۔یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔اس تقریب میں سردار قیوم نے ایک گھنٹہ انگریزی میں کشمیر پر تقریر کی ۔مختلف ملکوں سے آئے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیئے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ سردار صاحب یہاں انگریزی میں کیا گل کھلاتے ہیں  !  لیکن ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ انہوں نے اچھے طریقے سے انگریزی میںتقریر کی اور سوالات کے جواب دیئے۔اس وقت صورتحال یہ تھی کہ سردار قیوم صاحب کو حکومت سے نکالنے کو تیا رتھے، ان کے آنے پہ بھٹو صاحب ناراض تھے، پاکستان میں بھٹو صاحب کی حکومت تھی،وہ کسی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔بھٹو صاحب اپنے بھرپور عروج پہ تھے۔
میری شادی جسٹس یوسف صراف صاحب کی بیٹی سے ہوئی۔یوسف صراف صاحب واحد شخصیت ہیں کہ جو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سیکرٹری جنرل اور سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی آزاد کشمیر بھی رہے۔ جسٹس یوسف صراف صاحب پہ مقدمہ بنا۔ہوا یوں کہ جب پاکستان میں جنرل ضیا ء الحق کا مارشل لاء لگا،ضیاء الحق کی حکومت نے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو اچھی طرح رگڑا۔پاکستان میں رگڑا تو صوبوں میں بھی رگڑا گیا۔آزاد کشمیر میں انہوں نے حیا ت خان کو یہ کہہ کربھیجا گیاکہ انہیں درست کر دو۔انہوں نے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے۔کرنل منشائ، میاں غلام رسول،ممتاز حسین راٹھوراور بہت سے دوسرے افراد کے خلاف مقدمات بنا دیئے گئے۔انہوں نے چھپ چھپا کر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دے دی۔صراف صاحب چیف جسٹس تھے۔انہوں نے ان سب کو،ضمانت پر نہیں،بلکہ ایک ایک روپے کے ذاتی مچلکوں پر پیپلز پارٹی کی ٹاپ لیڈر شپ کو چھوڑ دیا۔اس پر پورے پاکستان میں تھرتھلی مچ گئی۔ایک روپے کے مچلکے پر رہا کرنے کا مطلب تھا کہ حکومت کے منہ پر چانٹا مار دیا گیا ۔ضیاء الحق اس وقت کوئٹہ میں تھا۔وہاں ضیاء الحق سے کہا گیا کہ آپ آزاد کشمیر نہیں دیکھتے جہاںایک روپے کے مچلکے پر پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو رہا کیا گیا ہے۔انہوں نے حیات خان کو بلا کر حکم دیا کہ ” حیات خان ،فکس دیم،فکس دیٹ چیف جسٹس”۔
چودھری رحیم دادصاحب(کوٹلی والے) آزاد کشمیر میں ایک سنیئر جج تھے۔انہیں چیف جسٹس ہائیکورٹ نہیں بنایا گیا تھا اور صراف صاحب چیف جسٹس بن گئے تھے۔یوں انہیں پہلے ہی اس بات کا عناد تھا۔ انہوں نے مختلف پرانے لوگوں کے ساتھ مل کر ریکارڈ چھان مارے، انہیں صراف صاحب کے خلاف کچھ نہیں ملا۔جسٹس صراف صاحب” نیپا” کورس پرگئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کا ٹی اے بل نکالو۔کہا گیا کہ ٹی اے بل  میں اس مد میں زیادہ پیسے لگائے گئے ہیں،ایک دن ایکسٹرا لگ گیا تھا،اسی طرح کی کوئی بات تھی ،بن گیا مقدمہ۔صراف صاحب نے فیصلہ کیا ، اس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے،کہ انہوں نے اب نوکری نہیں کرنی،میں نے ججی نہیں کرنی،اب میں نے سیاست کرنی ہے،تو میں نے اس مقدمے میںقانونی بنیادوں کے بجائے سیاسی طور پر اپنا دفاع کرنا ہے اور ہر قیمت پر ان کی پگڑی اچھالنی ہے۔چناچہ رحیم داد کے سوالوں کے انہوں نے جارحانہ انداز میں جواب دیئے۔رحیم داد کو سوال کرنے ہی نہیں آتے تھے، یہ بہت ‘شارپ”  آدمی تھے۔جسٹس رحیم داد کو اس مقصد کے لئے خصوصی طور پر متعین کیا گیا تھا۔صراف صاحب نے ہر بات پہ اعتراض کیا کہ آپ یہ مقدمہ نہیں سن سکتے،آپ یہ نہیں پوچھ سکتے،آپ کے مفادات وابستہ ہیں۔رحیم داد کو سمجھ نہ آئے کہ کریں کیا۔
انہوں نے مشورہ وغیرہ کرنے کے بعد صراف صاحب کو توہین عدالت میں چھ مہینے کی سزا دے دی۔ اس کی کوئی مثال نہیں تھی کہ توہین عدالت میں کسی حاضر چیف جسٹس کوسزا دی گئی ہو۔انہوں نے ضمانت کی کوئی درخواست نہیں دی۔صراف صاحب کو میر پور جیل لیجایا گیا۔اس پر ” بی بی سی” سے دن میں تین بار نشر ہونا شروع ہو گیاکہ” نام نہاد آزاد کشمیر نے اپنے چیف جسٹس کو توہین عدالت کے الزام میں جیل بھیج دیا  ہے”۔ اس پر تھر تھلی مچ گئی۔اس پر ضیا ء الحق کو مشورہ دیا گیا کہ یہ آپ کہاں پھنس گئے ہیں،اس معاملے سے جان چھڑائیں۔قصہ مختصر کے صراف صاحب چار یا پانچ دن میر پور جیل میں رہے۔دلچسپ بات کہ ضیا اء الحق کا ملٹری سیکرٹری،جو ان کا فیورٹ بھی تھا،صراف صاحب کا رشتہ دار تھا،صراف صاحب کی بیوی کا کزن تھا۔وہ اپنے طور پر کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔لیکن جب ضیاء الحق نے کہا کہ اسے چھوڑ دیا جائے تو صراف صاحب کو چھڑانے کے لئے ملٹری سیکرٹری کو بھیجا گیا۔
صراف صاحب نے اس کے بعد میر پور میں بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔لیکن انہوں نے دیکھا کہ میر پور میں اب پریکٹس نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ حیا ت خان کے خلاف ہیں۔چناچہ انہوں نے میر پور میں اپنا مکان بیچا اور راولپنڈی میںمکان لے لیا۔ مجھے ڈر تھا کہ حیات خان مجھے بہت تنگ کرے گا۔اسی دوران مجھے حکومت پاکستان کے کیبنٹ سیکرٹری کی طرف سے فون آیا کہ ان سے بات کر لیں۔میں راولپنڈی گیا،ان سے بات کی۔وہ ہمارے پرانے چیف سیکرٹری تھے،حسن ظہیر، جن کا شمار سب سے famousچیف سیکرٹری کے طور پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طارق اگر تم خود کو آزاد کشمیر میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہو تومیں تمہیں باہر نکال لیتا ہوں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔ انہیں وہاں بیٹھے احساس ہو گیا کہ صدر نے سزا دی صراف صاحب کو توہین عدالت کی،یہ ان کا داماد ہے،نہ جانے اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
لیکن میں دیانتداری سے کہتا ہوں کہ حیات خان نے اپنے اس دور میںمجھے کوئی تکلیف نہیں دی۔حیات خان ایک آڈنری شخص تھا۔اس کا رتبہ صوبیدار میجر کا تھا۔محنتی تھا،اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتا تھا،کامے ،فل سٹاپ لگاتا تھا،لیکن اس کا ویژن نہیں تھا،جیسا کہ سیاسی لوگوں کا ایک وژن ہوتا ہے کہ اس طرح کر دیا تو اس طرح ہو جائے گا،وہ ان میں نہ تھا۔ایک آدھ موقع پر مجھے یاد ہے کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے میری تعریف بھی کی۔مجھے ایک چیف سیکرٹری ایم ایم کاظم نے بتایا کہ ” میں تمہاری سالانہ رپورٹ لے گیا تھا،اس فارم پہ خانے بنے ہوتے ہیں کہ خراب،اوسط،اچھا،بہت اچھا۔اگر بہت اچھا سے زیادہ excilentمیں شمار کرنا ہو تو اس کے لئے اپنے ہاتھ سے نیا خانہ بنا کر اس میںexcilent لکھنا پڑتا تھا .، کاظم صاحب نے کہا کہ میں تمہاری فائل لے گیا تھا صدر حیات خان کے پاس،تو حیات خان نے کہا کہ وہ (طارق مسعود) very goodسے زیادہ کا مستحق ہے،اس کے لئے excilentکا نیا خانہ بنایا جائے۔مجھے کوئی گلہ نہیں،میرے ساتھ انصاف ہوا ہے۔
میں محکمہ زراعت کا سیکرٹری تھا،میں نے ایک موقع پر صدر حیات خان کو بریفنگ دی،انہوں نے سوال کئے جن کے میں نے جواب دیئے۔اس زمانے میں میرے ساتھیوں میں کوئی اتنے زیادہ قابل نہیں تھے،وہ اس حوالے سے مجھ سے متاثر تھے۔انہوں نے میرے کام کی بھی تعریف کی۔اگر وہ میرے خلاف کچھ کرنا چاہتے کہ اس کے سسر نے حیات خان کے خلاف کیا کیا کہا ہوگا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔میں انہیں اس بات کا کریڈٹ دیتا ہوں۔حالانکہ میرے نزدیک ان کی کوئی عزت نہیں کہ وہ سیاست دان نہیں تھے،وہ صدر کے عہدے کے لئے اہل نہیں تھے،وہ بریگیڈ کے’ ڈی کیو ‘،سٹاف افسرکے لئے فٹ تھے۔
جنرل عبدالرحمان پہلے آیا،ہم دو میں سے ایک نے ڈی سی بننا تھا،کسی نے عبدالرحمان خان کو پہلے ہی میرے خلاف کافی ‘ پوائیزن” کیا ہوا تھا،میرے خلاف تھا یا دوسرے کے حق میں تھا،بہر حال وہ آئے تو انہوں نے مجھے لفٹ نہیں کرائی۔میں مظفر آباد میں گیسٹ ہائوس ان سے ملنے گیا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے۔میں اپنی جگہ حاضر ہو گیا۔اس کے بعد جنرل صاحب دورے پر آئے،ڈی سی صاحب تھے مرزا وزیر حسین۔انہوں نے چار پانچ باتیں پوچھیںجن کا جواب مرزا صاحب نہیں دے سکے۔مرزا صاحب درباری قسم کے آدمی تھے،وہ اور باتیں بڑی ٹھیک ٹھاک لیکن فوجی کے سوالوں کا prescribeجواب نہیں دے سکتے تھے۔اس پر جنرل صاحب نے راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے مجھے بلایا گیا۔ میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایم صاحب آپ میرے ساتھ آ کر بیٹھیں۔
راستے میں وہ سوال کرتے رہے اور میںجواب دیتا گیا۔شام کو انہوں نے درخواستوں کا ایک ڈھیر میرے حوالے کیا کہ آج دن کو یہ درخواستیں آئی ہیں،ا ن کو ذرا پروسیس کرو۔ان سے میرے کوئی پرسنل تعلقات نہیں تھے۔کوئی فالتو بات میں نے ان کے ساتھ نہیں کی ہوئی تھی صرف ان کی باتوں کے جواب دیتا گیا۔ میں درخواستیں لے گیا۔میں ایس ڈی ایم تھا،میری اتنی واقفیت ہوگئی ہوئی تھی کہ میں کہا کرتا تھا کہ میں درخواست سونگھ کر بتا سکتا ہوں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔کیونکہ پونچھ میں چار پانچ مسائل پر ہی درخواستیں آتی تھیں،راشن ڈپو،خالصہ نتوڑ اس طرح کی چار پانچ چیزیں۔رات کو بیٹھ کر میں نے دو گھنٹے میں ایک چارٹ بنایا،ان کی ٹرانسلیشن کر کے صبح ان کو پکڑا دیں۔وہ حیران ہوئے کہ یہ کام کر لیا آپ نے؟ میں نے کہا کہ جی،کہا کہ کب کیا؟میرے متعلق ان کا موڈ ہی بدل گیا اور وہ میری عزت کرنے لگے۔
فائل جس پر ڈسپیوٹ تھا ہمارا، وہ چلتے چلتے پریذیڈنٹ کی ٹیبل پر پڑی رہ گئی،پچھلے چھ ماہ ،سال سے۔جب جانے لگے تو مجھے بلایا اور کہنے لگے ” او  طارقیا  ،  میںہنڑ جا ریا آں،  اے اک فائل پئی اے ،اے میں تیرے سپرد کرنے لگا آں،تو اس تے جو لکھڑاں ایں لکھ کے لے آ ، میں دستخط کر دیاں گا”۔میں اس پر کوئی ایسی چیز نہیں لکھ سکا جو میرٹ کے خلاف ہو۔دوسری بار اس عہدے پر آیا تو وہ مجھے بلا کر فون پر کسی کو کہہ رہے تھے کہ جائنٹ سیکرٹری تو مان رہا ہے لیکن یہ طارق نہیںمان رہا۔رحمان خان بہت اچھا تھا۔
ہم نے کچھ غلطیاں الیکشن میں کی ہوئی تھیں، ایک بڑی  غلطی مجھ سے بھی ہوئی تھی،اور وہ ایسی غلطی تھی کہ جو جان بوجھ کر میں نے نہیں کی ،گورنمنٹ نے کہا کہ یہ بے ایمانی کرنی ہے۔ہم تینوں ڈی سی چیف سیکرٹری کے پاس گئے کہ پریذیڈنٹ خان صاحب کہتے ہیں کہ یہ کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں کر نی۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے اور واپس چلے گئے۔خان صاحب کا ٹیلی فون آیا تو انہیں بتایا کہ چیف سیکرٹری نہیں مانتا،کہنے لگا اچھا۔ دو دن بعد پھر ٹیلی فون آیا۔پھر تینوں ڈی سی چیف سیکرٹری کے پاس پہنچے۔چیف سیکرٹری کہنے لگے کہ مجھے افسوس ہے کہ مجھے  ،  اس وقت منسٹر ایڈ مرل اے آر خان تھا،  کا ٹیلی فون آیا تھا،انہوں نے کہا تھا کہ یہ جو بندے ہیں،  خان صاحب ہمارے سرکاری امیدوار ہیں،ان کو سپورٹ کرنا ہے،ان کو کامیاب کرنا ہے۔اس کے نتیجے میں غازی محمد امین کا قصہ، غازی محمد امین کو پونچھ سے کامیاب کرانا تھا،اس میںمیرا بھی کردار تھا۔
خان عبدالحمید خان سیاسی شخصیت نہیں تھے،وہ جج تھے، موم کی ناک تھی کہ پکڑکر ادھر کر دیا۔خان عبدالحمید خان کو بنانے کی دو وجوہات تھیں۔ایک تو یہ کہ حکومت پاکستان کو” سوٹ ” کرتے تھے کہ ایسا آدمی بیٹھا ہوا ہے جسے جس طرح کہا جائے گا،جائنٹ سیکرٹری جس طرح کہے گا، امان اللہ خان نیازی کی بات ٹال نہیں سکتے تھے وہ۔بجائے اس کے وہاں بیٹھا ہو کے ایچ خورشید یا سردار قیوم یا کوئی۔اس لئے انہی کو بنانا ہے۔