تازہ ترینعلاقائی

مخالفین غلام سرور خان کی مقبولیت سے خائف ہیں، مسلم لیگ(ن) کو پہلے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا

ٹیکسلا( ڈاکٹر سید صابر علی / نامہ نگار )مخالفین غلام سرور خان کی مقبولیت سے خائف ہیں،مسلم لیگ(ن) کو پہلے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ،سازشی عناصر اب بھی بری طرح ناکام ہونگے ،میدان میں ہارنے والے چور راستے اختیار کر رہے ہیں، الیکشن ٹریبونل ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے واضع فیصلوں کے بعد ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) نے اوچھی حرکت کی جسکی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں،غلام سرور خان حلقہ کے عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں ،ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف تحصیل ٹیکسلا کے راہنماؤں سابق ناظم سید چن شاہ کاظمی، ملک محمد پرویز، ملک ایاز محمود،حاجی خیراللہ خان،شیخ ضیاء الدین، سردار زبیر خان،حاجی زاہد رفیق، حاجی ریاض حسین اعوان،سابق کونسلران ملک ربنواز،سید مہتاب حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ،انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے ہمیشہ انتقامی سیاست کو فروغ دیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کوانتخابات2013کی ہار برداشت نہیں ہو رہی اور پنجاب حکومت کئی سالوں سے غلام سرور خان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ،کبھی عدالتوں میں جاتے ہیں تو کبھی اینٹی کرپشن کو استعمال کرتے ہیں جب تمام سازشیں ناکام ہو گئیں تو بہاولپور یونیورسٹی کو استعمال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ ایک سال تک غلام سرور خان کی قومی اسمبلی کی رکنیت غیر قانونی طور پر معطل رکھی گئی پاکستان کے آئین کا مذاق اڑایا گیا، عدالتوں کی توہین کی گئی مگر مسلم لیگ(ن) کی ایک ہی ضد ہے کہ کسی نہ کسی طرح غلام سرور خان کو سیاست سے آؤٹ کیا جائے مگر یہ انکی خام خیالی ہے ہے،جس طرح پہلے کی جانے والی سازشوں میں مسلم لیگ(ن) بری طرح ناکام ہوئی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس مرتبہ بھی سازشی عناصر ناکام ہونگے،غلام سرور خان حلقہ کے عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں ہم غیر قانونی ہتھکنڈوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ جو کہ توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے اور پنجاب حکومت کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے ان کے اس غیر قانونی فعل کی بھی پر زور مذمت کرتے ہیں ،انتقامی سیاست کو فروغ دینے والوں کو عوام نے پہلے2013میں مسترد کیا پھر کینٹ بورڈ کے انتخابات میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ،بلدیاتی انتخابات میں بھی وہ عوام کے ہاتھوں رسوا ہونگے

یہ بھی پڑھیں  خاندان کی بقا کے لیے مہم !

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker