تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا کے علاقہ کرموال میں معمر شخص کی پراسرار ہلاکت کا معمہ نیا رخ اختیار کر گیا

ٹیکسلا( نامہ نگار)ٹیکسلا کے علاقہ کرموال میں معمر شخص کی پر اسرار ہلاکت کا معمہ نیا رخ اختیار کر گیا، محمد صدر جلا نہیں بلکہ اسے بے دردی سے ہلاک کر کے جرم چھپانے کے لئے نعش کو جلا دیا گیا، میڈیکل رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کی ملی بھگت بھی عیاں ہوگئی ، پولیس نے مقتول کے بھائی سے سادہ کاغذ پر دستخط کروا کر اسے اتفاقیہ حادثہ قرار دینے کے لئے کاروائی مکمل کر رکھی تھی، متاثرہ خاندان کے افراد نے دادرسی کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، ٹیکسلا عدالت میں مقدمہ کے اندراج کے لئے 22-A کی رٹ دائر کردی گئی،پولیس بااثر افراد کے ساتھ ساز باز کر کے الٹا ہمیں دھمکا رہی ہے ،مقتول صفدر ولد کالا خان کو کلہاڑیوں کے وار کر کے بے دردی سے قتل کیا گیا بعد ازاں جرم اور شہادت چھپانے کے لئے جھگی کو آگ لگا کر نعش کو جلا دیا گیا،ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، لواحقین کی میڈیا کے توسط سے اعلیٰ حکام سے دردمندانہ اپیل،تفصیلات کے مطابق متقول کے سگے بھائی اختر ، بھتیجی،مسماۃ دلشاد بیگم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دو فروری 2015 کو میرے بھائی صفدر ولد کالا خان کو خورشید عرف شاہد ولد ریاض مقتول کی بھتیجی دلشاد بیگم کے گھر سے اپنے ہمراہ جھگی میں لے گیا،جب رات بھر صفدر واپس نہ آیا تو تشویش لاحق ہوگئی ،صبح جب ہم لوگ جھگی کی طرف گئے تو جھگی جلی ہوئی تھی جبکہ اندر صفدر کی جلی نعش پڑی ہوئی تھی،لواحقین کا کہنا تھا کہ پولیس نے بااثر افراد سے ساز باز کیا اور متقول کے بھائی اختر سے سادہ کاغذ پر دستخط کروا کر اسے اتفاقیہ حادثہ قرار دیا جبکہ پوسٹمارٹم رپورٹ منظر عام پر آنے سے حقائق سے پردہ اٹھا جس میں جلانے سے قبل کلہاڑیوں کے وار سے اسے ہلاک کیا گیا،خورشید عرف شاہد،نصرت ولد محبوب،محمد شاہد ولد محمد ایوب،اور دلدار عرف دارا ولد ریاض ساکنان کرموال نے صفدر کو باہم صلاح مشورہ پہلے کلہاڑی کے وار کر کے اسے قتل کیا اور جرم چھپانے کے لئے جھگی کو آگ لگا دی ، جس سے صفدر جھلس کر مر گیا،انکا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر عمران عباس جو آجکل تھانہ صدر واہ کینٹ کا ایس ایچ او ہے نے ملی بھگت کر کے کیس کو دبانے کی بھرپور کوشش کی اور ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہے،مجرمامہ غفلت پر سب انسپکٹر عمران عباس کے خلاف بھی سخت محکمانہ کاروائی کی جائے جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنا اور چند ٹکوں کی خاطر با اثر ملزمان کے ساتھ مل گیا،ادہر پولیس کی جانب سے عدم کاروائی پر متاثرہ افراد کی جانب سے ٹیکسلا کی عدالت میں مقدمہ کے اندراج کے لئے بائیس اے کی درخواست دائر کردی گئی ہے،دلشاد بیگم کا کہنا تھا کہ ملزمان نے پولیس کے سامنے اپنا اعتراف جرم قبول بھی کرلیا تھا تاہم پولیس نے ان افراد کو بھاری رشوت کے عوض مکمل شیلٹر فراہم کیا،جس میں سب انسپکٹر عمران عباس کا کردار انتہائی گھناونا رہا ، مذکورہ تفتیشی افسر نے ہر طریقے سے کیس کا رخ موڑنے کی بھرپور کوشش کی ،اپنی کاروائی مکمل کرنے کے لئے سادہ کاغذ پر مقتول کے بھائی اختر سے دستخط بھی کروالئے ، لواحقین نے پولیس کے اعلیٰ افسران، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، چیف جسٹس آف پاکستان سے داد رسی کی اپیل کی ہے،

یہ بھی پڑھیں  کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں 5افراد قتل، 4زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker