تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

’’توانائی کے مسئلے کا ایک حل‘‘

کسی کام اورمنصوبے کی کامیابی کے لیے جن پہلوئوں پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان میں ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ متعلقہ منصوبہ شروع کرنے سے پہلے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ منصوبہ قابل عمل ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میںمان ہائیم میں یورپی اقتصادی تحقیق کے ادارے کے ماہر توانائی اولف ہومیئرکا کہنا ہے کہ کسی منصوبے کے قابل عمل ہونے کے بارے میں درست جواب معلوم کرنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ جائزہ لینے والے افراد مسئلے کا کس بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں اور کس پہلو کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔مثلاً بجلی کے شعبے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ روایتی بجلی گھروں کے قیام کے اخراجات ،ہوا کی طاقت یا سورج کی حرارت سے بجلی تیار کرنے کے منصوبے لگانے کے مقابلے میں کم ہیں لیکن اگر دور اندیشی سے کام لیا جائے تو توانائی کے قابل تجدید یا بار بار استعمال کے قابل ذرائع کا استعمال فائدہ مند ہے حتیٰ کہ موجودہ ناموافق حالات میں بھی توانائی کے قابل تجدید ذرائع اپنی لاگت کے مقابلے میں زیادہ فوائد پہنچاتے ہیں ۔یہ نتیجہ میونخ کے ورکس ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ ایک جائزہ رپورٹ سے اخز کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مصنف ماہر طبعیات اوٹا ایڈلر کا کہنا ہے کہ ہوا کی طاقت اور توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے کے لیے جنریٹر فی الوقت زیادہ قابل عمل اور موزوں نہیں لگتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں پون چکی یا روٹر کے نظام کو بہتر بنا کر ان کی بجلی تیار کرنے کی گنجائش دگنی کی جا چکی ہے ۔اب مارکیٹ میں ایسے جنریٹر دستیاب ہیں جو چند ماہ میں اتنی بجلی فراہم کر دیتے ہیں جتنی ان کی تیاری میں خرچ ہوتی ہے۔یہ جنریٹر اپنی لاگت کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زائد بجلی مہیا کرتے ہیں ۔
اس حقیقت کے پیش نظر کہ ہوا کی طاقت یا پون چکیوں پر مبنی بجلی گھر آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔جرمنی میں بجلی کی تیاری میں پون چکیوں کا حصہ بڑھ چکا ہے اور 1991ئ سے اب تک پون چکیوں میں تیار ہونے والی بجلی کی مقدار بڑھ کر تین گنا ہو چکی ہے ۔ہومیئر کا کہنا ہے کہ جب سے بجلی کمپنیوں کا قانوناً پابند کیا گیا ہے،بحیرہ شمالی کے ساحلی علاقے میں بجلی کی تیاری کے لیے پون چکیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے ۔جن علاقوں میں زیادہ ہوائیں نہیں چلتیں وہاں جنریٹر امدادی قیمتوں پر مہیا کیے جاتے ہیں اور اپنی پیداواری گنجائش کے اعتبار سے وہ اقتصادی لحاظ سے قابل عمل ہیں بشرطیکہ ان کی تنصیب کے لیے موزوں جگہ منتخب کی جائے ۔اگر250کلو واٹ گنجائش کے جنریٹر میونخ کے شمال میں ٹیلے پر نصب کیے جائیں تو وہ چار ماہ میں اپنی قیمت پوری کر سکتے ہیں ۔
جائزہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر شمسی توانائی سے بجلی تیار کرنے کے یونٹ لگائے جائیں تو ان سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت سے چھ ماہ سے لیکر دو سال کے عرصے میں لاگت پوری کی جاسکتی ہے۔خاص طور سے ایسے بڑے یونٹ زیادہ بہتر اور موثر ثابت ہوتے ہیں جو رہائشی عمارتوں کے بلاکوں اور بستیوں کی ضرورت کے مطابق گرم پانی مہیا کر سکتے ہیں اگرچہ اس مقصد کے لیے پمپ اور پائپوں کی تنصیب پر کافی رقم خرچ ہوتی ہے۔مگر یہ خرچ بار بار نہیں بلکہ صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے۔علاوہ ازیں گرم پانی سے حاصل ہونے والی حرارت کو چھوٹے یونٹوں کی بہ نسبت بڑے یونٹوں میں زیادہ موثر طور پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے وفاقی پارلیمنٹ نے زمین کے قدرتی ماحول کے تحفظ کے بارے میں تحقیقات کے لیے جو کمیشن قائم کیا تھا اس نے اپنی قطعی رپورٹ میں کہا ہے کہ عمارتوں کو گرم رکھنے کے سلسلے میں توانائی کے قابل تجدید ذریعوں میں شمسی توانائی کا نظام سب سے زیادہ موثر اور مستقبل میں اس کی مقبولیت کے بہت امکانات ہیں ۔
اشٹٹگارٹ یونیورسٹی کے ایرش ہان ایسے یونٹوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔فریڈرخ شافن میں قائم کیے جانے والے نظام سے 300سے زائد گھرانوں کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی حتیٰ کہ دھوپ نہ نکلنے کی صورت میں پانی کے زیر زمین ذخائر سے دو ہفتے تک گرم پانی مہیا کیا جا سکتا ہے۔۔ایرش ہان کو امید ہے کہ تقریباً پانچ سال کی مدت میں اس شعبے میں اتنی پیش رفت ہو جائے گی کہ اس قسم کے نظام سے حرارت کی فی گھنٹہ لاگت تقریباً 10فینی ہو گی گیس سے اتنی حرارت حاصل کرنے پر بھی تقریباً اتنی ہی لاگت آتی ہے اگر شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب کے اخراجات کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جائے کہ یہ نظام کتنی مدت کام دیتا ہے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس نظام کے مقابلے میں قدرتی گیس کے ذریعے پانی گرم کرنے کے اخراجات چار گنا زیادہ ہوتے ہیں ۔
شمسی توانائی کے نظام میں اگر سولر سیل استعمال کیے جائیں تو صورتحال بدل جاتی ہے کیونکہ سولر سیل سورج کی شعاعوں سے حاصل ہونے والی حرارت کو براہ راست برقی رو میں تبدیل کر دیتے ہیں
ہمارے ہاں ادارہ برائے متبادل توانائی قائم تو ہو چکا ہے لیکن اس کی کارکردگی شاید اس لیے تسلی بخش نہیں کہ وہ بھی دیگر اداروں کی طرح مالیاتی مسائل کا شکار ہے ۔جب تک ملک سے کرپشن و بد عنوانی کو دیس نکالا نہیں دیا جاتا قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی انصاف ملے گا اور نہ ہی امن و سلامتی کا دور دورہ ہو گا۔جب امن نہیں ہو گا تو ملک میں خوشحالی اور ترقی کے دروازے بھی وا نہیں ہو سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button