دوسرا  اس کام کے ذریعے خان عبدالقیوم کو بھی قابو کرنا تھا،خان عبدالقیوم خان کو قابو کرنے کے لئے اس کے بھائی کو بھی ” اکاموڈیٹ ” کرنا تھا۔اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی تھا کہ ان کا اپنا آدمی ہو۔خان صاحب کے کریکٹر کو سمونا بڑا مشکل ہے۔خان صاحب اللہ توکل، رات کا آٹا ہے دن کا نہیں ہے۔کھانے والے گھر کے دس بندے اپنے ہیں ،بیس بندے مہمان ٹہرے ہوئے ہیں،تیس بندے کھانے کے وقت آ گیا،ان کو بھی کھانا کھلانا ہے ،انکار نہیں ہو سکتا،وہ انکار نہیںکرتے تھے۔فیصلے کرنے کی قوت بہت کمزور تھی۔کوئی انتظامی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔انتظامی فیصلے میں ” نہ ” کرنا ہوتا ہے۔ہر ایک کوکندھے پہ نہیں بٹھایا جاتا۔نہ کرنے والے وہ تھے نہیں۔ان حالات میں ایسے بندے ایک دو نہیں،چار نہیں پندرہ بیس بندے ہیں جو مظفر آباد میں اور دوسری جگہوں پہ،بڑے کاریگر قسم کے بندے،ان کے آگے پیچھے رہتے۔ان میں ایسے بھی تھے جو ان کے گھر کا خرچہ بھی چلاتے تھے۔انہوں نے نہیں کہا کہ گھر کا خرچہ چلائو،لیکن وہ بندے طریقے سے کہ چالیس افراد کھانے والے ہیں،کیسے ہو گا، وہ کہتے جائو فلاں کی دکان کھلوا کر اس سے سامان لے آئو۔چھوٹے افسر بھی جانتے ہیں ،میں کیا ان کا نام لوں ،چند افراد ان پر حاوی تھے۔کوئی پیسے کی وجہ سے کوئی کسی اور وجوہات سے،ان میںجرات بھی تھی۔ میں آپ کو ایک قصہ سنائو،ایک مرتبہ  دن بھٹو صاحب مظفر آباد آ گئے، وہ جمعہ کا دن تھا، پرانے گیسٹ ہائوس میں۔
انہوں نے کہا کہ خان صاحب کو ذرا ٹائیٹ کریں، اتنے میں آذان ہو گئی، خان صاحب اٹھنے لگے، بھٹو نے کہا بیٹھو خان صاحب ورنہ وہ آ رہا ہے،وہ آپ کے خلاف باتیں کرے گا،اب یاد نہیں ممتاز راٹھور تھے یا کوئی اور تھا۔ خان صاحب نے کہا کہ بھٹو صاحب ،اللہ مالک ہے،اس کا اللہ مالک ہوتا ہے ،دنیا کو کوئی انسان ایسا نہیں کر سکتا،میں تو چلا ہوں نماز پڑہنے،باقی اللہ مالک۔یہ ان کی شخصیت کا ایک پہلو ہے۔کوئی بھی انسان سارے کا سارا خراب نہیں ہوتا، سارے کا سارا اچھا نہیں ہوتا، انسان کا کوئی ویک پوائنٹ ہے یا سٹرانگ پوائنٹ ہے ،اس کو دیکھنا چاہئے۔
(  اتنے میںطارق مسعود صاحب کو ٹیلی فون پر خلیل قریشی صاحب کی وفات کی خبر ملی)طارق مسعود صاحب کہنے لگے،  خلیل قریشی میرا بیج میٹ ہے،ہم نے اکٹھے ٹریننگ لی،تقریبا ساٹھ سال سے ہمارا ساتھ ہے۔ان کی کئی جائزکا م تھے لیکن کوئی کرتا ہی نہیں تھا،تو میں ان کے کام کے لئے درخواست لکھ کر دستخط کرا کے،فرحت میر ، اللہ جزا دے اسے،میں فرحت میر سے ہی کہتا ، یا ہمارا ایک اور افسر ہے ڈاکٹر آصف  ،یہ ہمارا کام کرتے ہیں،میں سوچ رہا تھا کہ صبح اسے ہسپتال آئی سی یو میں دیکھنے جائوں گا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کا انتقال ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

Back to top button
error: Content is Protected!!