تازہ ترینرقیہ غزلکالم

ترجیحات تشہیری ۔۔۔وعدے تعمیری

roqiaاس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس معاشرے میں افراد کا استحصال عام ہو اور اُس معاشرے کے افراد اس جبر و استبداد کے سامنے گنگ یا مجبورہوجائیں تو ایسے معاشرے اکثر دو طرح کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں ایک یہ کہ طاقتور طبقہ اس حد تک انھیں اپنا محکوم و غلام بنا لیتا ہے کہ عوام کی عقل و فہم کو مکمل طور پر مجروح کر دیا جاتاہے کہ وہ انکے ظلم و ستم کے عادی ہی نہیں بلکہ اس کو ہی درست قرار دیتے ہیں اور اپنے اسی ظالم آقا کو اپنا محسن ماننے لگتے ہیں یا ایسے معا شرے اپنی روایات ،ثقافت اور مذہبی تعلیمات کا جوہر کھو دینے کے بعداندرونی انتشار اور خانہ جنگی کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور بسا اوقات دشمن ملک ان پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے۔ کئی سالوں سے کچھ ایسی ہی صورتحال سے ہمارا معاشرہ دوچار ہے مگر المیہ دیکھئے اس بگاڑ کا درماں کرنے کا وعدہ کرنے والے ہی اس بگاڑ کی وجہ بن چکے ہیں لبوں پر وعدے ہیں ہاتھوں میں کاسے ہیں اور ترجیحات صریحاً تشہیری ہیں۔۔!
اگر ہم ملکی منظر نامے پر نگاہ دوڑائیں تو گذشتہ کئی سالوں سے ایک ہی مسئلہ زیر بحث ہے کہ ہمارے حکمران کس مینڈیٹ کے تحت اقتدار میںآتے ہیں جبکہ ان کے پاس وعدوں کا ایک زرخیز ذخیرہ اور نعروں کا وظیفہ موجود ہوتا ہے کیونکہ ان کے سامنے سیاسی ،سماجی ،اقتصادی ، داخلی اورخارجی سطح پر بے شمار مسائل موجود ہوتے ہیں عرصۂ حکومت گزر جاتا ہے مگر نہ مینڈیٹ پر کار کردگی سامنے آتی ہے اور نہ ہی جاری مسائل کا کوئی حل نکلتا ہے مقام افسوس ہے کہ ہماری انتخابی سیاست روز اول سے نت نئے دلفریب و پرکشش نعروں کے گرد گھوم رہی ہے بریں وجہ کوئی بھی حکومت انہیں عملی شکل نہیں دے سکی اگر زیادہ کرید کر سوال کیا جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے جب اقتدار سنبھالاتھا اس وقت ملک گوناں گوں مسائل سے دوچار تھا ایسے حالات کو ٹھیک کرنے میں زور اور وقت تو لگتا ہے جبکہ تمام حکمران سارا عرصۂ اقتدار ٹیکسوں کا بوجھ ہمارے ناتواں کندھوں پر ڈالنے اور ڈنگ ٹپا ؤپالیسی اختیار کر کے تشہیری منصوبوں میں عوام کو الجھا کر اپنے اقتدار کو طول دینے میں گزرا دیتے ہیں اسی حکمت عملی کے تحت ٹی وی چینیلز پر حکومتی کاموں کی تشہیر کے اشتہاروں کی بھرمار سے کم ازکم یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا ملک جنت نظیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا میڈیا بہتی گنگا میں ہاتھ رنگتے ہوئے انتخابی معرکہ ہو یا سیاسی ساکھ کا سوال ٹھہرے ایسے ہی جذباتی نعروں سے مزین اشتہارات اور’’ دنگلی ٹاک شوز ‘‘کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرتا نظر آتا ہے اس کا فائدہ سیاسی جماعتوں کو یہ ہوتا ہے کہ سیاسی فریقین کی چپقلش میں سنگین سے سنگین عوامی واقعات و حادثات بھی اپنی وقعت کھو دیتے ہیں اور عوام حق اور باطل میں امتیاز نہیں کر پاتے اورباقی رہ جاتے ہیں پر کشش نعرے ۔۔ جو کہ کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں بر سوں سے عوام ان دھوکے پر مبنی نعروں کی جذباتی قید میں پھنسے ہوئے ہیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ملک میں جب بھی انتخابات ہوئے ان میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں نے جھوٹے منشور کے تحت عوام کو اپنا گرویدہ بناکر ہمیشہ انہی دھوکے پر مبنی جذباتی نعروں کا سہارا لیا اور سیاسی جماعتوں کی نام نہادساکھ اور کارکردگی انہی نعروں کے سحر میں ڈوب گئی مگربیچارے عوام ان کے سرابوں کے اسیر ہوئے اس سے بڑھ کر مقام افسوس کیا ہوگاکہ69 برس بیت گئے مگر ہم آج تک اپنا انفرا سٹرکچر مکمل نہیں کر سکے آج بھی ہمارے ملک کا تین چوتھائی حصہ بنیادی سہولیات زندگی سے محروم ہے اس میں آمدو رفعت کی مشکلات بھی شامل ہیں کیونکہ سڑکوں کا جال بھی ترجیحی بنیادوں پر صرف ایک شہر تک ہی محدود ہے اوراس پر طّرہ یہ کہ بے روزگاری اور بے ہنری بھی بڑھتی جا رہی ہے بے شک موجودہ حالات برسوں سے جوں کے توں چلے آرہے ہیں مگر موجودہ حکومت سے چونکہ سب امیدیں وابسطہ کر چکے تھے اور کچھ وعدے بھی بہت دلفریب تھے اس لیے شکایت بھی زیادہ ہیں مگر۔۔
ترے وعدے پہ جئے تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار۔۔ ہوتا
ایک بڑا المیہ دیکھیں کہ اس ملک کی اشرافیہ نے میٹرو بنائی ،ملیں بنائیں ،کارخانے بنائے اور اب اورنج ٹرین بھی بنا رہے ہیں مگر کبھی عوام کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنے کا بیڑہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی اس مد میں کوئی قابل قدر کام کیا کیونکہ ان کی ترجیحات میں عام آدمی کی مثال تنکوں کے ڈھیر سے زیادہ نہیں ہے اور اکثر لیڈران لب خاموش سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے‘‘اور اس پر طرہ یہ کہ اپنی اس سوچ پر پشیمان بھی نہیں ہوتے بلکہ حکومت کے وزیروں ،مشیروں حتی کہ ترجمانوں تک کے بیانات میں وہ نخوت ،تکبراور جبر دیکھا گیا ہے کہ پچھلے زمانوں کے خدا فراموش بھی دھنگ رہ جائیں ۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو پنجاب میں قتل و غارت ،بد امنی ،بے انصافی اور لاقانونیت اپنے عروج پر تھی دانشوران چیختے رہے قلم کار لکھتے رہے کہ ان پر قابو پانے کے لیے تعلیم ،روزگار ،معاشی انصاف اور بنیادی ضروریات کو مہیا کرنا بہت ضروری ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے ان مسائل کے خاتمے کے لیے کوئی قابل قدر کام نہیں کئے جس کی وجہ سے ان مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنا تو دور کی بات ہے ہمیں جو میسر تھا وہ بھی ہم سے چھینا جا رہا ہے جیسے بجلی اورگیس جبکہ پانی (جو کہ فضلے دار اور گٹروں سے ہو کر ہم تک پہنچ رہا ہے )اس کے علاوہ نوکری کو بھی میرٹ کا نام دیکرحیلے بہانوں سے اہل کو نا اہل قرار دیکراپنے منظور نظر کو نوکریوں اور دیگر عہدوں پر مسلسل بھرتی کیا جا رہا ہے اوریہاں تک کہ تمام سرکاری عہدوں سمیت پرائیویٹ اداروں کے عہدے بھی ایسی ہی بندر بانٹ میں تقسیم ہو رہے ہیں جبکہ مذحکہ خیزی کا عالم یہ ہے کہ محترمہ ماروی میمن ایک ٹاک شو میں فرما رہی تھیں چونکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اس لئے ہر کام میرٹ پر ہوگا ۔۔ایسے میں دل ناداں چیخ کر بولا کہ آپ کی ذاتی موجودگی بھی ایک کھلا ثبوت ہے یہ تو کھلا سچ ہے کہ اس نام نہاد جمہوریت میں صرف ایک خاص طبقہ خوش ہے جسے مراعات حاصل ہیں کیونکہ وہ موجودہ حکمرانوں کا ہم خیال ہے اور ان کی ہر برائی کو بھی اچھائی بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ جیسے اس ملک کو ایسے ہی ترقیاتی تشہیری منصوبوں کی ضرورت تھی جس سے ہم نے اقوام عالم کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا تھا۔۔ کیا جن ملکوں میں عوامی فلاحی منصوبے بنے ہیں وہاں لوگ بھوک سے خود کشیاں کر رہے ہیں ؟ کیا ان کے سکولوں میں مویشی بندھے ہوئے ہیں ؟ کیا وہاں فضلہ ملا پانی پینے کو ملتا ہے ؟َکیا وہاں تاریکی کا راج رہتا ہے ؟ کیا وہاں لوگ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد بھی نوکری کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں اور ان کے پیارے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال کی سیڑھیوں پر دم توڑ دیتے ہیں ؟ کیا وہاں قانون بکتا ہے ؟ کیا وہاں سرعام عزتیں لوٹی جاتی ہیں ؟ کیا وہاں لوگ کوڑے کے ڈھیر سے روٹی اٹھا کر کھاتے ہیں ؟کیا وہاں زچہ و بچہ ہسپتالوں میں ایک ہی بستر پر تین تین خواتین کو پھینک دیا جاتا ہے ؟ یقناً نہیں کیونکہ ان کی ترجیحات میں لوگوں کی فلاح و بہبود سب سے اہم ہے اوروہ عوام کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت کو پا گئے ہیں کہ وہی ملک کامیاب ہے جس کے عوام ہر طرح سے خوشحال ہیں کیونکہ اگر عوام پرسکون ہونگے تو ملکی ترقی کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ پاکستان خود کفیل ہے مگر انہی ممالک کا دست نگرصاف نظر آرہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مانگ تانگ کر گزارہ کر رہا ہے جبکہ مانگے ہوئے پیسے کا اگر حساب لگایا جائے تو چوتھا حصہ بھی بنیادی ضروریات زندگی پر خرچ نہیں کیا جاتااور یہ کس قدر قابل فکر اور قابل افسوس بات ہے کہ ہم چار ارب روپے یوتھ فیسٹیول اور دوسرے ثقافتی میلوں میں لگا سکتے ہیں مگر چار کروڑ بھی توتعلیم یا صحت پر خرچ نہیں کر تے یہی وجہ ہے ملک انتشار و بے یقینی کا شکار ہو کر خانہ جنگی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے سب کچھ بکھر رہا ہے سنگین نفسا نفسی کا عالم ہے مگر وعدوں کی پٹاری ہے کہ خالی ہونے کا نام نہیں لیتی ۔
لکھا ریوں نے لکھ لکھ کر صفحے کالے کر دئیے مگر ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔۔حکمران کیوں نہیں سمجھنا چاہتے کہ ملک عوام سے بنتے ہیں اور عوام کی خوشحالی اس ملک کی اچھی شہرت کا باعث ہوتی ہے آپ خوشحالی کی نمائش تو کر سکتے ہیں لیکن حقیقی خوشحالی لوگوں کو صحت ، تعلیم ، انصاف اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات مہیا کر کے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے کیونکہ یہ نوشتہ دیوار ہے کہ ملکوں کی ترقی عوام کی خوشحالی میں پنہا ں ہے !خدارا ہمیں دلفریب نعروں اور جھوٹے وعدوں میں مت الجھائیے اپنی ترجیحات بدلئے اور ہٹ دھرمی چھوڑ کرمنصفانہ انتظامات اور اقدامات سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیجئے اور کچھ ایسا کر جائیے کہ جو روز محشر آپ کی نجات کا سبب بنے !

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں اضافہ سے پنجاب حکومت کی گڈ گورنس کا پول کھل گیا . حضرت مولانا سید انور شاہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker